Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / علحدگی پسندوں کو سرتاج عزیز سے ملاقات کی دعوت

علحدگی پسندوں کو سرتاج عزیز سے ملاقات کی دعوت

پاکستان کی اشتعال انگیزی، قومی سلامتی مشیر سطح کے مذاکرات شیڈول کے مطابق ہوں گے: ہندوستان

نئی دہلی ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان کی قومی سلامتی مشیر سطح کے پہلی مرتبہ مذاکرات آئندہ ہفتہ شیڈول کے مطابق ہوں گے حالانکہ پاکستانی ہائی کمیشن نے کشمیری علحدگی پسند قائدین کو مشاورت کے لئے مدعو کیا ہے اور حکومت ہند نے اس پر ناراضگی ظاہر کی۔ مجوزہ مذاکرات سے عین قبل پاکستان نے سخت گیر موقف کے حامل علحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی، اعتدال پسند حریت لیڈر عمر فاروق اور دیگر علحدگی پسند قائدین کو قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز سے 23 اگست کو ملاقات کیلئے مدعو کیا ہے۔ وہ اسی دن نئی دہلی پہنچنے والے ہیں جہاں وہ ہندوستانی ہم منصب اجیت ڈوول سے دہشت گردی پر بات چیت کریں گے۔ پاکستان نے یہ اقدام اس وقت کیا جبکہ جنگ بندی کی حالیہ عرصہ کے دوران مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور گرداس پور و اودھم پور میں 2 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔

حکومت نے اگرچہ حریت قائدین کو مدعو کئے جانے کے بارے میں سرکاری طور پر تبصرہ سے گریز کیا لیکن ذرائع نے بتایا کہ صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں میں بعض ایسے گوشے ہیں جو ہند ۔ پاک مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور وہ مخالف سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہندوستان کو قومی سلامتی مشیر سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کیلئے مجبور کیا جائے۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان کی اس دعوت کو اشتعال انگیزی سمجھی جائے گی اور یہ ہمارا یہ خیال ہیکہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے۔ اس کے علاوہ ہندوستان دہشت گردی پر بات چیت سے فرار اختیار نہیں کرے گا۔ تاہم پاکستان ہائی کمیشن نے کشمیری علحدگی پسند قائدین کو مدعو کئے جانے کی مدافعت کی اور کہا کہ اس طرح کی ملاقات غیرمتوقع نہیں ہے۔ کونسلر (پریس) پاکستان ہائی کمیشن منظور علی میمن نے کہاکہ ہم کشمیری قائدین سے ملاقات اور بات چیت کرتے آرہے ہیں۔ اس میں کوئی غیرمتوقع امر نہیں ہے اور ان کے لئے یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ آخر اتنا ہنگامہ کیوں کیا جارہا ہے۔

پاکستان مشن نے گیلانی اور دیگر علحدگی پسند قائدین کو ڈنر پر بھی مدعو کیا ہے جس میں قومی سلامتی مشیر سطح کے مذاکرات کے موقع پر مخصوص افراد شرکت کریں گے۔ سرکاری ذرائع نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ اوفا میں وزیراعظم نریندر مودی اور ہم منصب نواز شریف کی گذشتہ ماہ ملاقات کے دوسرے ہی دن اپنے موقف سے منحرف ہوگیا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے اور قومی سلامتی مشیر کے مابین دہشت گردی پر بات چیت سے اتفاق کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ مذاکرات کے موقع پر ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو 60 مجرمین کی فہرست پیش کی جائے گی جو اس ملک میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ اور ممبئی دہشت گرد حملے میں موازنہ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے رول کو واضح کیا جائے گا۔ ہندوستان کی جانب سے ان تین دہشت گردوں کے شواہد بھی پیش کئے جائیں جنہوں نے گرداس پور میں حملہ کیا تھا۔ اودھم پور میں دو دہشت گردوں کے حملہ سے بھی واقف کرایا جائے گا۔ ایک دہشت گرد کو زندہ پکڑ لیا گیا ہے جس نے سرحد پار سے یہاں پہنچ کر حملہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ داؤد ابراہیم کی حوالگی اور 26/11 ممبئی دہشت گرد حملے کے مقدمہ کی عاجلانہ سماعت کے بشمول دیگر کئی موضوعات اٹھائے جائیں گے۔

 

ہندوستان کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، پاکستان میں ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی
اسلام آباد ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے جاریہ ہفتہ آج دوسری مرتبہ ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی سیکوریٹی فورسیس کی مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج درج کرایا۔ ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر برائے پاکستان جے پی سنگھ کو آج ڈائرکٹر جنرل (ساوتھ ایشیاء اینڈ سارک) نے طلب کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کی ہرپال سیکٹر میں بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا۔ ہندوستانی فوج کی فائرنگ میں ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا ہے۔ وزارت امور خارجہ نے ایک بیان میں یہ بات بتائی اور کہا کہ ہندوستانی فوج مبینہ طور پر جندروٹ، نکھیال اور کریلا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجہ میں ایک شہری ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر کو مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی تشویش سے واقف کرایا گیا۔ پاکستان نے ہندوستان پر زور دیا ہیکہ وہ خلاف ورزی کا سلسلہ فوری روک دے اور 2003ء جنگ بندی سمجھوتے کا پاس و لحاظ رکھے۔ ا س سے پہلے پیر کو پاکستان نے جے پی سنگھ کو طلب کرتے ہوئے بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج درج کرایا تھا۔ اس سے ایک دن قبل ہندوستان میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسی طرح کا احتجاج درج کرایا تھا۔ پاکستانی فوج کی فائرنگ کے نتیجہ میں 6 ہندوستانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ یوم آزادی کے بعد سے پاکستانی فوج ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنارہی ہے اور کئی مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ ہندوستان نے 16 اگست کو پاکستانی ہائی کمشنر متعینہ ہند عبدالباسط کو طلب کیا اور شدید احتجاج درج کرایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT