Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / علحدہ ریاست تلنگانہ کے ایک سال بعد بھی اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم

علحدہ ریاست تلنگانہ کے ایک سال بعد بھی اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم

دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی سرد مہری ، ملازمین الجھن کا شکار
حیدرآباد۔/24جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے قیام کو ایک سال کا عرصہ گذرنے کے بعدبھی کئی اقلیتی ادارے آج تک دونوں ریاستوں میں منقسم نہیں ہوئے۔ دونوں ریاستوں کی اقلیتی اداروں سے عدم دلچسپی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ حکومتوں نے اداروں کی تقسیم کے عمل کی رفتار کو سُست رکھا جس کے نتیجہ میں آج بھی اہم اقلیتی ادارے تقسیم نہیں ہوسکے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے شیڈول 10میں شامل اداروں کی تقسیم ابھی باقی ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری سید عمر جلیل نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تقسیم کے عمل میں تیزی پیدا کریں۔ سید عمر جلیل نے مختلف اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی و سکریٹری اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، ڈائرکٹر دائرۃ المعارف پروفیسر مصطفی شریف اور دوسروں نے شرکت کی۔ اقلیتی اداروں میں صرف اقلیتی فینانس کارپوریشن اور حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا ہے جبکہ اردو اکیڈیمی، وقف بورڈ، سی ای ڈی ایم، سروے کمشنر وقف اور وقف ٹریبونل کی تقسیم ابھی باقی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن حال ہی میں دونوں ریاستوں کے درمیان تقسیم کردیا گیا اور ملازمین کی تقسیم کا عمل بھی تقریباً مکمل ہوگیا جبکہ دونوں ریاستوں میں اثاثہ جات اور فنڈز کی تقسیم پر تنازعہ برقرار ہے۔ حج کمیٹی کی تقسیم مکمل ہوگئی اور تلنگانہ حج کمیٹی آندھرا پردیش حکومت کے ساتھ یادداشت مفاہمت کے ذریعہ آندھرا پردیش کے عازمین کیلئے خدمات انجام دے رہی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی تقسیم کا مسئلہ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے پاس زیر التواء ہے اور توقع ہے کہ ضروری قواعد اور ضوابط کی تکمیل کے بعد بہت جلد مرکز وقف بورڈ کی تقسیم کا اعلامیہ جاری کردے گا۔

دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کا مشترکہ اثاثہ برقرار رہے گا اور وہ حیدرآباد میں ہی قائم رہے گا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اردو اکیڈیمی، سی ای ڈی ایم اور دیگر اداروں کی تقسیم سے متعلق فائیل منظوری کیلئے حکومت کو روانہ کریں۔ ان اداروں کی تقسیم میں ملازمین اور اثاثہ جات کی تقسیم کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف مائناریٹیز کا ہیڈ آفس حیدرآباد میں برقرار رہے گا جبکہ آندھرا پردیش میں موجود سنٹر کے مراکز آندھرا پردیش حکومت کو الاٹ کئے جائیں گے۔ اس طرح ملازمین بھی ان کے آبائی مقام کے اعتبار سے دونوں ریاستوں میں منقسم ہوں گے۔ وقف بورڈ کی تقسیم کے بعد ٹریبونل اور سروے کمشنر کی تقسیم میں آسانی ہوگی۔ اقلیتی اداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب دونوں ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین اُلجھن کا شکار ہیں اور متعلقہ ریاستوں کے کام کاج میں مداخلت کی شکایت ملی ہے۔آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے کئی ملازمین چاہتے ہیں کہ وہ تلنگانہ میں برقرار رہیں جبکہ تلنگانہ کے ملازمین اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کی تقسیم کے بعد ان اداروں میں اسٹاف کی کمی سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں درکار اسٹاف کے تقرر کیلئے سکریٹری کی سطح پر بارہا حکومت سے نمائندگی کی گئی لیکن آج تک حکومت نے نئے تقررات نہیں کئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT