Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / علماء ودانشوران اور بورڈ کے ارکان کا اجلاس

علماء ودانشوران اور بورڈ کے ارکان کا اجلاس

صدرجمہوریہ سے ملاقات کا فیصلہ ،کئی اہم امور پر اتفاق رائے
ممبئی۔8جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کل ہند مسلم پرسنل لا ء￿ بورڈ کے پرچم تلے آج ممبئی کے بھائیکلہ المالطیفی ہال میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مہاراشٹر ا بورڈ کے تمام مردو خواتین ارکان و متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی اور مستقبل کے لئے ایک لائحہ عمل طے کیا گیا اور طلاق ثلاثہ بل کو موجودہ شکل میں منظوری سے روکنے کا امکانات کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس میں طلاق ثلاثہ بل کے سلسلے میں غور وخوض کیا گیا اور لوک سبھا سے بل منظور کئے جانے کے بعد راجیہ سبھا میں بل پیش کئے جانے پر ہونے والے ہنگامہ اور اپوزیشن کی مخالفت پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔اطلاع کے مطابق شرکائے اجلاس نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیاکہ ہرعلاقہ میں نامزد نمائندوں کا وفد راجیہ سبھا کے ارکان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے ملاقات کرکے موجودہ طلاق ثلاثہ بل کی خامیوں کی نشاندہی کرے اور یہ بتائے کہ اس بل سے خواتین کی دشواریوں میں اضافہ ہوگا ، سماجی تانا بانا خراب ہوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔ اجلاس میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ ہم خود بھی سماج میں اس جانب توجہ دیں ، بنیادی سطح پر مسلمانوں کے درمیان طلاق کے سلسلے میں ہونے والی بے اعتدالیوں کے لئے مردوں اور عورتوں کے درمیان کوششیں جاری رکھیں اور جب بھی پرسنل لابورڈ کسی عوامی جد وجہد ضرورت محسوس ہو اس کا بھر پور تعاون کرنے کیلئے تیار رہیں۔اجلاس میں بورڈ کے قومی ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے بھی شرکت کی اور انہوںنے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے اور بل کی مخالفت کیلئے انہیں آمادہ کرنے پر کی گئی کوششوں کی تفصیل بتائی۔ 28 دسمبر کو لوک سبھا میں بل پیش ہوجانے کے بعد بورڈ نے نئی حکمت عملی مرتب کی اور اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کا پروگرام بنایاگیا ،مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ،مولانا فضل الرحمن مجددی اور ڈاکٹر اسماء زہر ا پر مشتمل وفد نے راجیہ سبھا میں بل پیش ہونے سے پہلے تین دن تین رات مسلسل سفر کرکے مختلف سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے ملاقات کرکے ان کی ذہن سازی کی اوربل کے مضمرات سے انہیں آگاہ کیا۔وفد نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد اور کانگریس کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے بھی خصوصی ملاقات کی اور کانگریس کے دونوں سینئر قائدین اسے سنجیدگی اختیار کرنے کی خواہش کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کی کہ موجودہ شکل میں یہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہونے دیا جائے گا ،ہم پوری کوشش کریں گے یہ بل سلیکٹ کمیٹی میں جائے اور وہاں کچھ ضروری ترمیم کی جائے چنانچہ راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت 18 اپوزیشن پارٹیوں نے سخت مخالفت کی اور مودی حکومت سرمائی اجلاس میں یہ بل منظور کرانے میں ناکام ثابت ہوئی۔مولانا نعمانی نے مزید بتایاکہ بورڈ کے وفد نے صدرجمہوریہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ یہ معلوم ہواکہ حکومت آرڈیننس لانے جارہی ہے اس لئے صدر جمہوریہ سے مل کر یہ درخواست کریں گے بل کے تعلق سے کسی طرح کے آرڈیننس پر دستخط نہ کیا جائے کیوں کہ اس سے مسلم خواتین کو شدید نقصان پہونچے گا۔اجلاس میں یوسف مچھالہ امین سولکر ، مبین سولکر ، مہتاب حسینی سمیت کئی ماہرین قانون نے بھی قانونی پہلووں کی نشاندہی کی ، مالیگاوں سے مولانا عبد الحمید اظہری ، آکولہ سے مفتی اشفاق قاسمی ، ہنگولی سے مفتی جنید قاسمی، پونہ سے مولانا نظام الدین فخرالدین سمیت تمام ارکان نے پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی، علاوہ ازیں مرکز المعارف کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی ،انجمن اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی ، مفتی سعید الرحمان فاروقی، فرید شیخ ممبران بورڈ نیز ڈاکٹر عظیم الدین ، سلیم موٹر والا، سید فرقان ، فرید خان، زبیر اعظمی ، مولانا سید احمد علی عابدی، مولانا انیس اشرفی، مولانا شریف صابری ، مولانا برہان الدین قاسمی ، قا ری صادق ، مولانا صغیر نظامی ‘ مولانا ذاکر۔ مونسہ بشری عابدی ، ذکیہ شیخ ، سمیہ نعمانی ، عشرت شیخ سمیت متعدد خواتین وحضرات اور مختلف مسلک کے علما نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور یہ وعدہ کیا کہ ہم ہر حال میں بورڈ کے ساتھ ہیں اورقانون کی مخالفت جاری رکھیں گے۔میٹنگ میں نظامت کا فریضہ مولانا محمود دریاآبادی نے انجام دیا۔

TOPPOPULARRECENT