Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / علیحدگی پسندوں کی ہڑتال سے جموں میں معمولات زندگی معطل

علیحدگی پسندوں کی ہڑتال سے جموں میں معمولات زندگی معطل

NEW DELHI, APR 11 (UNI):-Jammu and Kashmir Chief Minister Mehbooba Mufti called on Union Home Minister Rajnath Singh, in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-52U

چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کا مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سے تبادلۂ خیال ، احتجاجی جلوس سے قبل یٰسین ملک گرفتار

نئی دہلی ۔ 11اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں حالیہ تشدد کے عروج کے پس منظر میں چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے آج مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے نئی دہلی میں ملاقات کی اور اُن کے ساتھ ریاستی صیانتی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور ریاستی صورتحال کو معمول پر لانے کے وسائل و ذرائع پر غورو خوض کیا گیا ۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب پولیس نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدرنشین یٰسین ملک کو گرفتار کرلیا جبکہ وہ فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ضلع کلگام میں ایک انکاؤنٹر کے دوران ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ علحدگی پسند قائدین نے اس مسئلہ پر کل عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ یٰسین ملک کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب کہ وہ جے کے ایل ایف کے ہیڈ آفیس سے آبی گذر لال چوک کی طرف احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کررہے تھے ۔ اُن کے ساتھ جے کے ایل ایف کے دیگر کارکنوں اور دوسری علحدگی پسند تنظیموں کے کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب جموں ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن نے آج بطور احتجاج اپنا کام بند کردیا۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ کٹھوا اجتماعی عصمت ریزی اور قتل مقدمہ کی سی بی آئی تحقیقات کی جائیں ۔ دریں اثناء پورے علاقہ میں معمولات زندگی معطل ہوگئے ۔ یہ بے رحمانہ عصمت ریزی اور 8 سالہ بکروال لڑکی کے قتل کے خلاف بند منایا گیا تھا ، اس کی وجہ سے معمولات زندگی معطل ہوگئے ۔ اقلیتی طبقہ ڈوگرا کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واردات انجام دی گئی جبکہ ریاستی پولیس نے وکلاء کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا ۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ ملزمین کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں ۔ جموں شہر کے تمام بازار آج ویران تھے ۔ دوکانیں اور تعلیمی ادارے بند تھے جبکہ سڑک پر سرکاری گاڑیاں گنی چنی تعداد میں مختلف راستوں پر چلتی نظر آرہی تھیں۔ ترنگا لہراتے اور اپنے مطالبات پر مبنی نعرے لگاتے ہوئے جے ایچ سی بی اے کے ارکان نے احتجاجی جلوس نکالے ، خانگی تعلیمی اداروں کی اکثریت بند تھی اور کسی ناخوشگوار واقعہ کے انسداد کیلئے پولیس نے زبردست حفاظتی انتظامات کئے تھے ۔ ہڑتال کو کئی سیاسی پارٹیوں اور سماجی گروپس کی تائید حاصل تھی ۔ صرف جے سی سی آئی نے تائید نہیں کی ۔ جلوس اور احتجاجی جلسے جو وکلاء نے کئے تھے تاحال پرامن ہیں۔ حالانکہ وکلاء نے شہر کے مختلف مقامات پر اپنی ہڑتال کی اپیل کامیاب ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، تاہم کسی بھی علاقہ سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ۔ ایس ایس پی جموں ویویک گپتا نے کہاکہ پولیس نے ضروری انتظامات کئے ہیں تاکہ ہڑتال کا دن پرامن طریقہ سے گذر جائے۔ ہڑتال کو کٹھوا ، تانبا اور اُدھم پور اضلاع سے بھی بھرپور تائید حاصل ہوئی ہے۔ وکلاء کے ایک گروپ نے عدالت کی سڑک کی جانی پور کے قریب ناکہ بندی کردی تھی اور ’’روہنگیا گو بیاک ‘‘ کے نعرے لگائے گئے ۔ اپوزیشن کانگریس اور پینتھرس پارٹی کے علاوہ دیگر کئی شہری تنظیموں نے ہڑتال کی تائید کی ہے اور بار اسوسی ایشن کے بیشتر مطالبات کو ماورائے عدالت قرار دیا ہے کیونکہ یہ مطالبے ایسے وقت کئے جارہے ہیں جبکہ مقدمہ ہنوز زیردوران ہے۔

TOPPOPULARRECENT