Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / علاؤ الدین خلجی اور پدماوتی کے درمیان میں کوئی قابل اعتراض مناظر نہیں ۔ سنجے لیلا بھنسالی نے ویڈیو کے ذریعہ یہ بات کہی

علاؤ الدین خلجی اور پدماوتی کے درمیان میں کوئی قابل اعتراض مناظر نہیں ۔ سنجے لیلا بھنسالی نے ویڈیو کے ذریعہ یہ بات کہی

نئی دہلی۔ ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے چہارشنبہ کے روز یہ بات صاف کردی کہ جس قسم کی افواہیں رانی پدماوتی اور علاؤ الدین خلجی کے درمیان میں رومانٹک مناظر کے متعلق پھیلائی جارہی ہیں ایسا کچھ بھی مجوزہ فلم میں نہیں دیکھایاگیا ہے۔

فلم کے کوپروڈیوسر وائکوم18کے جاری کردہ ویڈیو میں ڈائرکٹر نے کہاکہ ’’ اس فلم کے متعلق افواہوں کے بناء پر بہت سارے تنازعات پیدا کی جارہی ہیں۔افواہ یہ ہے کہ فلم کے پس منظر میں رانی پدماوتی اور علاؤ الدین خلجی کے درمیان کچھ مناظر فلمائے گئے ہیں۔

میں نے پہلے ہی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تحریر میں لکھ کر دیا ہے۔ میں دوبارہ اس ویڈیو کے ذریعہ فلم کے بار میں واضح کردیتا ہوں کہ رانی پدماوتی اور علاؤ الدین خلجی کے درمیان میں ایسا کوئی منظر فلم میں نہیں ہے جس کے ذریعہ کسی دلآزاری ہو۔

انہوں نے کہاکہ نہایت ایمانداری کے ساتھ اس دور کے ڈرامے کو مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو رانی پدماوتی کی بہادری کو ایک بڑا خراج ہے۔ ویڈیو میں بھنسالی نے کہاکہ’’ شروعات سے ہی میں رانی پدماوتی کی کہانی سے کافی متاثر ہوا ہوں۔

یہ فلم ان کی بہادری اور قربانیوں کو ایک خراج ہے۔ ہم نے فلم پوری ذمہ داری اور راجپوت کمیونٹی کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنائی ہے‘‘۔

شری راجپوت کرنی سینا جو کہ راجپوت کمیونٹی کی ایک تنظیم ہے نے فلم میں علاؤ الدین خلجی اور رانی پدماوتی کے درمیان میں قابل اعتراض مناظر پر سخت دھمکی دی ہے۔ ہندو راجپوت رانی پدواتی کی زندگی پر مبنی یہ فلم بنائی گئی ہے اور پدماوتی کاذکر اودھ زبان کے مشہور نظم جس کو 1540میں صوفی شاعر ملک محمد جیاسی نے لکھاتھا میں ذکر ہے۔

فلم میں دپیکا پدکوان نے رانی پدماوتی ‘ شاہد کپور نے مہاراؤل رتن سنگھ‘ اور رنویر سنگھ نے سلطان علاؤ الدین خلجی کا کردار ادا کیاہے۔یکم ڈسمبر کو فلم کی ریلیز متوقع ہے اور مگرکچھ دائیں بازو کی تنظیمیں فلم میں راجپوت رانی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنازع کھڑا کررہے ہیں۔

مجوزہ فلم کے متعلق بہت ساری فرقہ وارانہ تنظیمیں بشمول شری راجپوت کرنی سین‘ تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں۔ جنوری میں کرنی سینا کے کارکنوں نے فلم شوٹنگ کے دوران عملے اور بھانسلی کے ساتھ مارپیٹ بھی کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT