Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / عفرین: ترک بمباری سے ’درجنوں عام شہری ہلاک‘

عفرین: ترک بمباری سے ’درجنوں عام شہری ہلاک‘

مشرقی غوطہ کے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول، ہزاروں افراد کا تخلیہ ‘صدر ترکی رجب طیب اردغان کا ادعا

استنبول ۔18مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) شام کے علاقے عفرین میں ترکی کے فضائی حملوں میں متعدد عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ شہری عفرین سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے تھے۔کرد میڈیا کے بموجب جمعہ کی رات درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم شامی رصدگاہ نے مزید ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ عفرین میں جمعے کو گاڑیوں میں موجود افراد پر شیل برسائے گئے جبکہ فضائی حملوں میں ایک ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق عفرین سے کم سے کم 150,000 شہری فرار ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب ترکی نے شام کے علاقے عفرین میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے تاہم عفرین کی ایک رہائشی خاتون رانیہ کا کہنا ہے ترکی کی جانب سے داغے جانے والے شیلوں نے گاڑیوں میں موجود عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا ’وہاں ہر جانب لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ ’رات کو فضائی حملوں میں عفرین کے ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، وہاں پر بہت سے متاثرین تھے جبکہ شدید بمباری کی وجہ سے لوگوں کو لاشیں نہیں مل سکیں، کچھ لاشیں اب بھی سٹرک پر موجود ہیں۔‘ برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ عفرین کے ہسپتال میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔ ترکی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس نے گذشتہ دو ماہ سے جاری آپریشن میں عام شہریوں کو نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی افواج مشرقی غوطہ کے 70فیصد سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرچکی ہے۔ادھر شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں بھی حالیہ دنوں کے دوران ہزاروں افراد اپنی جان بچانے کے لیے نکلے ہیں۔مشرقی غوطہ میں حکومتی افواج نے دوبارہ شدید بمباری شروع کی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت نے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔حکومتی افوان نے تین ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔شام میں جاری جنگ کے سات سال مکمل ہونے کے موقعے پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے گذشتہ روز اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔اقوام محتدہ کے مطابق ان سات سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT