Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / علحدہ راکھین اسٹیٹ کیلئے تشدد ، پولیس کارروائی میں 7 ہلاک

علحدہ راکھین اسٹیٹ کیلئے تشدد ، پولیس کارروائی میں 7 ہلاک

میانمار کے نسلی بدھسٹوںنے سرکاری دفتر میں علحدہ مملکت کا پرچم لہرایا، ہجوم کو منتشر کرنے میں ناکامی کے بعد فائرنگ
یانگون ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سات نسلی راکھین بدھسٹوں کی موت ہوگئی جب میانمار پولیس نے ایک سرکاری دفتر پر قبضہ کی کوشش کرنے والے ہجوم پر فائرنگ کردی، عہدیداروں نے آج یہ بات بتائی۔ یہ اس مملکت میں تشدد کا تازہ واقعہ ہے جہاں اب پہلے سے ہی نسلی اور مذہبی نفرت کی وجہ سے عدم استحکام کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ لگ بھگ 5000 بدھسٹ گذشتہ روز ایم راک یو ٹاؤن میں ایک سرکاری تقریب کیلئے جمع ہوئے۔ یہ ٹاؤن ابھی تک ملٹری کی خطہ کی اقلیتی روہنگیا مسلم برادری کے خلاف جاری جارحانہ مہم سے دوچار ہوا تھا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ کیوں یہ ریالی تشدد کا شکار ہوئی لیکن نسلی راکھین آبادی جن کی اکثریت غریب اور سماج میں الگ تھلگ ہے، وہ میانمار کی مملکت سے دیرینہ رقابت رکھتے ہیں کیونکہ حکومتی سطح پر نسلی بامر برادری کا غلبہ ہے۔ یہ جھڑپیں اسی روز پیش آئی جب میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق ایک معاہدہ پر دستخط کئے گئے جس کے تحت لگ بھگ 655,000 مسلم روہنگیا پناہ گزینوں کی سرحد پار واقع کیمپوں سے واپسی شروع ہوگی۔ راکھین والوں کا کہنا ہیکہ روہنگیا اس بدھسٹ سرزمین پر غیرقانونی ’بنگالی‘ تارکین وطن ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے ہجوم کو موردالزام ٹھہرایا کہ اس کی طرف سے سنگباری کے ذریعہ تشدد کی شروعات ہوئی اور وہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹیو آفس میں گھس پڑے اور وہاں راکھین اسٹیٹ کا پرچم لہرایا۔ ترجمان کرنل میوسوئے نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سیکوریٹی فورسیس نے ہجوم کو منتشر ہوجانے کیلئے کہا اور انتباہ کے طور پر ربر کی گولیوں سے فائر کئے لیکن ہجوم پر کچھ اثر نہ ہوا، اس لئے پولیس کو حقیقی گولیوں کا استعمال کرنا پڑا۔ اس کارروائی میں سات افراد ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے۔ ہجوم کے حملہ میں زائد از 20 پولیس ملازمین زخمی ہوئے۔ ہجوم راکھین اسٹیٹ کو اقتداراعلیٰ سونپنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگاتا رہا۔ اس واقعہ کی تصاویر سے معلوم ہوا کہ ایم راک یو ٹاؤن میں عارضی مردہ خانے کے فرش پر نعشیں رکھی ہوئی ہیں اور مہلوکین کے کپڑوں پر خون کے نشانات ہیں۔ سیکوریٹی فورسیس کی فائرنگ سے میانمار کے پہلے سے کشیدہ علاقہ میں صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ اراکن نیشنل پارٹی کے ایم راک یو حلقہ کی نمائندگی کرنے والے قانون ساز اولاسا نے کہا کہ ہلاکتیں پیش آئی ہیں اور انہوں نے پولیس کارروائی کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بندوقوں کے استعمال کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہیکہ اگر پولیس پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرتی تو جھڑپیں روکی جاسکتی ہیں۔ وہ راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے ہجوم کو پیشقدمی سے روک سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ایم راک یو ٹاؤن جو آخری راکھین سلطنت کے قدیم بدھسٹ کامپلکس کا مقام ہے، تشدد کے مرکزی مقام سے چند درجن کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے، جہاں سے روہنگیا آبادی گذشتہ اگست سے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں وطن چھوڑتے ہوئے بنگلہ دیش میں منتقل ہوچکی ہے۔ اس دوران امریکہ اور اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش سے روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار کو سلامتی کے ساتھ رضاکارانہ واپسی پر زور دیا۔ ریڈکراس کے تخمینوں کے مطابق ساری شمالی ریاستیں راکھین میں صرف لگ بھگ 300,000 روہنگیا رہ گئے ہیں۔ نیویارک میں یو این سکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس نے بھی روہنگیا پناہ گزینوں کی رضاکارانہ طور پر بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT