Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / عصمت ریزی کے الزام میں خانگی یونیورسٹی کا عہدیدار گرفتار

عصمت ریزی کے الزام میں خانگی یونیورسٹی کا عہدیدار گرفتار

متاثرہ طالبہ کی شکایت کے بعد بی جے پی سے بھی خارج
وڈوڈرا 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) شہر میں واقع پرول یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار کو ایک نرسنگ طالبہ کی جانب سے عصمت ریزی کا الزام عائد کئے جانے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے آج یہ اطلاع دی اور بتایا کہ اس جرم میں تعاون کرنے پر گرلز ہاسٹل کی ویمن ریکٹر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ جیش پٹیل جوکہ پرول یونیورسٹی کے بانی اور سابق صدر ہیں، چند دن قبل ایک طالبہ کی عصمت ریزی کا الزام عائد کئے جانے کے بعد سے فرار ہوگئے تھے۔ لیکن کل شب کار میں آنندے شہر وڈوڈرا پہنچنے پر رورل پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس وڈوڈرا رورل پولیس ایس ایل بھٹ نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے 66 سالہ پاٹل کی تلاش جاری تھی لیکن باوثوق ذرائع سے اطلاع ملنے پر کل شب 11 بجے آنند قریب آسودر کراس روڈ پر انھیں پکڑ لیا گیا اور انھیں عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کرلیا جائے گا۔ اگرچیکہ پاٹل خانگی یونیورسٹی کے بانی ہیں لیکن 18 جون کو عصمت ریزی کی شکایت کے بعد صدارتی عہدہ سے ہٹادیا گیا۔ بعدازاں انھیں بی جے پی سے بھی خارج کردیا گیا جس میں انھوں نے 2014 ء میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یونیورسٹی سے ملحقہ نرسنگ انسٹی ٹیوٹ میں زیرتعلیم 21 سالہ لڑکی نے یہ شکایت درج کروائی ہے کہ گرلز ہاسٹل کے قریب واقع مکان میں جیش پاٹل نے اس کی عصمت ریزی کردی تھی جہاں پر ہاسٹل کی ریکٹر بھاونا بین پاٹل نے 16 جون کی شب اُسے لے کر گئی تھی اور ملزم نے یہ دھمکی دی تھی کہ اس واقعہ کا افشاء کرنے پر انسٹی ٹیوٹ سے خارج اور امتحان میں ناکام کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT