Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / علحدہ تلنگانہ کے باوجود ٹیچرس نا انصافیوں کا شکار

علحدہ تلنگانہ کے باوجود ٹیچرس نا انصافیوں کا شکار

حکومت کے رویہ پر اظہار افسوس ، تلنگانہ ٹیچرس فیڈریشن کا بیان
حیدرآباد۔17فبروری (سیاست نیوز) متحدہ ریاست میں جس طرح علاقہ تلنگانہ کے ٹیچرس کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی تھیں اسی طر ح علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی مذکورہ ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا گیا۔ آج یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران تلنگانہ ٹیچرس فیڈریشن قائدین نے کہاکہ نئی ریاست اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی ٹیچرس ناانصافیوں کا شکار ہیں۔ آٹھ سے زائدٹیچرس تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے زیراہتمام منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ٹی ایف صدر رام چندرن نے حکومت تلنگانہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رورل او راربن علاقوں میںواقع سرکاری اسکولس میںایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ او رمیناریٹی طبقات کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ میڈل کلاس خاندان بھی سرکاری اسکولوں سے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرتے ہیںمگر حکومت سرکاری اسکولس اور ان میںخدمات انجام دینے والے ٹیچرس کو یکسر نظر انداز کررہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بیس ماہ کاوقفہ گذر جانے کے بعد بھی تلنگانہ ٹیچرس انصاف کے منتظر ہیں ۔ انہوںنے مزیدکہاکہ سیناریٹی کی بنیاد پر شعبے تعلیم میں انسپکٹر پوسٹ ‘منڈل آفیسر اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کے عہدے پر تقرر عمل میںلایاجاناتھا باوجود اسکے مذکورہ عہدوں پرراست تقرر عمل میںلانے کا کام کیاجارہا ہے ۔ مسٹر رام چندرن نے مزیدکہاکہ تلگو‘ اُردو او رہندی پنڈت اب بھی انصاف سے محروم ہیں۔ اس موقع پر انہوںنے تلنگانہ ٹیچرس فیڈریشن کے 29فبروری کو منعقد ہونے والے مجوزہ چلو حیدرآباد پروگرام کے پوسٹرز کی اجرائی عمل میںلائی او رکہاکہ چلو حیدرآباد کے ذریعہ اندرا پارک دھرنا چوک پر ایک بڑا احتجاجی دھرنا حکومت کی مخالف ٹیچرس پالیسیوں کے خلاف کیاجائے گا۔ جناب انیس الرحمن‘ اے راگھو نندن‘ ایس راجندرا ‘ جی سوما‘ آر ملیشوری‘ بھگوان داس اوردیگر موجو دتھے۔

TOPPOPULARRECENT