Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / علیحدگی پسندوں سے بات چیت کا حکومت کو مشورہ

علیحدگی پسندوں سے بات چیت کا حکومت کو مشورہ

کانگریس وفد کے دو روزہ دورہ کشمیر کا آغاز ، مختلف تنظیموںسے نمائندگیوں کی سماعت

سرینگر ۔ /16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے مرکز اور جموں و کشمیر کی حکومت پر زور دیا ہے کہ کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بدستور کھلا رکھا جائے ۔ ڈاکٹر سنگھ کی قیادت میں کانگریس کا یہ وفد کشمیر کے دو روزہ دورہ پر ہے جو وادی کی تازہ ترین صورتحال پر مختلف افراد ، اداروں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کررہا ہے ۔

حلقہ سری نگر میں لوک سبھا کے ضمنی انتخاب کے موقع پر اس ریاست میں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد اے آئی سی سی کا پالیسی و منصوبہ ساز گروپ تشکیل دیا گیا تھا ۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد ، سابق وزیر فینانس پی چدمبرم اور اس پارٹی کی جنرل سکریٹری امبیکا سونی پیانل کے دیگر ارکان میں شامل ہیں ۔ کانگریس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس پیانل نے یہاں آمد کے فوری بعد جموں و کشمیر پردیش کانگریس کی عاملہ کمیٹی کا ہری نواس پر اجلاس طلب کیا ۔ یہ پیانل مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ کشمیر کے مختلف وفود سے ملاقات و بات چیت کرسکتا ہے

جن میں شہری حقوق تنظیمیں ، شیعہ انجمن ، 2014 ء کے سیلاب کے متاثرین ، زعفران کے کاشت کار ، کشتی رانوں ، تاجرین اور سیاحت سے وابستہ ادارے بھی شامل ہیں ۔ تاہم علحدگی پسند قائدین سے ملاقات کانگریس کے اس گروپ کے ایجنڈہ میں شامل نہیں ہے ۔ غلام نبی آزاد نے اجلاس کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت کو چاہئیے کہ وہ علحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’مرکز اور ریاستی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا چاہئیے کہ وہ کسی فریق سے بات چیت کریں ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ فریق کون ہیں ۔ لیکن وہ (حکومتیں ) ان کا نام لینے سے خوفزدہ ہورہی ہیں اور جب وہ ان فریقوں کی شناخت کرتے اور ان کا نام لینے میں خوفزدہ ہیں تو پھر مسئلہ کا حل کیسے ہوگا ؟ آزاد نے کہا کہ وزیرعظم نریندر مودی نے عوام کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور ملک میں عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ (مودی) چپ سادہ چکے ہیں ۔ آزاد نے کہا کہ ’’مودی نے کشمیر کی بدولت 90 فیصد انتخابی جیت حاصل کی ۔ ہماری حکمرانی میں پاکستانی سپاہیوں نے (لائن آف کنٹرول پر) ایک سپاہی کا سرقلم کردیا تھا لیکن اب بی جے پی کے اقتدار میں ایسے واقعات وقفہ وقفہ سے پیش آرہے ہیں اور وزیراعظم ہنوز خاموش ہیں ‘‘ ۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر آزاد نے کہا کہ کانگریس کی حکومت نے جنوبی کشمیر کو عسکریت پسندی سے پاک بنایا تھا لیکن ریاست میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ علاقہ تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT