Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / علحدہ ریاست تلنگانہ تمام طبقات کی تعلیمی، فلاحی و ترقی کی جانب پہلا قدم

علحدہ ریاست تلنگانہ تمام طبقات کی تعلیمی، فلاحی و ترقی کی جانب پہلا قدم

نرمل۔/20فبروری،( جلیل ازہر کی رپورٹ ) لوک سبھا میں علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد ہر طبقہ میں خوشی و مسرت پائی جاتی ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور پارٹی کارکنوں نے سڑکوں پر رقص کرتے ہوئے تلنگانہ کی خوشی میں جشن منایا۔ جس میں مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ کل شام مسلم ایمپلائز اسوسی ایشن نرمل کے زیر اہتم

نرمل۔/20فبروری،( جلیل ازہر کی رپورٹ ) لوک سبھا میں علحدہ ریاست تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد ہر طبقہ میں خوشی و مسرت پائی جاتی ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور پارٹی کارکنوں نے سڑکوں پر رقص کرتے ہوئے تلنگانہ کی خوشی میں جشن منایا۔ جس میں مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ کل شام مسلم ایمپلائز اسوسی ایشن نرمل کے زیر اہتمام موٹر سیکل ریالی نکالی گئی جو نرمل کے مختلف راستوں سے گذرتی ہوئی ویویک چوک پہنچ کر جلسہ میں تبدیل ہوگئی۔ اس موقع پر صدر اسوسی ایشن مسٹر سید ہدایت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل میں سیما آندھرا والوں کی رکاوٹ کے باوجود مرکزی حکومت نے ہماری دیرینہ جدوجہد اور ہمارے جذبات کا احترام کرتے ہوئے علحدہ ریاست کا اعلان کیا جو اس علاقہ کے تمام طبقات کی تعلیمی، فلاحی ترقی کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہم ان نوجوانوں کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کرسکتے جنہوں نے علحدہ ریاست کی تشکیل کے لئے موت کو گلے لگالیا۔ حصول تلنگانہ کے ساتھ ہی تلنگانہ میں حکمرانی کرنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تحریک میں اُجڑ ے گھروں کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ مسلم ایمپلائز یونین اس سلسلہ میں قربانی دینے والوں کے پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور آنے والے دنوں میں قربانی دینے والے نوجوانوں کی بازآبادکاری کیلئے اس خاندان کی مدد کیلئے نمائندگی کرے گی۔ اس موقع پر سید عارف علی اعزازی صدر نے کہا کہ علحدہ ریاست کے قیام کیلئے بل کی منظوری تلنگانہ کے ملازمین، طلباء اور نوجوانوں کی قربانیوں کی مرہون منت ہے۔ سیاسی حالات کا ہرگوشہ عوام کی نگاہ میں ہے،

وہ دنیا کے سامنے آئنہ کی طرح ہے۔2000 سے اس تحریک میں بے لوث انداز میں کئی زندگیاں موت سے جا ملیں، کئی مانگوں کا سندور اُجڑ گیا، ان گنت دلہنیں بیوہ ہوگئیں جانے کتنے باپ ایسے ہیں جن کے کاندھے جوان بیٹوں کے جنازے کے بوجھ سے ٹوٹ گئے۔ اس کے باوجود سیما آندھرا کی بے رحم قیادت جنہوں نے تلنگانہ کو کنگال بناکر چھوڑا اور ریاست کی تقسیم کا وقت آیا تو اپنے ناپاک عزائم کے ذریعہ ہر زاویہ سے ناکام کوشش کی کہ ریاست کی تقسیم روک دی جائے تاہم قد آور قائدین جنہوں نے بھی اس بل کی منظوری میں اپنا کردار نبھایا ہے ان تمام کو مسلم ایمپلائز کی جانب سے دلی مبارکباد کے ساتھ ساتھ اظہار تشکر کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بابائے تلنگانہ پروفیسر جئے شنکر کے دیرینہ خواب کی تکمیل کا ثمر نہیں علحدہ ریاست کی شکل میں حاصل ہوئے۔ مستقبل میں تلنگانہ کے ہر طبقہ کی ترقی یقینی ہے۔ ہمیں قیادت سے بھرپور امیدیں وابستہ ہیں۔ اس موقع پر انصار احمد ساحل، عرفان شیخ، امتیاز احمد راہی، سید نصرت علی، امین الدین، محمد فہیم، عبدالباری، علیم الدین، محمد ابراہیم، وحید احمد خاں، منیر الدین، محمد ارشد علی، فیروز خان، ماجد محی الدین، صلاح الدین اور ایم اے لائق کے علاوہ مسلم ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ملازمین نے آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا۔

TOPPOPULARRECENT