Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے افراد خاندان پر حملہ

عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے افراد خاندان پر حملہ

مقدمہ سے دستبرداری کیلئے ہراساں کرنے کی شکایت

مقدمہ سے دستبرداری کیلئے ہراساں کرنے کی شکایت
حیدرآباد۔2مارچ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ کنچن باغ میں عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے افراد خاندان پر حملہ کا سنگین واقعہ پیش آیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ستمبر 2014ء میںایک 13سالہ کمسن کی عصمت ریزی کے خلاف شکایت اور پولیس کی کارروائی سے غنڈہ عناصر پریشان ہیں اور اب اس لڑکی کے افراد خاندان کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ کل رات دیر گئے حافظ بابا نگر علاقہ میں فرزانہ بیگم کے مکان پر حملہ کیا گیا جہاں وہ گذشتہ چار سال سے کرایہپر ہیں۔ فرزانہ بیگم نے بتایا کہ وہ رات تین بجے پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوئی ‘ اس خاتون نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے مکان پر ان لوگوں نے حملہ کیا جو اس کی کمسن لڑکی کی عصمت ریزی میں ملوث تھے ۔ فرزانہ بیگم کا کہنا ہے کہ حملہ پولیس کی چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ہوا ۔ اس خاتون کے مطابق کیس سے دستبرداری اور معاملہ فہمی کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ خاتون اور اس کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جارہی ہے اور کل رات اس طرح کا حملہ کیا گیا ۔ اس خاتون نے غنڈہ عناصر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسے پولیس اسٹیشن سے رجوع ہونے بھی روکا گیا اور پولیس پر بھی خاتون نے تساہلی اور لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب وہ پولیس اسٹیشن پہنچی تو پولیس ملازم سورہے تھے اور چیخ و پکار پر بھی توجہ نہیں دی گئی ‘ تاہم تھوڑی دیر بعد جب اس خاتون نے ڈائیل 100پر شکایت کرنے کیلئے فون طلب کیا تو پولیس حرکت میں آتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کرلیا ۔ اس سلسلہ میں انسپکٹر کنچن باغ مسٹر منوج کمار سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فرزانہ بیگم کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا ہے اور خاطیوں کی تلاش جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خاتون نے حملہ آوروں کی جو شناخت کی ہے ان میں وہ افراد ملوث ہیں یا نہیں جو عصمت ریزی میں ملوث تھے ‘ اس بات کی تحقیقات کرنا باقی ہے ۔ انہوں نے پولیس کی لاپرواہی اور تساہلی کو بے بنیاد الزام قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ اراضی سے بھی جڑا ہوا ہوسکتا ہے ۔ تاہم انسپکٹر نے کہا کہ دو گاڑیوں کو ضبط کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT