Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / علحدگی پسند لیڈر کی رہائی

علحدگی پسند لیڈر کی رہائی

عجیب لوگ بستے ہیں بڑے شہر میں محسن مرمت کانچ کی کرتے ہیں، پتھر کے اوزاروں سے علحدگی پسند لیڈر کی رہائی

عجیب لوگ بستے ہیں بڑے شہر میں محسن
مرمت کانچ کی کرتے ہیں، پتھر کے اوزاروں سے
علحدگی پسند لیڈر کی رہائی
جموں و کشمیر میں ناقابل اعتبار اتحاد کے مرحلے سے گذرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے والی دو پارٹیوں پی ڈی پی اور بی جے پی کو جمہوری روایات اور انداز کا گلہ گھونٹ کر فرائض منصبی کو کمزور کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ جب بحیثیت سیاسی پارٹی بی جے پی نے جموں و کشمیر میں حکمرانی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تو اس کیلئے اپنے نظریات اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ جموں و کشمیر کے کئی معاملوں میں اختلاف رکھنے والی پارٹی نے 370 کے مسئلہ کو پس پشت ڈالا تو علحدگی پسند لیڈروں کے بارے میں بھی اس کی رائے مقامی پارٹی کی رائے کے تابع ہی ہوسکتی ہے۔ کشمیری علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے بعد دونوں پارٹیوں کے سیاسی عرصہ حیات کو تنگ کرنے کا کام کرنے والوں نے اپنی پٹاریاں کھول دی ہیں۔ ایک ہفتہ پرانی پی ڈی پی حکومت کو مسرت عالم کی رہائی کا مسئلہ کس کنارے پہنچائے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال اسے وادی کی صورتحال کے حوالہ سے اپنی اتحادی پارٹی بی جے پی کے قائدین کے مختلف بیانات سے پریشانی لاحق ہورہی ہے۔ کشمیر کے اقتدار کی اس نازک کرسی پر اگرچیکہ چیف منسٹر مفتی سعید نے بہت احتیاط سے سنبھل کر بیٹھنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سی آنکھیں اس کرسی پر لگی ہوئی ہیں۔ اب بی جے پی کے لوگوں کے ہاتھ اس کرسی کی طرف لپک رہے ہیں۔ مسرت عالم کی رہائی کے بعد کئی ہاتھوں کی انگلیاں اپنا کام کرنے میں کامیاب ہوں گی تو مفتی سعید کے لئے جوابدہی میں تکلیف ہوگی۔ بی جے پی نے مسرت عالم کی رہائی کے فیصلہ کو مفتی سعید حیکومت کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہیکہ وہ اس طرح کے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔ راجوری میں بی جے پی لیڈر رویندر رابنا نے حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ مفتی سعید حکومت نے ان سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے جن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمات و الزامات نہ ہوں لیکن بی جے پی کی نظر میں کشمیری علحدگی پسند قوم دشمن پاکستانی حامی ہوتے ہیں۔ مسرت عالم کی رہائی کے کیس میں حکومت کے فیصلہ کو دمہ دار ٹھہرایا جانا بی جے پی کی شرارت ہے کیونکہ بی جے پی نے واضح کردیا ہیکہ عالم کی رہائی عدالت کے فیصلہ کے بعد عمل میں آئی ہے۔ عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس حکم کی تعمیل کی ہے۔ بعض اوقات کچھ سیاستداں بیک وقت دو کام کرسکتے ہیں اور دو کیفیات ایک بار آن پڑتی ہیں۔ مفتی سعید حکومت کیلئے بھی دو کیفیات ایک بار ہی آن پڑی ہیں۔ یعنی بی جے پی سے اتحاد اور علحدگی پسندوں کے ساتھ ترقی کا معاملہ، دونوں واقعات کا ٹکراؤ جموں و کشمیر حکومت کی نوخیز حکمرانی کے موافق نہیں ہیں۔ بی جے پی نے اپنے زعفرانی رنگ کے اسپرے کا استعمال کرتے ہوئے وادی کشمیر میں آر ایس ایس کی بنیادوں کو مضبوط بنایا ہے تو اسے پی ڈی پی حکومت کے ساتھ سیاسی کھلواڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مفتی سعید ایک سینئر اور بزرگ سیاستداں ہیں ان کے ساتھ سیاسی اتحاد کو کسی چالبازی کی نذر نہیں کرنا چاہئے۔ مسرت عالم کو کسی حکومت سے مدد نہیں ملی ہے بلکہ انہیں عدالت سے رہائی ملی ہے تو اس واقعہ کو موضوع بنا کر جموں و کشمیر میں حکمرانی کے فرائض میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش معیوب متصور ہوگی۔ ہوسکتا ہیکہ بعض افراد کا اندازہ صحیح نہ ہو لیکن بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرکے مفتی سعید حکومت کے سر پر بندوق تانے کھڑی رہنا چاہتی ہے تو یہ حکومت کے مستقبل کیلئے خطرہ ہے۔ پارٹیوں میں اتحاد اور تعلقات کا اتار چڑھاؤ اپنی جگہ لیکن جموں و کشمیر جیسی حساس ریاست میں بی جے پی سے اتحاد نے بھی پی ڈی پی کے لئے مسائل کا انبار پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔ اگر مفتی سعید دہلی میں مودی کے سامنے خود کو سپرد نہیں کرتے ہوتے تو آج وادی کشمیر میں ان کے لئے دیگر سیاسی طاقتیں تیار کھڑی نظر آئیں۔ اب جو کچھ ہوا ہے اس کو نبھانے کیلئے ضروری ہیکہ دونوں پارٹیاں مشترکہ اقل ترین پروگرام کے تحت ہی حکمرانی کے فرائض انجام دیں۔ علحدگی پسندوں کے معاملہ میں وادی کشمیر میں دودھ کا دودھ کا محاورہ تو ٹھیک ہے لیکن اس مسئلہ کو لیکر حکومت کا معاملہ پانی کا پانی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض گوشے اس رہائی کو سیاسی مسئلہ بنا کر فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی سیاسی مجبوری اور ضرورت ہوسکتی ہے لیکن اس کو وسیع تر قانونی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر مسئلہ کو سیاسی عینک سے دیکھنا تنگ نظری کی دلیل ہوسکتی ہے اور اس روایت سے انحراف ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT