Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / علیحدگی پسندوں کو مرکزی فنڈس غیر قانونی قرار دینے کی استدعا

علیحدگی پسندوں کو مرکزی فنڈس غیر قانونی قرار دینے کی استدعا

نئی دہلی 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک درخواست کی آئندہ ہفتہ سماعت سے اتفاق کیا جس میں جموں و کشمیر کے علیحدگی پسندوں کو مرکز سے جاری کئے جانے والے فنڈس کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دینے کی خواہش کی گئی ہے۔ جسٹس اے آر داوے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ پر مشتمل بنچ نے 14 ستمبر کو سماعت مقرر کی ہے۔ ایم ایل شرما ایڈوکیٹ نے شخصی طور پر یہ درخواست دائر کی ہے جس میں علیحدگی پسندوں کو مبینہ فنڈس کی تقسیم کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ اِس درخواست میں وزارت اُمور داخلہ، جموں و کشمیر حکومت اور سی بی آئی کو فریق بنایا گیا ہے۔
رکروٹمنٹ اسکام : اے سی بی کا دہلی وقف بورڈ دفتر پر دھاوا
نئی دہلی 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی حکومت کی اینٹی کرپشن برانچ نے آج مبینہ رکروٹمنٹ اسکام کے سلسلہ میں دہلی وقف بورڈ کے دفتر پر دھاوا کیا۔ اینٹی کرپشن بیورو کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ٹیم نے وقف بورڈ دفتر میں رکروٹمنٹ بے قاعدگیوں سے متعلق تمام  دستاویزات کا جائزہ لیا ہے۔ بورڈ کے صدرنشین امانت اللہ خان رکن اسمبلی عام آدمی پارٹی کے خلاف بے قاعدگیوں کی شکایت کی گئی تھی۔ اے سی بی نے گزشتہ ہفتہ ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ صدرنشین بورڈ امانت اللہ خان نے اے سی بی کی اِس کارروائی کو وقف بورڈ کے اُمور میں گورنر نجیب جنگ کی جانب سے مداخلت کی کوشش قرار دیا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ تمام قانونی مراحل کو پورا کرتے ہوئے تقررات کئے گئے لیکن گورنر وقف بورڈ کی کارکردگی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT