Monday , July 24 2017
Home / اداریہ / علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک

علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک

۰ڈھل جائے یہ مسموم فضاؤں کے اثر سے
ایسا کوئی بادل بھی میرے شہر پر برسے
علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک
مغربی بنگال میں علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک نے شدت اختیار کرلی ہے ۔ اس تحریک کو آگے بڑھانے جو احتجاج کیا جا رہا ہے وہ پرتشدد ہوگیا ہے ۔ احتجاجی عوام بھی تشدد پر اتر آئے ہیں اور مغربی بنگال کی پولیس بھی اس احتجاج کو کچلنے اور ختم کرنے کیلئے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کر رہی ہے ۔ یہ احتجاج علیحدہ گورکھالینڈ کے مطالبہ پر کیا جارہا ہے ۔ مغربی بنگال کے پہاڑی علاقوں اور خاص طور پر دارجلنگ اورا طراف کے علاقوں میں رہنے والے نیپالی زبان بولنے والے قبائلی عوام چاہتے ہیں کہ ان کیلئے علیحدہ ریاست کی تشکیل عمل میں لائی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں حالانکہ ان کی غالب آبادی ہے لیکن اقتدار ہمیشہ ہی بنگال کے عوام کے پاس رہتا ہے اور ان کے حق تلفی ہو رہی ہے ۔ علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک حالانکہ حالیہ عرصہ میںا ب شدت اختیار کر رہی ہے لیکن یہ ایک قدیم تحریک ہے اور ابتداء ہی سے اس میں وقفہ وقفہ سے احتجاج دیکھنے میں آیا ہے ۔ نیپالی زبان بولنے والے قبائلی عوام کا احساس ہے کہ بنگال کے حکمرانوں نے ان کی حق تلفی کی ہے اور پہاڑی علاقوں کی ترقی کو عمدا نظر انداز کیا ہے ۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ پہاڑی علاقوںمیں ترقی بالکل برائے نام رہی ہے ۔ ریاست میں کمیونسٹ اقتدار کے دوران بھی حالانکہ یہ احتجاج وقفہ وقفہ سے ابھرتا رہا ہے لیکن کمیونسٹ حکمرانوں نے بھی اس احتجاج کو دبانے میں طاقت کا استعمال کیا تھا ۔ اس کے علاوہ احتجاج میں شامل قبائلیوں میں اختلافات پیدا کرتے ہوئے اس احتجاج کو کمزور بھی کیا گیا تھا ۔ کچھ قائدین کو عہدے دیتے ہوئے انہیں اس سے دور کردیا گیا تھا اور کچھ قائدین کو قانونی کارروائیوں کے ذریعہ احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اب ممتابنرجی کی حکومت کے قیام کے بعد سے اس علاقہ کی ترقی پر پہلے کی بہ نسبت زیادہ توجہ دی گئی ہے ۔ مختلف قبائلیوں کی ترقی کیلئے علیحدہ بورڈز قائم کئے گئے ہیں ۔ پہاڑی علاقوں میں عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور انہیںسہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی ان کوششوں کے باوجود اس احتجاج کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ اس احتجاج کے پس پردہ صرف علیحدہ ریاست کا مطالبہ ہی نہیں بلکہ سیاسی مفادات بھی ہوسکتے ہیں۔
بی جے پی مغربی بنگال ریاست میں اپنے قدم جمانے اور یہاںکامیابی حاصل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے ۔ وہ ریاست میںاپنی مقبولیت میںاضافہ کرنے اورعوام کی تائید حاصل کرنے کیلئے ہر صورتحال سے فائدہ اٹھانے اوراس کا استحصال کرنے کوشاں ہے ۔ ریاست میںفرقہ وارانہ ماحول کو گرم کیا جا رہا ہے ۔ سماج کے اہم طبقات کے مابین منافرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ در اندازی کے مسئلہ کو حقائق سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام میں سکیوریٹی کے اندیشے پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ان ساری کوششوں کے باوجود ریاست میں بی جے پی کو سیاسی طور پر وہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے جس کی وہ متمنی ہے ۔ ایسی صورتحال میں علیحدہ گورکھا لینڈ تحریک کو پس پردہ مدد فراہم کرنے اور ہوا دینے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ چیف منسٹر ممتابنرجی بھی یہ خیال ظاہر کر رہی ہیں کہ گورکھا لینڈ احتجاج ان کی حکومت کے خلاف سازش ہے اور اس کو مرکزی حکومت اور بی جے پی کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے ۔ مرکزی حکومت دارجلنگ اور احتجاج سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ دستوں کی تعیناتی کیلئے تیار ہے اور ریاستی حکومت کی خواہش پر یہ دستے روانہ بھی کئے جا رہے ہیں۔ تاہم اس سے مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہوسکتا اور نہ احتجاج کو قابو میں کیا جاسکتا ہے ۔ زیادہ فورس کی تعیناتی اور احتجاجیوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے ماحول اور بھی کشیدہ ہوسکتا ہے اور احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجہ میں حکومت کے خلاف عوامی جذبات بھی مزید مشتعل ہوسکتے ہیں۔
قبائلی آبادی والے پہاڑی علاقوں میں بی جے پی اپنے قدم مضبوط بنانے کی حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔ ان شکوک کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اسی مقصد کے تحت گورکھا لینڈ احتجاج کو ہوا دی جا رہی ہو۔ ویسے بھی بی جے پی جہاں اپنا موقف مستحکم نہیں ہے وہاں چھوٹی ریاستوںکی حامی رہی ہے ۔ تلنگانہ اس کی مثال ہے ۔ مہاراشٹرا میں بھی علیحدہ ودربھا ریاست کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن چونکہ بی جے پی خود وہاں اقتدار پر ہے اس لئے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے ۔ مغربی بنگال میں سیاسی استحکام بی جے پی کے مستقبل کے منصوبوںاور عزائم کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے اسی لئے وہ اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے اس احتجاج کی پس پردہ حمایت کرسکتی ہے ۔ موجودہ حالات میں سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتوں کو عوام کے جذبات کو قابو میں کرنے اور تشدد کو روکنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT