Tuesday , December 11 2018

عظیم الدین ’’چلتی پھرتی دوکان جس کی پہچان ہے‘‘

عام آدمی کی خاص بات عظیم الدین ’’چلتی پھرتی دوکان جس کی پہچان ہے‘‘

عام آدمی کی خاص بات
عظیم الدین ’’چلتی پھرتی دوکان جس کی پہچان ہے‘‘
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون (ابوایمل ) شہر میں کئی ایسے تاجر ہیں جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں اور وہ خانہ بدوشی اختیار کرتے ہوئے آمدنی کے ذرائع پیدا کرلیتے ہیں۔ ان میں شامل ایک نام محمد عظیم الدین عرف علی بھائی بھی ہے۔ 50 سالہ علی بھائی حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں جہاں بھی مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں وہاں مناسب جگہ پر تاٹ پٹری بچھا کر اپنا سامان جس میں عطر، ٹوپی، رومال، اگربتی اور سرمہ ہوتا ہے لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔ علی بھائی سے شیورام پلی آرام گھر کی مسجد نور محمد شریف میں جمعہ کی نماز کے بعد تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار کے لئے وہ سامان ممبئی اور بنگلور سے منگواتے ہیں چونکہ والد کا بھی عطر کا ہی کاروبار تھا لہٰذا وہ خود بھی 1980ء سے عطر، اگربتی، سرمہ اور ٹوپیوں کی فروخت کو ذریعہ معاش بنا چکے ہیں۔ علی بھائی نے کہا کہ کاروبار کے لئے ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے لیکن دینی اجتماعات جہاں بھی ہوتے ہیں وہ ان کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کاروبار سے وہ خوش اور مطمئن بھی ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہیکہ دینی اجتماعات کے پاس کسی موزوں مقام پر ٹاٹ پٹری بچھا کر کاروبار کے لئے بیٹھنے کے دو فائدے ہیں ایک تو اجتماع میں اللہ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی پیاری پیاری باتیں سننے کا موقع ملتا ہے اور شرکا سے ملاقات اور انہیں سرمہ لگانے کا موقع بھی ملتا ہے تو دوسری جانب کاروبار بھی ہوجاتا ہے جس سے معقول آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اپنی شخصی زندگی کے چند پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہوئے علی بھائی نے کہا کہ ان کی پیدائش ہمناآباد کی ہے لیکن حیدرآباد منتقل ہونے کے بعد وہ لاڈ بازار کے سٹی ہائی اسکول سے صرف ساتویں جماعت میں تعلیم حاصل کی ہے۔ گھر کے حالات اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ترک تعلیم کرنا پڑا۔ علی بھائی کو 5 لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے بچوں کو تعلیم نہ دلوانے کا کافی دکھ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دکھ انہیں اپنوں سے ملنے والی تکلیف کا ہے۔ انہوں نے بند الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو ان کے دل میں موجود دکھ اور تکلیف کی ترجمانی کرتا ہے۔ دبے الفاظ میں انہوں نے اپنوں سے ملنے والے دکھ کا نہ صرف اشارہ کیا بلکہ کہا کہ اپنوں نے انہیں ایسی مار دی جس سے وہ کبھی سنبھل نہیں پائے۔ علی بھائی سیاست کے کافی قدیم قاری بھی ہیں، جن کے پاس گذشتہ 20 برسوں کے دوران شائع ہونے والے قدیم اخبارات بھی محفوظ ہیں کیونکہ جب کبھی سیاست میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے متعلق کوئی مضمون شائع ہوتا ہے تو وہ اخبار کی کاپی محفوظ کرلیتے ہیں۔ ابتداء میں وہ سیکل پر اپنا کاروبار کرتے تھے لیکن اب ان کے پاس ٹی وی ایس گاڑی ہے، جس پر وہ سامان لاد کر اسے مختلف مقامات پر فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حج کی سعادت اور روضہ محمد ﷺ پر حاضری اور درود و سلام پڑھنا ان کی دلی تمنا ہے۔ محنتی علی بھائی کو اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ان کی خواہش کو پورا کرے گا۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT