Wednesday , June 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / علم کی جہاں تک ہوسکے بغیر کسی غرض کے تشہیر کرے

علم کی جہاں تک ہوسکے بغیر کسی غرض کے تشہیر کرے

سید زبیر ہاشمی، استاد جامعہ نظامیہ

سید زبیر ہاشمی، استاد جامعہ نظامیہ

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ساری کائنات کا خالق حقیقی و مالک حقیقی صرف اور صرف اﷲسبحانہ وتعالیٰ ہی ہے بالکل اسی طرح سب کا معلّم وہی ذات واحد ہے۔ اﷲسبحانہ وتعالیٰ نے فرشتوں کو علم دیا اور تخلیق آدم علیہ السلام کے بعد انہیں بھی کائنات کی اشیاء کے نام اور ان کی ماہیت سے آگاہ کیا۔ جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت انسان کی خلقت کیا تو فرشتے بارگاہ رب العالمین میں یہ عرض کئے کہ ائے پرودگار: تو نے ایسی مخلوق کو کیوں اپنا جانشین بنایا جو زمین میں فساد پھیلائیگی۔جب کہ ہم توتیری تسبیح اور تقدیس بیان کرتے ہیں؟ تو جواباً اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میں جو کچھ جانتا ہوں تم سب نہیں جانتے۔

اﷲسبحانہ وتعالیٰ نے فرشتوں سے مختلف اشیاء کے نام پوچھا تو وہ کہنے لگے جس کو خالق کون و مکاں قرآن مجید میں اس طرح بیان کرکے محفوظ کردیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اے ذات پاک! تو نے ہمیں جو سکھایا ہے اس کے سوا کوئی علم نہیں‘‘ ۔ {سورئہ بقرہ، ۳۲}
اس کے بعد حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ان اشیاء کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تمام کے نام بتادیئے۔ اﷲسبحانہ وتعالیٰ نے اس طرح حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر علم کی بناپر برتری کو ثابت فرمادیا۔ حضرت انسان کا سب سے پہلا استاد اﷲسبحانہ وتعالیٰ ہی ہے۔ اور دنیا کے باقی تمام استاد خلیفۃ اﷲ فی الارض یعنی اﷲسبحانہ وتعالیٰ کے نائب{جانشین} ہیں۔ اس لئے معلمی کا پیشہ نہایت ہی اہم ہے اس کی وجہ صرف اور صرف نیابتِ الٰہی کے باعث ہے۔
جیسا کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام پر چالیس برس کی عمر میں وحی کا نزول ہوا ہے۔ سب سے پہلے جو وحی کا نزول ہوا وہ ہیں سورئہ علق کی ابتدائی پانچ آیات جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’۱۔ پڑھئے آپ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،۲۔ جس نے انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا، ۳۔پڑھئے اور آپ کا رب بڑا کرم والا ہے، ۴۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، ۵۔ انسان کو وہ سکھلایا جو وہ نہ جانتا تھا‘‘۔ {سورئہ علق ۱تا ۵}
ان آیات سے علم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اگر کوئی شخص ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ علم حاصل کرے اور آگے تحریر کی جانے والی یہ دعا کثرت کے ساتھ پڑھتے رہیں جس کو حضور علیہ السلام نے اختیار کیا جو یہ ہے: رَبِّ زِدْنِـیْ عِـلْـمًـا {طٰہ ۱۱۴}

حضور نبی کریم علیہ السلام کے عہد مبارک سے پہلے عربوں میں پڑھنا اور پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آقائے دوجہاں علیہ السلام علم کی اہمیت کو اجاگر کئے اور اسی کے پیش نظر اس کی ترویج و اشاعت کی ابتداء فرمائی۔ رسول پاک علیہ السلام صحنِ مسجدِ نبوی میں صفہ نامی درسگاہ بھی قائم فرمائے جس میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین رات دن خدمت علم دین میں مصروف رہتے تھے۔
معلم اور متعلم کی فضیلت : صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین میں طلب علم کا بہت شوق و جذبہ تھا یہی وجہ تھی کہ حضور علیہ السلام یہ فرمایا کرتے : ٭ عالِم کی روشنائی شہید کے خون جیسی مقدس ہے۔ {احیاء العلوم، اول} ٭ جو شخص علم کی تلاش کے لئے گھر سے نکلتا ہے وہ خدا کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔{ترمذی}

ہر علم ِنافع کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا طَـلَـبُ الْـعِـلْـمِ فَـرِیْـضَـۃٌ عَـلٰـی کُـلِّ مُـسْـلِمٍ ’’علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘{قولِ رسول علیہ السلام}اب سوال یہاں یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ آخریہ علم کونساہے؟ دینی ہے یا دنیوی تو بتلایا گیا ہے کہ ہر وہ علم جو نافع ہو حاصل کیا جاسکتاہے۔ یاد رکھئے کہ علم ایک ضرورت کے تحت حاصل کیا جاتا ہے اور ایک مقصد کے تحت۔ مقصد ہے علم دین حاصل کرنا اور ضرورت ہے علم دنیا حاصل کرنا۔ مگر فی زمانہ صرف ضرورت کو ہی ترجیح دی جارہی ہے مقصد کو چھوڑ دیا جارہا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔
معلم کے فرائض : ۱) معلم باکردار اور کردار سازہو۔ ۲) حسن سلوک یعنی اندازِ تعلیم دلنشیں ہوتوشاگرد پر اچھا اثر ہوتا ہے۔۳) علم کی حفاظت کرنے والاہو۔ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ حفاظت ِعلم تین طریقے سے ممکن ہے اور وہ یہ ہیں ملاحظہ ہو: {الف} معلم مطالعہ میں مصروف رہے ، بغیر مطالعہ کے نہ پڑھائے {با}معلم جو علم حاصل کیا ہے اس پر عمل بھی کرے {جیم} علم کی جہاں تک ہوسکے بغیر کسی غرض کے تشہیر کرے۔ متعلم {شاگرد} کے فرائض ٭ تعظیم ِ معلم ٭ ذوق ِعلم۔ ہر طالب علم کو چاہئے کہ وہ حضرت سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی اس بات کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھے جو کہ ایک انمول اور حکمت آمیز ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’دولت کا خیال کرو تو دیکھو کہ دنیا میں تم سے کم کتنے ہیں اور علم کا خیال کرو تو دیکھو کہ تم میں بڑھے ہوئے کتنے ہیں۔ حصول ِعلم میں مسابقت کرنی چاہئے نہ کہ حصول مال و زر میں۔ متعلم کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ بے معنٰی یا استاد کو تنگ کرنے کے لئے سوال کرنے سے احتراز کرے۔ اگر سوال کرنا بھی ہوتو نہایت ادب و اطمینان کے ساتھ کیا جائے کیونکہ سوال کرنا یہ بہت بڑی اچھی بات ہے جیسا کہ حضور نبی کریم علیہ السلام نے سوال کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ حُـسْـنُ السُّؤالِ نِـصْـفُ الْـعِـلْـمِ {مشکوۃ، کتاب الأدب} ترجمہ :اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ یہ سوال بہت ہی دائرئہ ادب میں رہ کر کیا جائے تب ہی تو فائدہ ہوگا ورنہ سائل {متعلم} کو خسارہ {نقصان} ہوگا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہرمعلم و متعلم کو اپنے اپنے حقوق بہتر طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
[email protected]

TOPPOPULARRECENT