Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / علاؤ الدین خلیجی سے ایک ملاقات جنھوں نے کہاکہ’ میری16,000بیویاں ہیں‘ پھر پدماوتی کیوں؟

علاؤ الدین خلیجی سے ایک ملاقات جنھوں نے کہاکہ’ میری16,000بیویاں ہیں‘ پھر پدماوتی کیوں؟

شیام بنگال کی ’بھارت ایک کھوج ‘ سے دہلی سلطنت کے لیڈر کو رانی پدمانی سے زیاہ چتور کے جوہرات میں دلچسپی تھی۔اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو سنجے لیلا بھانسی کی مجوزہ فلم پدماوتی فلم میں رنویر کپور نے جو کام کیا ہے اور اوم پوری جنھوں نے 1980کے دہے میں شیام بنگال کے ٹیلی ویثرن سیریل بھارت ایک کھوج میں بھی وہی دہلی سلطنت کے حکمران علاؤ الدین خلیجی کا رول ادا کیا ہے جس میں بہت سارا فرق ہے

۔سنگھ کا خلیجی چست تندرست اور مرغن غذاؤں کا شوقین ہے ۔ پوری نے خلیجی کا کردار ایک موثر ریاستی سربراہ جس اپنا وقت وزراء کے ساتھ ریاست کے امیر لوگوں سے ٹیکس کی وصولی ‘ غذائی اجناس کی قیمتوں کا تعین اور فوج کی تعیناتی کے متعلق فیصلوں پر تبادلے خیال کرتا دیکھائی دیتا ہے۔جبکہ پدماوتی کا خلیجی نصف کپڑوں اور چودہوں صدی کی دہلی کے گھر میں دیکھا یاگیا ہے ‘ اوم پوری کا خلیجی ہمیشہ شاہی لباس زیب تن کئے ہوئے اور ہاتھوں میں تاریخی کتابیں تھامے دیکھایاگیا ہے ۔

دونوں کرداروں کو نام ہے مگر انہیں پیش کرنے کا طریقے کار نہایت منفرد ہے۔.سولہویں صدی کے ممتاز شاعر محمد جیاسی کی نظم پدماوتی۔ بھارت ایک کھوج دوسرا اور آخری ایپسوٹ کی شروعات جس میں علاؤ الدین خلیجی رونما ہوتے ہیں‘ کہانی کار( اوم پوری بھی) راجپوت دور کی یاددلاتا ہے اوراس وقت پدماوتی کو اس کی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے جو تاریخی حقائق کے بعید ہے۔بھارت ایک کھوج کے ایپسوٹ 25اور 26میں خلیجی کو پیش کیاگیا ہے اور یہ سیریل دوردرشن پر 1988اور 1989میں نشر کیاگیاتھا۔ اس میں دہلی کی دور سلطنت کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے جس کی شروعات ہندوستان میں ترک حکمرانوں کے داخلے سے لیکر تغلق دور پر مشتمل ہے۔سیریل کے پچیسویں حصہ میں خلیجی کو بے رحم سیاست داں کے طور پر پیش کیاگیا۔

خلیجی بادشاہی دورمیں ہونے والی سازشوں میں اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ حکم دیتا کے اس کے دور میں رچنے والی تمام سازشوں کے سرغنوں اور ان کے گھروالوں کو ماردیاجائے ۔ اس کے وزراء شراب کی فروخت کے متعلق تجویزکے ساتھ اس سے رجوع ہوتے ہیں اور اس سے ریاست کو ہونے والے فوائد بھی بتاتے ہیں ‘ جس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ غیر معمولی ائیڈیا بھی نذر اتے ہیں۔خلیجی نے شراب پر پابندی عائد کی تھی ‘ امیروں سے ٹیکس وصول کرنا کاکام شروع کیا۔ٹیکس سے حاصل پیسوں سے فوج کو مستحکم بنایا جو منگولوں کی تھی وہ ہمیشہ دہلی کے دروازے پر کھڑے ہوتے تھے۔

خلیجی کی دلچسپی چتور کے خزانے میں تھی وہاں کے جواہرت اور سونے چاندی میں تھی ۔بھارت ایک کھوج کے حصہ 26کے مطابق خلیجی نے چتو ر کے بادشاہ رتن سنگھ ( راجندر گپتا)کا قتل کرکے اس کی ساری دولت پر اپنا قبضہ جمالیتا ہے اور پدمانی جس کو پدماوتی بھی کہاجاتا ہے کہ ساتھ چتور کی دوسری عورتوں نے اپنی عزت نفس کے لئے خود کو جلاکر ماردیا۔بھارت ایک کھوج کے خلیجی کو موقع پرست کے بجائے نہایت سنجیدہ حکمران کے طور پر پیش کیاگیا ہے ۔ وہ اپنے وزرا ء کااحترام کرتا تھا اور ایک بہتر حکمران تھا۔وہیں پر راگھو چیتن نے خلیجی کے پدمانی کو اغوا کرنے کے عمل کو ترجیح دی ہے ‘ اس سلطان کو حقیقی موقف تھا کہ ’’ میری 16,000بیویاں ہیں تو پھر پدمانی کیوں؟‘‘

خلیجی کی حواس رتن سین کے جوہرات تک محدود تھی ۔

TOPPOPULARRECENT