Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف ‘ این ڈی اے حکومت کا یو پی اے سے متضاد موقف

علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف ‘ این ڈی اے حکومت کا یو پی اے سے متضاد موقف

ہم اقلیتی موقف دینے کے مخالف ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی : عدالت میں اٹارنی جنرل کا بیان

نئی دہلی 4 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) این ڈی اے حکومت نے آج سابقہ یو پی اے حکومت کے موقف سے انحراف کردیا جس میں سابقہ حکومت نے علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دینے کی حمایت کی تھی ۔ این ڈی اے حکومت نے آج سپریم کورٹ سے کہا کہ اگر علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دیا گیا تو سپریم کورٹ کی ایک دستوری بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی جس میں اس یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی قرار دیا گیا تھا ۔ نریندر مودی حکومت نے کہا کہ وہ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے میں علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کی تائید نہیں کریگی ۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو غیر اقلیتی ادارہ قرار دیا تھا ۔ اس فیصلے کے خلاف سابق منموہن سنگھ حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی ۔ مودی حکومت نے کہا کہ وہ اس اپیل سے بھی دستبرداری اختیار کر رہی ہے ۔ مرکز نے کہا کہ اس مسئلہ پر اس نے نہ صرف اپنے موقف میں تبدیلی پیدا کی ہے بلکہ خود کو علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سے علیحدہ بھی کرلیا ہے اور مرکزی حکومت کی اپیل سے دستبرداری اختیار کی جا رہی ہے ۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے جسٹس جے ایس کیہر کی قیادت والی ایک سہ رکنی بنچ سے کہا کہ انہوں نے اس مسئلہ پر اپنا ذہن دو ماہ قبل ہی تبدیل کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مرکزی حکومت کی اپیل سے دستبرداری اختیار کرلے گی اس بنچ میں جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس سی ناگپن بھی شامل ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹکی کا قیام 1967 میں ایک مرکزی ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا ۔ سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی دستوری بنچ نے عزیز باشاہ فیصلے میں اس یونیورسٹی کو مرکزی ادارہ قرار دیا تھا اقلیتی ادارہ نہیں۔ روہتگی نے کہا کہ 20 سال بعد 1981 میں ایک ترمیم لائی گئی تاکہ یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دیا گیا جسے ہائیکورٹ نے غیر دستوری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ عزیز باشاہ فیصلے کے خلاف نہیں جاسکتے ۔ مرکزی حکومت کا موقف یہ ہے کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی موقف دینے سے عزیز باشاہ فیصلے کی مخالفت ہوگی ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو اجازت دی کہ وہ اندرون 8 ہفتے ایک درخواست اور حلفنامہ داخل کریں تاکہ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سے دستبرداری اختیار کی جاسکے ۔ بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی مرکز کے موقف پر جوابی حلفنامہ داخل کرسکتی ہے ۔ عدالت نے تعطیلات کے بعد آئندہ سماعت مقرر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT