Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / علم سے دوری مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا اصل سبب

علم سے دوری مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا اصل سبب

ملت میں سائنس وٹکنالوجی کا شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ، ڈاکٹر باقر حسین قریشی کا سمینار سے خطاب

ملت میں سائنس وٹکنالوجی کا شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ، ڈاکٹر باقر حسین قریشی کا سمینار سے خطاب
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : ہماری نئی نسل سے اگر پوچھا جائے کہ ذکریا الرازی کون تھے ؟ ابوالحسن طبری کا سائنسی ترقی میں کیا رول رہا ؟ ابن الہشیم نے علم بصریات میں کیا خدمات انجام دئیے ؟ ابن سینا کے دنیا پر کیا احسانات ہیں ؟ جابر بن حیان کو دنیا کیوں مانتی ہے ؟ ابوالقاسم زہراوی نے پیشہ طب میں کیسے انقلاب برپا کیا ؟ الخوارزمی اور الکندی ، عمر الخیام ، ابوبکر الرازی ، عباس ابن فرناس نے دنیا بالخصوص یوروپ کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے کیا کارنامے انجام دئیے ہیں ؟ تو ہمیں یقین ہے کہ وہ ان سوالوں کے جوابات نہیں دے پائیں گے ۔ حالانکہ یہ ان ہزاروں مسلم سائنسدانوں ، دانشوروں اور ماہرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے حساب ، طب ، سائنس ، انجینئرنگ ، علم فلکیات ، علم الارض ، علم الاعداد ، علم نباتات ، علم حیوانات ، علم جمادات ، سمندروں ، آسمانوں ، ہواؤں ، فضاؤں ، بادلوں ، دھاتوں ، غرض تمام علوم میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ ان کارناموں سے آج ساری دنیا مستفید ہورہی ہے ۔ لیکن ہماری بے حسی ، علم سے دوری ، سائنس و ٹکنالوجی سے بیزاری کے نتیجہ میں علوم کے میدان میں مسلمان دنیا کی دوسری قوموں سے بہت پیچھے ہوگئے ہیں ۔ ان فکر انگیز خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد باقر حسین قریشی نے سیاست کے محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس کا اہتمام ادارہ سیاست نے کیا تھا ۔ اسلام اور سائنس کے موضوع پر اپنے گہرے و عمیق مطالعہ کے ذریعہ ملت اسلامیہ کو غور و فکر کی دعوت دینے میں مصروف ڈاکٹر محمد باقر حسین قریشی نے پرزنٹیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ زندگی کے ہر شعبہ میں کئی سو برس تک دنیا کی قیادت رہنمائی اور امامت کرنے والے مسلمان آخر کیوں دوسروں سے پیچھے ہوگئے ؟ ڈاکٹر باقر حسین قریشی نے پر زور انداز میں کہا کہ آج ہماری بجائے دنیا کو اس بات پر حیرت ہے کہ جس مذہب کی مقدس کتاب کی پہلی آیت ہی علم اور پڑھنے لکھنے سے متعلق ہو وہ کیوں کر تعلیمی طور پر پسماندہ رہ سکتی ہے ۔ آج مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و حدیث میں ہماری رہنمائی کے لیے جو احکامات دئیے گئے انہیں ہم نے فراموش کر کے خود کو ذلت و خواری کے دلدل میں کیوں دھنسا دیا ہے ؟ انہوں نے اپنے فکر انگیز خطاب میں یہ بھی کہا کہ کچھ سو سال قبل تک دنیا کے سپر پاور رہنے والے مسلمان آج دفاعی شعبہ میں اتنے کمزور کیوں ہیں اس پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہمارے نبی کریم ؐ پر نازل کی گئی یہ کتاب مبین نے مسلمانوں کو بار بار تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے ۔ انہیں اللہ کی نشانیوں ، اس کی نعمتوں پر غور کرنے کی راہ فراہم کی ہے ۔ قرآن مجید میں کم از کم 800 مرتبہ اللہ نے اپنے بندوں کو تدبر و تفکر کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس کائنات پر غور کیا ۔ تدبر و تفکر کے ذریعہ اس کو سمجھا خالق کائنات نے ان کے ذہن و قلب کو علم سے منور کردیا ۔ سوچ و فکر میں وسعت عطا فرمائی اور کائنات کے سربستہ ہائے راز ایک ایک کر کے ان کے سامنے کھول کر رکھ دئیے ۔ یہ دراصل انسان کو اس کی کوششوں اس کے غور و فکر اور تدبر و تفکر کا انعام تھا ۔ ڈاکٹر باقر حسین قریشی کے مطابق قرآن اور سنت رسول ﷺ سے دوری کے نتیجہ میں ہم علم و عمل سے دور ہوگئے ۔ آج 57 مسلم ممالک ہیں لیکن ان میں یونیورسٹیوں کی تعداد زائد از پانچ سو ہے ۔ جب کہ صرف ہمارے ملک ہندوستان میں دو ہزار کے قریب یونیورسٹیز کام کررہی ہیں ۔ امریکہ میں جامعات کی تعداد 8000 تک پہنچ گئی ہے ۔ اسی طرح دنیا کے 500 سرفہرست یونیورسٹیز میں کسی مسلم یونیورسٹی کا شمار نہیں ہوتا ۔ مسلم سائنسدانوں کے معاملہ میں بھی ہم بہت پچھے ہیں ۔ نوبل انعام پانے والے 11 مسلمانوں میں صرف دو کو نوبل انعام عطا کیا گیا ۔ ہماری آبادی 1.5 ارب سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس کے برخلاف دنیا میں 0.2 فیصد آبادی رکھنے والے یہودیوں نے اب تک دئیے گئے نوبل انعامات میں سے 25 فیصد انعامات یہودی سائنسدانوں نے حاصل کئے ۔ آج مسلمانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ میں دوسری اقوام سے پیچھے کیوں ہوگئے ۔ جب مسلمان اس بارے میں سنجیدگی سے غور کریں گے تب ہی ہماری تعلیمی پسماندگی دور ہوگی ۔ ڈاکٹر باقر حسین قریشی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں علم ، علم اور علم کی باتیں ہی پنہاں کریں ۔ انہیں یہ بتائیں کہ علم کے ذریعہ ہی مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرسکتے ہیں ۔ اپنے سنہری سائنسی و علمی دور کا احیاء کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے ہر مسلمان مرد و خواتین کو چاہئے کہ ملت میں علمی شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری نبھائے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو اسباب پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ۔ اس موقع پر حاضرین نے ڈاکٹر باقر حسین قریشی سے سوالات بھی کئے ۔ آخر میں محمد ریاض احمد نے شکریہ ادا کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT