Tuesday , June 19 2018
Home / مضامین / علامہ شبلی نعمانی پر سمینار

علامہ شبلی نعمانی پر سمینار

کے این واصف

کے این واصف
شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی (1857-1914) کا شمار برصغیر کے ان علماء و دانشوروں میں ہوتا تھا جو ایک نابغۂ روزگار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پچھلے ہفتہ ’’ابنائے قدیم دارالعلوم ندوۃ العلماء ریاض‘‘ کی تنظیم نے اس عظیم علمی ہستی پر ’’قدیم و جدید کا سنگم شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و فکری سمینار کا اہتمام کیا ، جس کے ذریعہ انھوں نے علامہ شبلی سے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا ۔ سمینار کی صدارت ممتاز دانشور حسین ذوالقرنین نے کی ۔ جبکہ مولانا اجمل ایوب اصلاحی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ ہندوستانی کمیونٹی کی معروف و معتبر شخصیت راشد علی شیخ ، کمیونٹی کے ہردلعزیز سفارت کار ڈاکٹر حفظ الرحمن سکریٹری سفارت خانہ ہند ریاض نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا اجمل اصلاحی نے کہا کہ علامہ شبلی نے پہلی جد و جہد آزادی جسے 1857 کے غدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کے بعد مسلمانوں میں جو لاچاری ، ذہنی شکست خوردگی اور مایوسی کا احساس پیدا ہوگیا تھا ، مولانا نے اسے دور کرنے کی کوشش کی جو ان کا بڑا کارنامہ تھا ۔ انھوں نے مسلمانوں میں جینے کا نیا حوصلہ پیدا کیا ۔ وہ ایک اچھے سیاستداں ، دور اندیش قائد قوم تھے ۔ ڈاکٹر اجمل نے کہا کہ اردو کے عناصر خمسہ میں شبلی کا شمار ہوتا تھا ۔وہ شاعر ، ادیب ، ناقد ، سیرت و سوانح نگار ، ماہر تعلیم ، مصلح ، مورخ اور اپنے دور کی ایک عظیم علمی شخصیت تھے ۔ مولانا اصلاحی نے دارالمصنفین کے کارہائے نمایاں کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا جسے مولانا شبلی نے قائم کیا تھا ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شبلی کی ہمہ جہت شخصیت کے جوہر کو سب سے پہلے بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسید احمد خاں نے پہچانا۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران شبلی کی شخصیت میں مزید نکھار آیا ۔ ڈاکٹر اجمل ایوب اصلاحی ، سابق استاد مدینہ یونیورسٹی نے اپنے خطاب کا آغاز مولانا شبلی کی معرکتہ الآرا کتاب ’’’سیرت النبیؐ‘‘ کے اقتباسات پیش کرکے کیا ۔

سمینار کا آغاز طارق ندوی کی قرأت کلام پاک ، ترجمہ اور تفسیر سے ہوا ۔ جس کے بعد واجد ندوی و ہمنوا نے ترانۂ ندوہ ’’ہم نارش ملک وملت ہیں‘‘ پیش کیا ۔ اختر الاسلام صدیقی نے اپنے افتتاحیہ کلمات میں کہاکہ ندوہ کے طلبائے قدیم اس علمی و فکری سمینار کے ذریعہ ملت کی ایک عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں ۔ اس سمینار کے ذریعہ ان ذہنوں میں جن میں شبلی کی یاد ماند پڑگئی تھی اسے تازہ کیا اور نئی نسل جو علامہ شبلی کی شخصیت سے کماحقہ واقف نہیں یہ سمینار ان کی معلومات میں اضافہ کرے گا ۔ اخترالاسلام نے شبلی نعمانی کی حیات ، خدمات اور کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے علماء نے مسلمانوں میں قرآن پڑھنے اور قرآن فہمی کو عام ہونے نہیں دیا ۔ مگر مولانا شبلی نے یہ کارنامہ انجام دیا ۔ شبلی نے اپنی کتاب ’’الفاروق‘‘ کے ذریعہ نوجوانوں کو اپنا آئیڈیل منتخب کرنے کا راستہ دکھایا ۔
صدر تنظیم طلبائے قدیم امتیاز ندوی نے ندوۃ العلماء کا تعارف اور اپنی تنظیم کی علمی ، ادبی اورسماجی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا ۔ اس سمینار میں تین معلومات آفرین اور پرمغز مقالے پیش کئے گئے ۔ پہلا مقالہ سید دانش انور ندوی نے پیش کیا ،جس کا عنوان تھا ’’حیات شبلی پر ایک نظر‘‘ ۔ جس کے بعد ڈاکٹر اعظم ندوی نے ’’علامہ شبلی کے علمی و فکری امتیازات‘‘ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔ تیسرا اور آخری مقالہ محمد احسن ندوی نے پیش کیا ۔ جس کا عنوان ’’علامہ شبلی نعمانی کی علمی و فکری قیادت‘‘ تھا ۔ اس محفل کو صدر اولڈ بوائز اسوسی ایشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد احمد بادشاہ نے بھی مختصراً مخاطب کیا ۔

ڈاکٹر حفظ الرحمن اصلاحی ، سکریٹری سفارت خانہ ہند ریاض نے محفل میں پیش کردہ مقالوں اور تقاریر پر واضح اشارہ کئے بغیر کہا کہ ہمیں تقاریر میں غلو اور خیال کی انتہا پسندی سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ خصوصاً جب ہم علامہ شبلی جیسی ہستی کو یاد کرنے جمع ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اعتدال پسندی علامہ شبلی کا وصف خاص تھا ۔ محفل میں کی گئی سرسید احمد خاں اور علامہ شبلی کے درمیان اختلافات کی بات کے حوالے سے حفظ الرحمن نے کہا کہ ان دو عظیم شخصیتوں کے درمیان اختلاف فکری اور علمی تھا ۔ لہذا اس کا ذکر بھی اس انداز میں ہونا چاہئے ۔ یہ دونوں شخصیات ملت کیلئے قابل احترام ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کیلئے سرمایہ عز و افتخار ہیں ۔

معروف این آر آئی اور کمیونٹی کی محترم و معروف صاحب خیر شخصیت راشد علی شیخ نے اس موقع پر کہا کہ وطن میں قائم ہوئے بہت سے تعلیمی ادارے یا کالجز نے اپنے قیام کے کچھ عرصہ بعد ہی یونیورسٹی کی شکل اختیار کرلی ، لیکن علامہ شبلی نے 1883ء میں کالج قائم کیا تھا وہ آج بھی کالج ہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کالج کو ترقی دینا اور اسے یونیورسٹی کا درجہ دلوانا علامہ شبلی کو پیش کیا جانے والا سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کی قیادت کرنے اور مالی تعاون کی پیش کش کرتا ہوں اور کمیونٹی کے دیگر صاحب خیر حضرات سے بھی امید کرتا ہو ںکہ وہ بھی اس کارخیر میں دامے درمے حصہ لیں گے ۔ محفل میں موجود ایک این آر آئی غلام محمد جاوید نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑی رقم ڈالر کی شکل میں راشد علی شیخ کے حوالے کی ۔ راشد علی شیخ نے یہ بھی کہا کہ ہماری ہر محفل کو بامقصد اور کارآمد ہونا چاہئے۔

صدر محفل حسین ذوالقرنین نے کہا کہ مغربی مبلغین (عیسائی) نے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اسلام کی شبیہ خراب کرنے کیلئے ایک باضابطہ مہم چلائی ۔ انھوں نے بہت ساری جھوٹی کہانیاں گھڑ کر مسلمانوں سے منسوب کیں جس میں اسکندریہ کی لائبریری کو تباہ کرنے کا الزام مسلمانوں کے سرڈال دیا ۔ علامہ شبلی نے اس الزام کی مدافعت کی اور عقلی دلائل و شواہد سے ثابت بھی کیا کہ اسکندریہ لائبریری کو عیسائی حکمران نے تباہ کیا ۔ مسلمانوں کی مصر میں آمد سے بہت پہلے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کو بدنام کرنے کا سلسلہ منظم طریقہ سے آج بھی جاری ہے ۔ ڈاکٹر حسین نے کہا کہ اس کا دفاع صرف ہمارا اتحاد ہی کرسکتا ہے ۔ حسین ذوالقرنین نے حالیہ عرصہ میں ہندوستان میں تبدیلی مذہب کی مہم کے حوالے سے کہا کہ اس قسم کی صورتحال آج سے ایک صدی قبل بھی ہندوستان میں پیش آئی تھی ۔ اللہ تعالی نے ہمیں حکمت کے ذریعہ ہر مہم سر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے علماء اور ہمارے دینی تعلیمی ادارے دین سے ناواقف یا کم واقف مسلمانوں جن کے بھٹکنے کا احتمال ہے ، کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں تو ان کے راہ سے بھٹکنے کے خدشات کم ہوسکتے ہیں ۔

تنظیم ابنائے قدیم ندوۃ العلماء ریاض کے جنرل سکریٹری اختر الاسلام صدیقی نے آخر میں اعلان کیا کہ تنظیم دارالعلوم ندوہ کے طلباء کیلئے شبلی ایوارڈ قائم کرے گا ۔ یہ ایوارڈ پچاس ہزار روپیہ ، سنداور تمغہ پر مشتمل ہوگا ۔ اس محفل میں ندوہ کے سابق طلباء دیگر تنظیموں کے اراکین وغیرہ کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ ہال میں واقعتاً تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد اس پروگرام کا اختتام متین ندوی کے ہدیۂ تشکر پر ہوا ۔

TOPPOPULARRECENT