Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / علماء اور مشائخین کی سرگرم سیاست میں داخلہ ایماندارانہ سیاست میں مددگار

علماء اور مشائخین کی سرگرم سیاست میں داخلہ ایماندارانہ سیاست میں مددگار

جمعیت العلماء کے سینکڑوں کارکنوں کی ٹی آر ایس میں شمولیت، محمد محمود علی نے خیرمقدم کیا
حیدرآباد۔9جنوری(سیاست نیوز) علماء او رمشائخین کا سرگرم سیاست میںداخلہ صاف اور شفاف او رایماندارانہ سیاست کے فروغ میںمددگارثابت ہوگا جس کی آج اشد ضرورت ہے ۔ آج سیاسی قائدین کے متعلق عوامی رائے نہایت افسوسناک ہے ۔ لوگوں کی رائے تبدیل کرنے کے لئے مذہبی لوگوں کا سرگرم سیاست میںداخلہ ضروری ہے ۔ آج یہاں منسٹر س کوارٹرس بنجارہ ہلز میں جمعیت العلماء گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے علماء ‘ مفتیان اور مولویوں کی ٹی آر ایس قائدین عبدالمقیت چندہ کی قیادت میں ٹی آر ایس پارٹی میںشمولیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نائب وزیراعلی الحاج محمد محمودعلی ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ جناب محمد محمود علی نے ریاست تلنگانہ کے مشائخین وعلماء کو قیمتی اثاثہ قراردیا۔جناب محمد محمود علی نے کہاکہ علماء او رمشائخین کا سرگرم سیاست میں داخلہ ریاست کی سیاست کو ایک نئی جہد دے گا۔انہوں نے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اورچیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کو مسلمان مشائخین کا بہی خواہ قراردیا۔انہوں نے کہاکہ ہم او رہماری حکومت مشائخین کا احترام کرتے ہیںاور انہیں ریاست کی سرگرم سیاست کا حصہ بننے کی دعوت بھی دیتے آرہے ہیں۔جناب محمد محمودعلی نے ریاست تلنگانہ کے اقلیتوں کے تئیں حکومت تلنگانہ کے اقدامات کا بھی اس موقع پرذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کے لئے اقامتی اسکولس کے قیام کا مقصدریاست کے مسلمان جنہیںپچھلے ساٹھ سالوں میں تعلیمی پسماندگی کاشکار بنادیا گیا ہے انہیں دوبارہ تعلیم سے مربوط کرنا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کسی بھی قوم کی ترقی اس کے تعلیمی معیار پر منحصر ہوتی ہے اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دورکرنے کیلئے حکومت تلنگانہ نہایت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے ۔ جناب محمدمحمودعلی نے کہاکہ پہلے مرحلے میں71اقامتی اسکولس کا قیام عمل میںلایاگیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اقامتی اسکولس قائم کئے جائیںگے اور یہ سلسلہ مسلمانوں کو مکمل طور پر تعلیم یافتہ بنانے تک جاری رہے گا۔جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کے ماضی کا احیاء ٹی آر ایس پارٹی کی اولین ذمہ داری ہوگی اور اس کوپورا کرنے کے لئے تمام خطوط پر کام انجام دئے جارہے ہیں۔جناب محمد محمود علی نے جمعیت العلماء گریٹر حیدرآباد کے قائدین کی ٹی آر ایس پارٹی میںشمولیت پر ان کا خیرم مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پارٹی کے سیکولر نظریہ کو پروان چڑھانے میںجمعیت کے مذکورہ قائدین اہم رول ادا کریں گے ۔جناب عبدالمقیت چندہ نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے جمعیت العلماء کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہاکہ جمعیت مجاہدین جنگ آزادی کی جماعت ہے اور جمعیت کے کم وبیش دس لاکھ علماء نے ہندوستان کی آزادی کا جام شہادت نوش فرمایا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ لوگ ٹی آر ایس سربراہ اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی سکیولر شبیہہ سے متاثر ہوکر پارٹی میںشمولیت کا اعلا ن کیا ہے۔ ٹی آر ایس سینئر قائد خواجہ عارف‘ محمد ابراہیم بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ پارٹی میںشامل ہونے والی جمعیت علماء کے قائدین مولانا مفتی معین الدین نائب صدر جمعیت العلماء گریٹر حیدرآباد‘ مولانا صفد رعلی لیگل سیل ملک پیٹ‘مفتی محمد بن طیب صدر یوسف گوڑہ‘ حافظ خضر الدین صنعت نگر‘شہاب الدین قاسمی جنرل سکریٹری اوپل‘ مفتی اشرف علی جنرل سکریٹری ملک پیٹ‘ مفتی عبدالرحمن نائب صدر‘ سید عمر شفیع آرگنائزنگ سکریٹری گریٹر حیدرآباد‘ شیخ اسماعیل علی اشرفی‘ مولانا نصیر الدین قاسمی‘مولانا محمد عبدالرحمن ‘ حافظ محمد یوسف‘ حافظ محمد فراز کے علاوہ شاستری پورم علاقے سے منصور خان اور سید ایوب کی قیادت میںسینکڑوں افراد نے بھی ٹی آریس پارٹی میںشمولیت اختیار کی جن کا پارٹی کھنڈوا پہناکر جناب محمد محمودعلی نے ٹی آ رایس پارٹی میں خیرمقدم کیا۔

TOPPOPULARRECENT