Tuesday , January 16 2018
Home / ہندوستان / علیگڑھ میں تبدیلی مذہب پروگرام کی اجازت نہیں

علیگڑھ میں تبدیلی مذہب پروگرام کی اجازت نہیں

علیگڑھ۔/12ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوتنظیموں کے اس اعلان پر کہ 25ڈسمبر کے روز عوام کی کثیر تعداد کا مذہب تبدیل کیا جائے گا، ضلع حکام نے سخت نوٹ لیتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوششوں پر انتباہ دیا اور شہریوں سے کہا کہ وہ مشتعل نہ ہوں۔ ضلع مجسٹریٹ ابھیشک پرکاش نے کہا کہ اگرچیکہ تبدیلی مذہب شخصی معاملہ ہوتا ہے اور قانون

علیگڑھ۔/12ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوتنظیموں کے اس اعلان پر کہ 25ڈسمبر کے روز عوام کی کثیر تعداد کا مذہب تبدیل کیا جائے گا، ضلع حکام نے سخت نوٹ لیتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوششوں پر انتباہ دیا اور شہریوں سے کہا کہ وہ مشتعل نہ ہوں۔ ضلع مجسٹریٹ ابھیشک پرکاش نے کہا کہ اگرچیکہ تبدیلی مذہب شخصی معاملہ ہوتا ہے اور قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکن اس قانون کا بیجا استعمال کرتے ہوئے بعض تنظیمیں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی کوشش میں ہیں جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ علیگڑھ میں ہندوجاگرن سمیتی کے لیڈروں نے کل یہ اعلان کیا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو تبدیلی مذہب کی ایکشاندار تقریب 25ڈسمبر کو یہاں ایک کالج میں منعقد کی جائے گی اور اس تبدیلی مذہب کو ’’ گھر واپسی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس اعلان کے بعد عیسائی لیڈروں کے ایک وفد نے آج ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے تشویش کا اظہار کیا ہے جس پر انہیں اس مسئلہ کا جائزہ لینے کا تیقن دیا گیا۔

میتھوڈیسٹ چرچ کے ریورینڈ جناتھن لال کی زیر قیادت وفد نے کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں کیلئے پولیس تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ریورینڈ لال نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے تیقن سے وہ مطمئن ہیں تاہم ضلع مجسٹریٹ ابھیشک پرکاش نے ایک اپیل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور کرسمس فیسٹول ہم سب کیلئے مقدس ہے اور امن و محبت کے فیسٹول کو منانے کیلئے ہم سب باہم متحد ہوجائیں اور ایسا کوئی قدم نہ اُٹھائیں جس کے باعث مختلف فرقوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ایقانات ہر ایک کا شخصی معاملہ ہے اور جبرو تخویف کے ذریعہ کسی کا بھی مذہب تبدیل نہیں کروایا جاسکتا۔ دریں اثناء ممتاز مسلم قائدین اور تنظیموں نے بھی تمام فرقوں سے اپیل کی ہے کہ کسی تنظیم کے بیانات سے مشتعل یا منتشر نہ ہوں۔ سماج وادی پارٹی ایم ایل اے ظفر عالم نے آج کہا کہ اگر کوئی شحص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو یہ مسئلہ نہیں ہے لیکن مخصوص گروپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر دو اقلیتی فرقوں کے لوگوں کو مذہب تبدیلی کروانے کی کوشش قابل اعتراض ہے جس سے سماج میں امن و آشتی کا ماحول بگڑ سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT