Friday , July 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / علاقہ تلنگانہ میں نرمل کی جداگانہ سیاست

علاقہ تلنگانہ میں نرمل کی جداگانہ سیاست

بہوجن سماج پارٹی سے رکن اسمبلی کی کامیابی کے بعد صدر نشین بلدیہ کا انتخاب

بہوجن سماج پارٹی سے رکن اسمبلی کی کامیابی کے بعد صدر نشین بلدیہ کا انتخاب
نرمل۔/4جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدر نشین بلدیہ نرمل کی نشست پراپالا گنیش چکرورتی کا بلامقابلہ انتخاب جبکہ نائب صدر نشین بلدیہ کا عہدہ مجلس کے صدر عظیم بن یحییٰ کا بلامقابلہ انتخاب عمل میں آیا۔ واضح رہے کہ سارے تلنگانہ میں نرمل کے سیاسی حالات دوسرے علاقوں سے بالکل جداگانہ ہیں۔ جبکہ حلقہ اسمبلی نرمل سے مسٹر اے اندرا کرن ریڈی نے بہوجن سماج وادی پارٹی کا تعارف کرواتے ہوئے 36 رکنی بلدیہ میں واضح اکثریت حاصل کرلی بعد ازاں اس جماعت کو انہوں نے اتنا طاقتور بنادیا کہ ضلع عادل آباد میں مسٹر اے اندرا کرن ریڈی اور ان کے انتہائی قریبی سیاسی رفیق مسٹر کے کونپا دونوں بھی بھاری اکثریت سے اسمبلی کے لئے منتخب ہوتے ہوئے ٹی آر ایس کے طوفان کو روک دیا تھا۔ تاہم کامیابی کے بعد دونوں قائدین نے اپنے اپنے علاقوں کی ترقی اور تلنگانہ ریاست کو مثالی ریاست بنانے کے عزم سے کے چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کے بعد ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ظاہر ہے کہ بلدیہ کے اراکین جو بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے وہ بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ اس طرح بلدیہ نرمل پر بھی ٹی آر ایس کا قبضہ ہوگیا۔اپنے بلامقابلہ انتخاب کے بعد صدر نشین بلدیہ مسٹر اے گنیش چکرورتی اور عظیم بن یحییٰ نائب صدر نشین بلدیہ نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ بلدیہ نرمل میں ترقیاتی کاموں کے ذریعہ عوام کی امیدوں پر کھرا اُتریں گے اور بلدیہ نرمل کو مثالی بلدیہ کی شکل دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ضلع عادل آباد کے ان حلقہ جات اسمبلی میں اب اندرا کرن ریڈی ، کے کونپا کی شمولیت کے بعدجملہ نو اسمبلی حلقوں بشمول پارلیمنٹ حلقہ عادل آباد پر بھی ٹی آر ایس کا قبضہ ہوگیا ہے۔ جبکہ ضلع کے انتہائی اہم عہدہ ضلع پریشد چیرمین پر بھی ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے منتخب ہوگئی ہے۔ حلقہ اسمبلی مدہول واحد مقام رہ گیا ہے جہاں کانگریس امیدوار وٹھل ریڈی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں تاکہ موضع میں کانگریس کی ایک نشانی باقی رکھ سکے۔ دوسری طرف تلگودیشم جڑ پیڑ سے اُکھڑ چکی ہے۔ تاہم آج پسماندہ ضلع عادل آباد ٹی آرایس کا قلعہ بن چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے نگہبان قلعہ کو کتنا طاقتور روپ دیں گے اور انتخابی وعدوں کی تکمیل میں قلعہ کو کتنا مضبوط کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT