Thursday , April 26 2018
Home / اے پی ڈائری / علاقائی پارٹیوں کا اتحاد قومی پارٹیوں کی نیند حرام کردے گا

علاقائی پارٹیوں کا اتحاد قومی پارٹیوں کی نیند حرام کردے گا

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ میں جدید ریاست کے نظریہ کی قابل قدر تدوین کی کوشش میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپوزیشن کی آواز کو دبانے والے اقدامات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تعزیرات ہند کی بعض دفعات کو قابل دست جرم بنانا چاہتے ہیں ۔ تعزیرات ہند کی دفعات 506 ( مجرمانہ عمل ) اور 507 ( مجرمانہ حرکت بذریعہ گمنام ترسیل ) کے تحت آنے والی کارروائیوں کو عدالت کی اجازت حاصل کیے بغیر قابل دست جرم قرار دے کر کیس درج رجسٹر کرنے کا موقع حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ریاستی حکومت کے اس منصوبے کی مخالفت میں اپوزیشن پارٹیوں نے متحدہ احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اپوزیشن کی آواز دبانے یا اپوزیشن قائدین کو خوف زدہ کرنے کے لیے حکومت کے خفیہ منصوبوں کی سرزنش کی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعات کو آیا کسی بھی ریاستی حکومت کی جانب سے عجلت پسندی سے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سیاسی حریفوں کی پیشرفت کو کچلنے کی غرض سے اگر ریاستی حکومتیں تعزیرات ہند کی دفعات کے ساتھ اپنی من مانی طریقہ سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی تو پھر قانون اقتدار پر فائز پارٹیوں کے لیے خطرناک ہتھیار بن جائے گا ۔ اسی طرح جب علاقائی پارٹیاں کسی بھی طریقہ سے آئینی بحران پیدا کرنے والی حرکت کرتی ہیں تو اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں اور مملکت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ایک طرف اپنی حکمت عملی کے ذریعہ دھیرے دھیرے مخالفین پر گرفت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف مرکز کی ہر بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملانا چاہتے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں 3 طلاق بل پر ووٹ ڈالنے کا مسئلہ ہو تو ٹی آر ایس کے ارکان کو ایوان سے غیر حاضر کیا جاتا ہے اور مودی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کی جاتی ہے ۔ ملک بھر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے بہ یک وقت انعقاد کے مسئلہ پر بھی ٹی آر ایس نے بی جے پی کی حمایت کی ہے ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قائد ایوان لوک سبھا اے پی جتیندر ریڈی نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا کے بہ یک وقت انتخابات کروانے سے انتخابی عمل پر آنے والے مصارف کم ہوں گے اور دیگر اوقات کا ضیاں ختم ہوگا ۔ حکومتوں کو ملک اور ریاستوں کی ترقی پر توجہ دینے کی مہلت حاصل ہوگی ۔ ہر ریاست میں الگ الگ انتخابات کے لیے وقت دینے کے بجائے ایک ہی وقت میں رائے دہی رکھی جائے تو ماباقی ایام میں ریاستوں کی ترقی کے لیے کام کیا جاسکتا ہے ۔ ملک بھر میں بہ یک وقت رائے دہی کے لیے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھی اپنی بجٹ سیشن کی تقریر میں نشاندہی کی ہے ۔ اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث و مباحث ہوں گے اور اگر اس مسئلہ پر تمام سیاسی پارٹیاں اتفاق رائے پر پہونچتی ہیں تو مرکزی حکومت قانون سازی کے ذریعہ ملک بھر میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کرواسکتی ہے ۔ اگر ملک بھر میں ایک ہی وقت خیر و خوبی کے ساتھ شفاف اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں تو یہ ایک اچھی کوشش ہوگی ۔ مگر جن ریاستوں میں خاص کر علاقائی سطح پر علاقائی پارٹیوں کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں کبھی بھی کچھ بھی سیاسی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے ۔ انحراف کی سیاست کو ہوا دینے میں اکثر مرکزی سیاسی پارٹیوں نے کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہے ۔ ایسے میں اگر ٹی آر ایس نے جو بہ یک وقت انتخابات کروانے کی حامی ہے تو اس کو ہی داخلی طور پر انحراف کا سامنا کرنا پڑے گا تو سیاسی صورتحال کیا ہوگی ؟ ریاستی سطح پر وہ مسائل کو قومی وجود کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے اس میں سیاسی در اندازی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ۔ اگر واقعی مرکز نے ریاستی سطح کے سیاسی امور میں مداخلت کرتی ہے تو پھر دسمبر 2018 کو ہی عام انتخابات کرائے جاسکتے ہیں ۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بہ یک وقت انتخابات کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت ہی ان انتخابات کو یقینی بنانا چاہتی ہے ۔ اگر بی جے پی کا فیصلہ ہے تو وہ کسی بھی دستوری ترمیم کے بغیر 17 بڑی ریاستوں کے منجملہ دو ریاستوں میں بہ یک وقت انتخابات کرواسکتی ہے ۔ جب 3 بڑی ریاستوں مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں انتخابات ہونے جارہے ہیں تو دیگر چند بی جے پی حکمرانی والی ریاستیں رہ جاتی ہیں ۔ ان ریاستوں میں بھی انتخابات کروانے کے لیے کہا جاسکتا ہے اور اس کے بعد 3 ریاستیں رہ جاتی ہیں ان میں آندھرا پردیش ، اوڈیشہ اور تلنگانہ شامل ہیں ۔ جہاں پہلے ہی 2014 کے عام انتخابات میں پارلیمنٹ کے ساتھ اسمبلی انتخابات ہوچکے ہیں ۔ بی جے پی کی کوشش یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ قانون سازی کا یکطرفہ طاقتور موقف حاصل کرسکے ۔ بی جے پی کا مشن ہے کہ 360 پلس نشستیں حاصل ہوجائیں کیوں کہ اس نے سابق میں جان توڑ کوشش کرنے کے باوجود 272 کے نشان تک پہونچنے کی کوشش میں کامیاب ہوئی تھی ۔ بی جے پی اپنے پسندیدہ اعداد یعنی 360+ حلقے حاصل کرنے کے لیے ہر زاویہ سے محنت کرنا چاہتی ہے ۔ اس کے لیے وہ تمام ریاستوں میں ہندو ووٹوں کو مضبوط بنائے گی ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش اور کرناٹک 3 ریاستیں ایسی ہیں جہاں وہ اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرانے فرقہ پرستانہ کارڈ کھیل سکتی ہے ۔ کرناٹک میں اس سال کے وسط میں انتخابات ہوں گے تو بی جے پی 28 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ 17 پر کامیاب ہورہی ہے تو وہ یہاں کانگریس حکومت کو آسانی سے شکست دے سکتی ہے ۔ اسی طرح بی جے پی حکمرانی والی 3 ریاستوں مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی اسی سال ڈسمبر میں انتخابات ہورہے ہیں ۔ بی جے پی کو 63 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوں گے تو بی جے پی کی پارلیمانی اکثریت میں اضافہ ہوگا ۔ ان ریاستوں کے بعد بی جے پی کی نظر تلنگانہ اور آندھرا پردیش پر مرکوز ہوگی کیوں کہ دونوں ریاستوں کی حکمران پارٹیاں تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور آندھرا میں تلگو دیشم پہلے ہی بی جے پی کی حامی ہیں تو اس کو سیاسی فائدہ پہونچانے میں یہ علاقائی پارٹیاں اپنا رول ادا کریں گی ۔ یعنی ریاستی سطح پر اگر ٹی آر ایس کو بی جے پی کا ساتھ لینا ہے تو ٹی آر ایس اس کے عوض بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ کے پارلیمانی حلقوں پر کامیاب ہونے میں مدد کرے گی ۔ آندھرا پردیش میں بھی یہی صورتحال کے ساتھ بی جے پی کی مرکزی حکمرانی کو مضبوط بنایا جائے گا ۔ مودی کی لہر میں تمام ریاستوں کے انتخابات کا اہم عنصر ہے ۔ مودی کے جیالے بن کر کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو مرکز کی بی جے پی حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں گے ۔ پھر دھیرے دھیرے سیکولر رائے دہندوں کی آنکھیں اوپر کی جانب اُٹھ چکی ہوں گی اور صرف سفید پتلیاں نظر آرہی ہوں گی ۔ چہرے بے جان بنا دئیے جائیں گے اور اس کے بعد سیکولر ووٹرس کے اندر اتنی ہمت ہی نہیں ہوگی کہ وہ مزید حکمرانوں کا مکروہ چہرہ دیکھ کر آگے بڑھ سکیں ۔ جب کبھی سیکولر ووٹر اپنی فریاد لے کر جائے گا تو حکمراں طبقہ انجان نظروں سے دیکھے گا ۔ اس لیے سیکولر رائے دہندوں کو موجودہ ریاستی سیاستدانوں کی حکمت عملیوں کو غور سے دیکھنے و سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ غور طلب امر یہ ہے کہ اگر علاقائی پارٹیاں متحد ہوں تو مرکز کی قومی جماعت بی جے پی کی نیندیں حرام کرسکتی ہیں ۔ خاص کر دو تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا کی ٹی آر ایس اور تلگو دیشم متحد ہوجائیں تو قومی پارٹیوں کے لیے سخت جاں ثابت ہوں گی ۔ لیکن قومی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ علاقائی پارٹیوں کو ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رکھا جائے تاکہ ان کا سیاسی دشمن ہمیشہ کمزور ہی رہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT