Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں حکومت کی دخل اندازی کیخلاف احتجاج

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں حکومت کی دخل اندازی کیخلاف احتجاج

کانگریس اور سماج وادی پارٹی زیرقیادت اپوزیشن کی ایوان پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی، اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی
نئی دہلی ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن پارٹیوں نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی زیرقیادت آج راجیہ سبھا میں طوفان کھڑا کردیا کیونکہ حکومت خوداختیار علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے امور میں دخل اندازی کررہی ہے جس کی وجہ سے ایوان کا اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے ارکان سے خواہش کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں اور اگر وہ اس مسئلہ پر مباحث چاہتے ہیں تو نوٹس دیں لیکن کوئی بھی ان کی بات ماننے پر تیار نہیں ہوا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے امور میں حکومت کی دخل اندازی کی وجہ سے اس کے اقلیتی موقف کو خطرہ پیدا ہوجانے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرہ بازی کررہے تھے۔ نائب صدرنشین کورین ایوان کا اجلاس دوپہر تک ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ سماج وادی پارٹی کے جاوید علی خان نے وقفہ صفر کے دوران فروغ انسانی وسائل کی وزیر سمرتی ایرانی کا مسئلہ اٹھایا اور اعلان کیا کہ یونیورسٹی کے مراکز کو انہوں نے غیرقانونی قرار دیا ہے اور مالی امداد بند کردینے کی دھمکی دی ہے۔ یونیورسٹی کی مجلس عاملہ اور ماہرین تعلیمات کونسل علیگڑھ مسلم یونیورسٹی قانون کی دفعہ 12 کے تحت اپنے حقوق حاصل کرتی ہے۔ 2008ء میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے احاطہ سے باہر پانچ مراکز قائم کئے جائیں گے۔ جن میں سے تین کو کارکرد بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت اب اس فیصلہ پر اعتراض کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہیکہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ان مراکز کو غیرقانونی قرار دے رہی ہیں اور امداد روک دینے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے لیکن آبادی کے ایک بڑے حصہ کو تعلیم سے محروم کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اور ایسے دیگر تعلیمی اداروں کے اقلیتی موقف کے بارے میں وضاحت کرے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت اقلیتی موقف کے اور دیگر اقلیتی اداروں کے تحفظ کی پابند ہے۔ مسلم یونیورسٹی کا معاملہ عدالت میں ہے اور ہر شخص کو عدالت کے فیصلہ کی پابندی کرنا چاہئے۔ ان کے اس جواب سے غیرمطمئن جنتادل یو کے شرد یادو اور کانگریس کے ڈگ وجئے سنگھ خان کے ساتھ ہوگئے اور کہا کہ بی جے پی حکومت نے جبکہ یو پی اے برسراقتدار تھی، ایک حلف نامہ داخل کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے موجودہ حکومت نے کوئی نیا حلف نامہ داخل نہیں کیا جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ سی پی آئی ایم کے سیتارام یچوری نے کہا کہ نئے حلف نامہ کے بارے میں حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے۔ کانگریس کے آنند شرما نے وضاحت کے علاوہ یہ جاننا چاہا کہ کیا حلف نامہ تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ تعلیمی اداروں کے اقلیتی موقف کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں۔ یچوری نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے فرقہ وارانہ خطوط پر صف آرائی ہوگی۔ بعض اپوزیشن ارکان نے الزام عائد کیا کہ مختار عباس نقوی ایوان کو گمراہ کررہے ہیں۔ پی جے کورین نے کہا کہ مرکزی وزیر ایوان کو گمراہ کررہے تھے تو قواعد کی کتاب میں اس کی گنجائش موجود ہے اور اس کا نفاذ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ مباحث چاہتے ہیں تو نوٹس دے سکتے ہیں۔ نقوی نے کہاکہ حکومت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی نہ تو مخالف ہے اور نہ تائید کرتی ہے جس پر سماج وادی پارٹی کے ایوان کے وسط میں جمع ہوکر نعرہ بازی شروع کردی۔ ان کے ساتھ جلد ہی کانگریس اور سی پی آئی ایم بھی شریک ہوگئے۔ کورین نے ارکان سے خواہش کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں اور اس مسئلہ پر مباحث کیلئے نوٹس دیں لیکن ارکان نے نعرہبازی جاری رکھی اور حکومت پر دخل اندازی کا الزام عائد کیا جس پر کورین نے کہا کہ نوٹس دینے پر صدرنشین اس پر غورکریں گے لیکن ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے۔ کورین نے ایوان کی کارروائی چلانے کی کچھ دیر تک کوشش کی لیکن نعرہ بازی جاری رہنے پر اجلاس کو 12 بجے دن تک ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT