Sunday , November 18 2018
Home / اداریہ / عصمت ریزی کے بڑھتے واقعات

عصمت ریزی کے بڑھتے واقعات

ملک میں عصمت ریزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے شرمناک اور افسوسناک واقعات پر عوام کی برہمی اور احتجاج کے باوجود یہ لعنت ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس میںاضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن ان کو میڈیا اور قانون کے سامنے نہیں لایا جاتا تھا ۔ جو خواتین اور لڑکیاں اس گھناؤنے اور شرمناک فعل کا شکار ہوتی تھیں وہ اپنی عزت اور سماج میں مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیا کرتی تھیں ۔ ہمارا معاشرہ ایسا ہوگیا تھا کہ عصمت ریزی کا شکار لڑکی کو انصاف دلانے کی بجائے اسے ہی نشانہ پر لا کھڑا کیا جاتا تھا اور اس سے ہی طرح طرح کے سوال کرتے ہوئے اسے ایک سے زائد بار بے عزت کیا جاتا تھا ۔ اسی سوچ کی وجہ سے خواتین اور لڑکیاں ایسے گھناؤنے جرم کا شکار ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کرتی تھیں۔ تاہم حالیہ عرصہ میںایسی سوچ اور ذہنیت میں تبدیلی آئی ہے اور جہاں متاثرہ خواتین اور لڑکیاں اس ظلم و ناانصافی کے خلاف پولیس سے رجوع ہو رہی ہیں اورا پنے لئے انصاف کی جدوجہد کر رہی ہیں وہیں سماج اور معاشرہ کے رویہ میں بھی تبدیلی آئی ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے ہمارے ملک میں خواتین و لڑکیوں پر مظالم کے واقعات تو پیش آتے رہے ہیں لیکن عصمت ریزی کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کٹھوا میںایک آٹھ سالہ لڑکی کے ساتھ درندگی اور اس کے قتل کے علاوہ اناؤ میں ایک لڑکی کے ساتھ بی جے پی رکن اسمبلی کی شرمناک حرکت کے خلاف ابھی پورے ملک میں برہمی اور غم و غصہ کی لہر چل ہی رہی ہے کہ گجرات میں ایک اور کمسن لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی اور اس کے قتل کا واقعہ سامنے آگیا ہے ۔ یہاں تو متوفی لڑکی کے جسم پر زخموں کے 86 نشان پائے گئے ہیں جو ایک مہذب سماج کے منہ پر کلنک اور طمانچہ ہیں۔ اب اس لڑکی کے ساتھ کیا کچھ مظالم ڈھائے گئے ہیں وہ ابھی واضح نہیں ہوئے ہیں اور تحقیقاتی عمل میں سامنے آسکتے ہیں بشرطیکہ تحقیقات پوری ذمہ داری اور کسی سیاسی اثر و رسوخ کو قبول کئے بغیر کی جائیںاور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانے اور متوفی کو انصاف دلانے کا جذبہ برقرار رہے ۔
کٹھوا ‘ اناؤ اور پھر اب گجرات کے واقعات ہندوستانی سماج اور ہندوستان کے منہ پر کالک پوتنے جیسے واقعات ہیں اور ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یہ ایسے عمل ہیں جن کے ذمہ داروں کو سزائے موت سے کم ہوکئی سزا نہیں ہونی چاہئے ۔ آج ملک میںکئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں اگر کسی گائے کو ذبح کیا جاتا ہے تو انتہائی سخت سزائی دی جاتی ہیں اور سزائے موت کی بھی گنجائش نکل آتی ہے تو پھر کیا ملک کی بیٹیوں کے ساتھ جرائم کرنے اور انہیںاپنی ہوس کا نشانہ بنانے اور پھر موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کیلئے سزائے موت نہیں ہوسکتی ؟ ۔ اس پر حکومتوں اور قانون سازوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنی ترجیحات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی وزیر منیکا گاندھی نے دو دن قبل کہا تھا کہ ان کی وزارت یہ تجویز رکھتی ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کے جنسی استحصال اور عصمت ریزی پر خاطی کو سزائے موت دینے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔ ان کی یہ تجویز بہترین ہے اور اسے عملی شکل دی جانی چاہئے ۔ ایک دن قبل بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہیما مالینی نے بھی منیکا گاندھی کی تجویز کی حمایت کی ہے اور ان کا بھی کہنا تھا کہ 12 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی عصمت ریزی کرنے والے درندوں کو سزائے موت ہونی چاہئے ۔ دیگر جماعتوں کے سیاسی قائدین کو بھی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوتے ہوئے اس تجویز کا نہ صرف خیر مقدم کرنا چاہئے بلکہ اسے آگے بڑھانے اور عملی شکل دینے کیلئے اپنی جانب سے بھی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ۔
جو واقعات پیش آر ہے ہیں وہ شرمناک ہیں ۔ ان کو روکنا صرف حکومتوں کا کام نہیں ہے اور نہ ہی صرف حکومتوں کی کوششوں سے ہی اس کو روکنے میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ اس کیلئے خود سارے ملک کو اور سماج کے ہر طبقہ کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک سماج کا ہر طبقہ اس لعنت اور برائی کو روکنے کیلئے آگے نہیں آئے گا اور اسے اپنی ذمہ داری نہیں سمجھے گا اس وقت تک اس لعنت اور ناسور کو ختم کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ ہم ایک ایسا ہندوستان نہیں بناسکتے جو ہماری بیٹیوںکیلئے محفوظ ہو ۔ سماج میں اس تعلق سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام ہر طبقہ اور ہر گوشہ کو کرنا چاہئے ۔ صرف ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یا پھر اقتدار نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا ۔ اس لعنت کا خاتمہ کرنا آج ہر ہندوستانی کا فریضہ ہے اور اسے ہر ہندوستانی کو بہرحال پورا کرنے آگے آنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT