Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / عصمت ریزی واقعات کی مذمت انسانیت کی بنیاد پر کی جائے

عصمت ریزی واقعات کی مذمت انسانیت کی بنیاد پر کی جائے

حیدرآباد ۔ 20 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کیا آنسوؤں کا کوئی مذہب ہوتا ہے ؟ کیا درد و الم کی کوئی ذات پات ہوتی ہے ؟ کیا انسانیت کی کوئی سرحد ہوتی ہے ۔ کیا جذبات و احساسات کی کوئی حد ہوتی ہے ؟ کیا اخلاق و کردار کا کوئی رنگ ہوتا ہے ؟ کیا بھوک و تڑپ کسی ایک مذہب کی نمائندگی کرتے ہیں ؟ کیا بیماریوں کا کوئی عقیدہ ہوتا ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ’ نا ‘ میں ہوں گے ۔ اس کے برخلاف اگر کوئی مصیبت و آلائم ، درد و الم ، بھوک و تڑپ اور غربت و افلاس اور جرائم کو کسی مذہب سے جوڑتا ہے تو شائد وہ انسان نہیں بلکہ انسانیت کے نام پر ایک بد نما داغ ہے ۔ انسانی شکل میں وحشی و موذی درندہ ہے ۔ لیکن افسوس کے آج ہمارے ملک میں انسانوں کی شکل میں ایسے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں ۔ یہ ایسے درندے ہیں جو انسانیت کے بھیس میں نمودار ہو کر مذہب کے نام پر عوام کا بآسانی استحصال کرتے ہیں ۔ جموں کے کٹھوعہ میں 8 سالہ معصوم خانہ بدوش لڑکی آصفہ کے ساتھ جس قسم کی وحشیانہ حرکت کی گئی ۔ آج نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کا ہر ذی حس انسان اُس پر آنسو بہا رہا ہے ۔ اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہا ہے ۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو درندوں کی حمایت میں احتجاجی مارچ کا اہتمام کررہے ہیں ۔ جموں میں بی جے پی کے دو ریاستی وزراء نے تو ’ ہندوستان کی ننھی پری ‘ کے اغواء اجتماعی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل کے ملزمین کے حق میں نکالی گئی ریالی میں شرکت کرتے ہوئے اپنے انسان ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کردئیے ۔ ان بی جے پی وزراء کو بعد میں اپنی اس ذلیل حرکت پر کابینہ سے مستعفی ہونا پڑا ۔ آج بھی کٹھوعہ عصمت ریزی کیس کو مذہبی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن قابل مبارکباد ہیں وہ ہندوستانی جنہوں نے ایک معصوم بچی کے ساتھ ہوئی اسرائیلیت ( ناقابل یقین جرم ) کی مذمت کی اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی نااہلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔ ابتداء میں بی جے پی رہنماؤں بشمول وزیراعظم نریندر مودی نے بھی شائد یہ سوچ کر اپنا منہ بند رکھا کہ آصفہ تو مسلمان ہے ۔ لیکن بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل اور علاقہ عوام جب سڑکوں پر آگئے ۔ مرکز کی مودی اور محبوبہ مفتی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تب مودی جی سے لے کر بی جے پی کے مرد و خاتون رہنماوں کو بادل نخواستہ اپنے منہ کھولنے پڑے ۔ کٹھوعہ کے واقعہ نے جہاں ساری انسانیت کو رونے پر مجبور کردیا وہیں اناو میں ایک بی جے پی رکن اسمبلی اس کے دو بھائیوں اور حامیوں کے ہاتھوں اجتماعی عصمت ریزی کی شکار لڑکی اور اس کے خاندان کی حالت زار نے آنسو بہانے پر مجبور کردیا ۔ عوام اس قدر برہم ہوئے کہ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم رکھنے والے بوکھلا گئے ۔ چار برسوں سے یہاں جو کچھ بھی حیوانیت و درندگی کا مظاہرہ ہورہا ہے اب ایسا لگتا ہے کہ اس کے خاتمہ کے دن قریب آرہے ہیں ۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں یا پھر نفاذ قانون کی ایجنسیاں سب کو یہ جان لینا چاہئے کہ ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی اور بہو کی عصمتوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ اگر درندے ان کی عصمتیں تار تار کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ملک کے اخلاقی اقدار بھی تارتار ہوجاتے ہیں ۔ حکمرانوں پر سے عوام کا اعتماد بھی اسی طرح ختم ہوجاتا ہے ۔ جس طرح ایک دیانتدار اور رحمدل مالک کا اپنے چور چوکیدار پر سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے ۔ قارئین 2012 میں دہلی میں فزیوتھراپی کی ایک 23 سالہ طالبہ نربھئے کی اجتماعی عصمت ریزی کے بعد انتہائی بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا تھا اس واقعہ پر ہندو مسلمان سکھ عیسائی ، ہر کوئی سڑکوں پر نکل آئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نربھئے نے اپنی درد ناک موت کے ذریعہ سارے ہندوستان کو متحد کردیا ۔ آج معصوم آصفہ نے بھی اپنی عصمت و زندگی کھو کر سارے ہندوستان کو متحد کردیا ہے ۔ آصفہ کے اس کارنامہ سے مذہب کے نام پر عوام کا استحصال کرنے والوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے وہ عصمت ریزی کے واقعات کو بھی مذہب کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں شہید آصفہ کے والدین کی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آصفہ کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ ہندو اور مسلمان کیا ہوتے ہیں ۔ کاش یہ بات فرقہ پرست درندے سمجھ پاتے ایسے میں عصمت ریزی کے واقعات کی مذمت انسانیت کی بنیاد پر کی جانی چاہئے ۔

متاثرہ ، متاثرہ ہوتی ہیں ، ہندو یا مسلمان نہیں
عصمت ریزی کے واقعات کو مذہبی رنگ دینے والے انسان نہیں حیوان

TOPPOPULARRECENT