Monday , December 18 2017
Home / ادبی ڈائری / علی ظہیر کی فکری جہتیں

علی ظہیر کی فکری جہتیں

صابر علی سیوانی
راقم الحروف نے حیدرآباد کے ایک ایسے شاعر ، مترجم اور انجینئر کے بارے میں یہ مضمون تحریر کیا ہے ، جس نے جدید اردو شاعری میں ایک نیا لب و لہجہ ، تو ضرور اپنایا لیکن اس نے شاعری کے اجتماعی مقصد اور اعلی تہذیبی اقدار سے قطعاً انحراف نہیں کیا ۔ جس کی شاعری اپنے خاص نہج پر رواں دواں رہی اور جس نے ترقی پسندوں سے لے کر جدیدیت کے پرستاروں اور عہد نو کے فنکاروں کو بھی متاثر کیا اس شاعر کا نام علی ظہیر ہے۔
علی ظہیر موجودہ عہد کے ایک ایسے شاعر تھے جو نہ صرف شاعری کے حوالے سے پہچانے گئے بلکہ اپنی زبان دانی اور ترجمہ نگاری کی وجہ سے بھی اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ وہ ایک قابل ، پڑھے لکھے اور وسیع المطالعہ فنکار تھے ۔ جو اپنی شگفتہ مزاجی اور حسِ مزاح کی بالیدگی کی وجہ سے بھی اپنے احباب میں امتیاز رکھتے تھے ۔ وہ مشاعروں کے شاعر تو نہیں تھے ، لیکن ادبی رسالوں میں ان کی تخلیقات اکثر و بیشتر شائع ہوتی رہتی تھیں ۔ مطالعہ کا انھیں بیحد شوق تھا اور ذوق مطالعہ سے انھیں اردو ادیبوں کے علاوہ انگریزی کے ادباء کی بہترین تخلیقات سے بہتر طور پر آشنائی حاصل ہوئی ۔ میر تقی میر ان کے پسندیدہ شاعر تھے ، لیکن فارسی شاعری سے بھی انھوں نے استفادہ کیا ۔ پدم شری مجتبیٰ حسین نے ان کی زندگی اور فن کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ایک مضمون تحریر کیا تھا جو علی ظہیر کے انتقال کے محض ایک ہفتے کے بعد روزنامہ سیاست ، حیدرآباد کے 24 مارچ 2013 کے شمارے میں شائع ہوا ۔ شاید یہ پہلا مضمون ہوگا جو علی ظہیر کے انتقال کے بعد شائع ہوا ہوگا ۔ملاحظہ کیجئے اس مضمون سے ایک اقتباس جو علی ظہیر شناسی کے حوالے سے نہایت دلچسپ ہے :

’’علی ظہیر فطرتاً خوش مذاق واقع ہوئے تھے ۔ میری باتوں پر بے ساختہ قہقہے لگاتے تھے اور دیر تک ہنستے رہتے ۔ ان سے روز ہی ملاقات ہوجاتی تھی ۔ ابتدائی ملاقاتوں میں ہی ان کی شخصیت کے مختلف پہلو مجھ پر وا ہوتے چلے گئے ۔ وہ بے حد پڑھے لکھے آدمی تھے ۔ وہ اردو کے ان شاعروں میں سے نہیں تھے ،جو ہمیشہ مشاعرے ہی پڑھتے رہتے ہیں ، بلکہ کتابیں اور رسالے بھی پڑھتے تھے ۔ ان کا مطالعہ خاصا عمیق اور وسیع تھا ۔ یادداشت غضب کی پائی تھی ۔ دنیا کے بہترین ادب پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ خاص طور پر انگریزی کے نئے نئے ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں اور تخلیقات پڑھتے رہتے تھے ۔ پیشہ کے اعتبار سے وہ سیول انجینئر اور آرکیٹکٹ تھے ، لیکن ادب سے ان کا سروکار کچھ ایسا گہرا تھا کہ لگتا تھا کہ ادب ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ۔ تاریخ ،تمدن ، مذہب اور ثقافت پر ان کی گہری نظر تھی ۔ وہ سچ مچ جہاندیدہ آدمی تھے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایران ، خلیجی ممالک اور یوروپ میں گزار چکے تھے ۔ امریکہ بھی آتے جاتے رہتے تھے  ۔گویا ایک کاسموپالیٹن شخص تھے ۔ انگریزی زبان پر بھی انھیں خاصا عبور تھا ۔ انگریزی میں شعر تو نہیں کہتے تھے ،البتہ نثر میں مضامین لکھتے ۔ مَیں اکثر مذاق میں ان سے کہتا تھا میاں علی ظہیر !تم جہاں کوثر و تسنیم میں دُھلی ہوئی اردو لکھنے پر قدرت رکھتے ہو ، وہیں تم ٹیز اور مسی سپی میں دُھلی ہوئی انگریزی بھی لکھ لیتے ہو ۔ اردو کے کلاسیکل شعراء کے ہزاروں شعر انھیں یاد تھے ۔ خاص طور پر میر تقی میر کی شاعری کے تو وہ حافظ تھے‘‘ ۔

مجتبیٰ حسین کے لکھے ہوئے ان جملوں نے علی ظہیر کا مکمل تعارف کرادیا ہے ۔ اس کے بعد مزید ان کے تعارف کے لئے مجھے کچھ نہیں لکھنا ہے ۔ بس ان کی شاعری کے حوالے سے ہی چند باتیں تحریر کرنی ہیں ۔ ویسے تو وہ مختلف اوصاف کے مالک تھے ۔ مختلف شعبوں میں ان کی وقیع خدمات رہی ہیں ، لیکن ان کی شناخت ایک شاعر کی ہی حیثیت سے رہی ہے اور وہ بھی  نظم گو شاعر کے طور پر ۔ حالانکہ انھوں نے غزلیں بھی لکھی ہیں ، لیکن نظموں کا سرمایہ غزلوں پر زیادہ بھاری ہے ۔ علی ظہیر کی زندگی مختلف اتھل پتھل سے عبارت رہی ہے ۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے جو انھوں نے تجربات حاصل کئے ، اس نے دنیا کی حقیقت سمجھنے اور رشتوں کی نزاکتوں کو محسوس کرنے میں معاونت کی ۔ علی ظہیر کو سب سے بڑا صدمہ اس وقت پہنچا جب ان کی والدہ کینسر کے موذی مرض کی وجہ سے اس وقت انتقال کرگئیں ، جب وہ ابھی میٹرک کے ہی طالب علم تھے ۔ ان کی موت کا صدمہ ان کی زندگی بھر ان پر مسلط رہا ۔ اس صدمے کا اثر ان کی شاعری میں بھی دیکھا جاتا ہے ۔ علی ظہیر اپنی خود نوشت میں اس واقعے کو کچھ اس درد بھرے انداز میں بیان کرتے ہیں :۔
’’جب میں میٹرک میں تھا ، تو میری ماں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوگئیں اور میرے والد کی لاکھ کوششوں کے باوجود بچ نہ سکیں ۔ ان کی موت سے زیادہ ان کا لمحہ لمحہ ہم سے بچھڑنے کا خوف میرے دل و دماغ میں ایسا طاری ہوا کہ آج تک وہ خوف میرے وجود سے پوری طرح دور نہ ہوسکا ۔ میری ایک نظم ’’خوف کہ وہ آئے گا‘‘ جو بہت بعد کی نظم ہے ،لاشعوری طور پر اس حادثہ کا اثر در آیا ہے ۔ میری ماں کی موت کا غم اور پھر مسلسل گھریلو حالات مجھے اس قدر مضمحل کرتے رہے کہ اگر میں شاعری نہ کرتا تو شاید خودکشی کرلیتا ۔ شاعری کے علاوہ مذہب نے بھی میرا ہاتھ تھاما‘‘ ۔

(مجلہ شعر و حکمت ، جلد اول ، کتاب بارہ، دور سوّم ۔ مکتبہ شعر و حکمت ، سوماجی گوڑہ، حیدرآباد ، مئی 2011 صفحہ 460)
بقول علی ظہیر ماں کی موت کا غم اور گھریلو حالات کے اضمحلال نے انھیں اس مقام پر پہنچادیا تھا کہ اگر وہ شاعری کا سہارا نہ لیتے تو شاید انھیں خودکشی کرنے کی نوبت آجاتی ۔ یہ تو ہم شاعری کا احسان ہی تصور کریں گے کہ اس نے علی ظہیر کو غیر فطری موت کے قریب جانے سے روک دیا ۔ والدہ کی موت کا غم ان کی اس نظم میں صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے ۔ جس کے متعلق علی ظہیر نے اشارہ کیا ہے اور لاشعوری طور پر اس غم کا عکس اس نظم میں آنے کی بات کہی ہے ۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس نظم کو یہاں پیش کیا جائے تاکہ نظم میں پوشیدہ غم کے احساسات کو سمجھنے میں قارئین کو بھی آسانی ہوسکے ۔ نظم ’’خوف کہ وہ آئے گا‘‘ میں علی ظہیر کے کرب کو ملاحظہ کیجئے :

وہ عجب رات تھی
اس رات ہوائیں آئیں
سوکھے پتوں کے بھی گرنے کی صدائیں آئیں
جھاڑ فانوس بجے
دور کوئی چیخا
چاپ قدموں کی عجب آئی کہ دل ہلنے لگا
ایسی سنسان سیاہی میں
اکیلا میں تھا
کسی ٹوٹے ہوئے ویران جزیرے کی طرح
رات کا خوف نہ تھا
خوف تو اس کا تھا مجھے
وہ جو آجاتا ہے چپ چاپ اندھیرے کی طرح
وہ جو کرجاتا ہے زخمی مِرا سینہ ، مِرا دل
اپنے قدموں تلے ملتا ہے مری آنکھوں کو
توڑ دیتا ہے مرے سارے حسیں خوابوں کو
وہ نہیں آیا
مگر خوف تو قائم ہے ابھی
خوف آیا ہے تو پھر وہ بھی ضرور آئے گا
میرے سینے کو مرے دل کوکچل جائے گا
(ہزار مشعل بکف ستارے)
پوری نظم درد و کرب میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ استعاروں اور علامتوں کے ذریعے شاعر نے اپنا وہ پورا منظرنامہ پیش کردیا ہے جس میں رات کی خاموشی اور سوکھے پتوں کے گرنے کی آوازیں ، چیخنے ،فانوس کے بجنے ، قدموں کی چاپ ،سنسان سیاہی ، ٹوٹے ہوئے ویران جزیرے ، حسیں خوابوں کا ٹوٹنا ، خوف کا قائم ہونا ، سینہ اور دل کو کچل دینا ، یہ وہ لفظیات و استعارے ہیں جو شاعر کی ان کیفیات کو بیان کرتے ہیں ،جس میں غم ، درد ، کرب ، صدمہ اور کسی عزیز ترین کی جدائی کا احساس موجود ہے ۔ شاعر نے یہ نظم اپنی والدہ کی موت کے برسوں بعد کہی ،لیکن وہ ماں کی جدائی کے غم سے باہر نہیں نکل سکا تھا ۔ بلکہ وہ تاحیات اس غم میں ڈوبا رہا اور یہی وہ غم ہے جس نے علی ظہیر کو جینے کے لئے بھی مجبور کیا اور اسی غم کے اظہار کے لئے شاعری کو وسیلہ بھی بنایا ۔ یہ الگ بات ہے کہ علی ظہیر کی شاعری میں بہت سے مضامین ، موضوعات ، مسائل اور خیالات منعکس ہوتے نظر آتے ہیں ، لیکن ان کی پوری شاعری میں ’’غم‘‘ ایک ایسا احساس ہے ،جس سے وہ چاہ کر بھی خود کوالگ نہیں کرسکے ۔
علی ظہیر کے لہجے میں جو حزن وملال کی کیفیت پائی جاتی ہے ، اسے بڑے بڑے ناقدین نے بھی محسوس کیا ساتھ ہی ان کی انفرادیت کو بھی تسلیم کیا ہے ۔ مشہور ناقد شمس الرحمن فاروقی بھی علی ظہیر کے مخصوص لہجے اور شعری محاسن کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ وہ علی ظہیر کے دوسرے شعری مجموعہ ’’انگلیوں سے خون‘‘ کے فلیپ پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :۔
’’علی ظہیر کے کلام میں اس نوجوان کا ذہن بولتا ہوا نظر آتا ہے جو دنیا کواور خود کوعالم اسلام کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش میں ہے ۔ اس کے لہجے میں پُروقار محزونی اور کہیں کہیں اعتقاد اور اعتماد کی بلند نوائی بھی ہے ، لیکن شاعری کا دامن اس کے ہاتھ سے کم کم ہی چھوٹا ہے ۔ یہ وہ شاعری ہے جو آج سے بیس پچیس برس تک وجود میں نہیں آسکتی تھی ۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھیں تو علی ظہیر اس نسل کے ہر اول دستے میں نمایاں بلکہ ایک حد تک تنہا نظر آتے ہیں، جو 1960 ء کے آس پاس نمایاں ہونے والی شاعری سے متاثر بھی ہے  اور اس سے راہ فرار کی تلاش میں بھی ہے‘‘ ۔ (ہزار مشعل بکف ستارے مرتب ، بیگ احساس ،2005 صفحہ 10)

علی ظہیر نے اپنی الگ راہ بنائی ، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے معاصرین میں بالکل منفرد اور ممتاز نظر آتے ہیں نہ وہ کسی تحریک کے گرویدہ ہوئے اور نہ ہی کسی مخصوص روایتی رجحان کے اسیر بنے ۔ جدید شعراء میں اپنی الگ شان رکھتے ہیں اور موضوعات کے تنّوع کے باعث اس عہد کے سخنوروں میں ایک خاص طنطنہ اور ایک مخصوص اسلوب کے حامل نظر آتے ہیں ۔ تخیل کی بلندی اور فکری پرواز کی رفعت ہی تو ہے کہ علی ظہیر نے ان تمام موضوعات کو اپنی شاعری کے لئے منتخب کیا لیکن اس کے باوجود اس میں جدت طرازی کا ایسا عنصر سمویا کہ ایک خاص ندرت کے ساتھ ان کی شاعری ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ حسرتیں ، کشمکش ، خاموش پتھر ، مغالطہ ، انتظار ، محبت ، انگلیوں سے خون ، مینڈکوں کا قتل عام ، کتبہ ، نجات ، حادثہ ، خون ، رخصت ، انوکھی خوابگاہیں ، وقت ، موت ، مصلحت ، بدل ، اذان ، نئے دکھ کی تلاش ، ماں وغیرہ ایسی ہی نظمیں ہیں جن کے عنوانات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علی ظہیر کی شاعری میں نغمگی کے ساتھ محزونی کیفیات ، آلام و مصائب ، رنج و غم ، حسرت وامید اور ناامیدی و مایوسی ایک دوسرے کے ساتھ مدغم ہوتے ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ شاعر کی زندگی کے تجربات شعروں میں آبشار کی طرح بہتے جاتے ہیں اور قاری ان کیفیات کو بذات خود محسوس کرتے ہوئے لطف اندوزی کے ساتھ کرب انگیزی کی بھی کیفیات سے دوچار ہوتا ہوا گزرتا جاتا ہے ۔’’سات دن سات آسمان‘‘ طویل نظم ہے ، لیکن اس کے چند لفظوں پر غور کیجئے اور اندازہ لگایئے کہ شاعر کو زبان پر کس قدر قدرت حاصل ہے اور اسے نئی نئی اصطلاحوں کو استعمال کرنے پر کس قدر مہارت ہے ۔
سات دن
سات آسمانِ دراز
ہفت رنگ
ہفت صوت آہنگ ساز
ہفت پیکر و جود کی تکرار
تھام لے ہاتھ اے شعورِ شکار
خشک مٹی جو رنگ پرور ہے
رنگ لیتی ہے رنگ دیتی ہے
خون کا اور کبھی گلاب کا رنگ
زہر کا اور کبھی شراب کا رنگ
رنگ کا رنگ اور رنگ ہی رنگ
حرف و صوت و سماع رنگ ہی رنگ
سب پہ چھایا ہوا ہے اس کا رنگ
اس پوری نظم میں معنویت ، نغمگی اور تخیل کی جو بلندی ہے ، وہ اپنی جگہ ہے، لیکن لفظوں کو مختلف انداز سے استعمال کرکے ، تکرار لفظی کی ہنر مندی کے ذریعے جو کمال پیدا کیا ہے ، اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں ہے کہ شاعر کو زبان و بیان پر دسترس کاملہ حاصل تھی ، ورنہ سات آسمانِ دراز ، ، ہفت صوت آہنگ ساز ، شعورِ شکار ، ، ہفت پیکر وجود کی تکرار استعمال کرکے نظم میں وہ دلکشی نہیں پیدا کرپاتے ۔ دوسری جانب مٹی کے مختلف اوصاف گنا کر شاعر نے مٹی کی وسعت ، عظمت ، بزرگی اور تہہ داری کو جس خوبی سے استعمال کیا ہے وہ انہی کا حصہ ہوسکتا ہے ۔ مٹی کو رنگ پرور بتانا ،رنگ دینے اور رنگ لینیکی صلاحیت کو پیش کرنا ،خون اور گلاب کا رنگ پیش کرنا ، شراب اور زہر کا رنگ الگ الگ نمایاں طور پر ظاہر کرنا یہ سب مٹی کی ہی خاصیت ہوسکتی ہے ۔ علی ظہیر نے واقعتاً مٹی کی جس طرح سے خوبیاں اور اس کی انجذابی کیفیت بیان کی ہے ، اس سے مٹی کی وسعت و ظرف کا تو اندازہ ہوتا ہی ہے ، ساتھ ہی شاعر کی وسیع النظری اور بلند خیالی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ یہی وہ شاعر کی خوبیاں ہیں جن کا اعتراف کرنے پر گوپی چند نارنگ جیسے مشہور نقاد کو مجبور ہونا پڑا اور یہ کہنا پڑا کہ :
’’گزشتہ عرصہ میں جدید ادب نے شاعری کے اس تہذیبی پس منظر کو فراموش کردیا تھا تاہم ایسے تخلیق کار جدیدیت کے زمانے سے موجود ہیں ، جنھوں نے شاعری کے اجتماعی مقصد کو فراموش نہیں کیا ۔ علی ظہیر ایسے ہی تخلیق کار ہیں ۔ انھوں نے اپنی نظموں اور غزلوں میں فن کے ان تمام مطالبات کو پیش نظر رکھا ۔ علی ظہیر کی نظموں میں Persona بھی موجود ہے ،جو انقلاب کی نہج کو خوش آمدید کہنے کے لئے گوش بر آواز ہے ۔ وہ اجتماع بھی ہے ، جو تہذیبی روایات کو برہم کرتا ہے ۔غرض یہ کہ علی ظہیر کی شاعری میں ایک بیدار ذہن اور ہمہ تن آگاہ  ، ہوش مند فنکار کے تمام جوہر موجود ہیں‘‘  ۔ (پس سرورق ، ہزار مشعل بکف ستارے)

یہ حقیقت ہے کہ علی ظہیر ایک بیدار ذہن ، ہوش مند اور حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ ادبی روایات و شاعری کے جدید رجحانات سے بخوبی واقف نظر آتے ہیں ۔ ورنہ شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنی گرانقدر آراء سے انھیں نہیں نوازتے ۔ یہی تو فنکار کا کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنے فن کے کمال کے ذریعے بڑے بڑوں کو اپنا معترف بنالیتا ہے ۔
پانچ شعری مجموعوں رات کے ہزار ہاتھ (1976) انگلیوں سے خون (1986) دوسرا قدم (1992) جب زمینوں سے شجر اُگتے ہیں (1996)  موج صد رنگ (2009) کے خالق علی ظہیر کی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی روایتی اور تہذیبی جڑوں سے خودکو الگ نہیں کرسکے۔ مذہب نے ہمیشہ ان کا مضبوطی سے دامن تھامے رکھا ۔زمین سے اور زمینی حقائق سے ان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا ۔ ہندوستانی فلسفوں اور اساطیر سے انھوں نے خوب استفادہ کیا ۔ جسم اور روح کے فرق و امتیاز کو بھی بخوبی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کی نظم ’’بلاوے‘‘ جسم و روح کے فرق کوکچھ اس طرح واضح کرتی ہے ۔
کچھ بلاوے جسم کے ہیں
کچھ بلاوے روح کے
کچھ بلاوے
بے سمجھے اندھے جذبوں کے جو جسم سے الگ ہیں
جو جسم کے دشمن ہیں
لیکن جسم
اپنے نازک موقعوں پر
انہی بلاؤں کواپنی نجات سمجھتا ہے
اور روح کے بلاوے
جسم کے دوست ہیں
لیکن جسم ان بلاؤں سے ڈرتا ہے
سچ ہے کہ انسان خسارے میں ہے
قرآنی آیت ’’اِنّ الاِنسانَ لَفیِ خُسرِِ‘‘ کی بہترین تشریح و تفہیم اس نظم کا آخری مصرع ہے ۔ ویسے بھی مذہبی افکار اور اسلامی تعلیمات کے عناصر سے ان کی شاعری بھری پڑی ہے ۔ مذہب نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ جس کا اظہار ان کی متعدد نظموں میں مذہبی افکار ، عربی الفاظ اور قرآنی آیات کی ترجمانی سے ہوتی ہے ۔ ظہیر کی شاعری میں مذہب کاعمل دخلنمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔ اخلاقی پہلوؤں کی بہتر نمائندگی  بھی ان کی شاعری میں جابجا ہمیں نظر آتی ہے ۔ لیکن ان کی شاعری کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں فطرت پورے جلال و جمال کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے ۔ فطری مناظر ، چرند و پرند ، کوہ و جبال ،آبشار ، زمین و آسمان ، سورج ، چاند ، ستارے اور وحوش ، طیور کی باتیں ان کی تخلیقات کے اہم عوامل و عناصر ہیں ۔ پروفیسر بیگ احساس نے علی ظہیر کے شعری موضوعات پر بجا طور پر اپنی رائے دی ہے ۔ وہ ان کی شاعری کے موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔’’جدید شاعری میں فرد کی محرومی ، تنہائی اور ذہن کی شکست و ریخت کو برتا گیا ہے ۔ ترقی پسندوں نے کسی خاص فلسفے کی طرف توجہ نہیں کی ۔ ان کی ساری وابستگی اشتراکیت سے رہی ۔ علی ظہیر کی نظموں میں بھی حیات اور کائنات پر ، مظاہر قدرت پر ، جانور ، پرندے ، حشرات الارض پر غور کرتے ہیں اور اپنی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ انھیں ایک نئی معنویت دیتے ہیں جیسے ان کی نظم ہے ، جس کاعنوان ’’سات دن سات آسمان‘‘ ہے ۔ یہ ایک طویل نظم ہے ۔پہلے بند میں تخلیقِ کائنات کا وہی فلسفہ ہے ،جو اسلامی ہے  ۔ پھر فلسفۂ زمان و مکاں ہے ۔ ایک کے بعد ایک آتے دن ، آتے اور آکے دور جاتے دن ، دور صدیوں میں ڈوب جاتے دن ، دور قرنوں میں بھول جاتے دن‘‘ ۔ (پیش لفظ ہزار منظر بکف ستارے ، مرتب بیگ احساس حیدرآباد 2005 صفحہ 12)

علی ظہیر نے شاعری کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کیا ۔ آرکٹیکچرل انجینئر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ انگریزی نظموں کا ترجمہ کیا ۔ مضامین تحریر کئے اور ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے ۔ لیکن ان کی ذاتی زندگی کے آخری دور کا ان کا ایک اہم ادبی کارنامہ خورشید احمد جامی پر ان کا لکھا ہوا تحقیقی مونوگراف ہے ، جسے ہندوستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت ساہتیہ اکادمی نئی دہلی نے 2011 میں شائع کیا ۔ خورشید احمد جامی پر اب تک کئے گئے تحقیقی کام میں علی ظہیر کا یہ مونوگراف ایک دستاویزی اہمیت کا حامل ہے ، جو 120صفحات پر مشتمل ہے ۔ جس میں مصنف نے تعارف ، حالاتِ زندگی ، جامی کا ادبی سرمایہ ، خورشید احمد جامی اور ترقی پسندی کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں رخسار ِ سحر ، برگِ آوارہ ، قیمتِ عرضِ ہنر ، یاد کی خوشبو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ جامی کی شاعری کا آہنگ اور رجحان جو روایت کے زیر اثر رہا اور نہیں بھی رہا کے متعلق علی ظہیر لکھتے ہیں :۔
’’جامی نے اپنی محنت اور لگن سے غزل کو ایک نیا آہنگ اور رجحان دیا جو روایت سے الگ بھی ہے اور نہیں بھی ۔ یہ کام ایسا شاعر کرسکتا تھا ،جس کا تجربہ زندگی سے گہرا بھی ہو اور وہ اپنے آپ سے سچ بولے ۔ جامی کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تجربہ بہت گہرا تھا اور انھوںنے ہمیشہ سچ بولنے کی کوشش کی ،جس کی وجہ سے ان کے کلام میں وہ تاثیر پیدا ہوئی ،جس سے کہ اردو غزل میں نئے امکانات نظر آنے لگے‘‘ (خورشید احمد جامی ، علی ظہیر ، ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی 2011 صفحہ 65)
علی ظہیر نے بہت سے تنقیدی مضامین لکھے ،جو مختلف جرائد و رسائل اور ماہناموں کی زینت بنے ۔ان کے مضامین کا مجموعہ بعنوان ’’دست رس‘‘ 2004 میں منظر عام پر آیا ،لیکن یہ کتاب محدود حلقوں تک ہی پہنچ پائی، جس کی وجہ سے اسے مقبولیت حاصل نہ ہوسکی ۔
پدم شری مجتبیٰ حسین سے ان کے کافی قریبی مراسم رہے بلکہ مجتبیٰ حسین کبھی کبھی مشکل الفاظ کی تشریح اور معنی جاننے کے لئے ان سے رجوع ہوا کرتے تھے ، جس کا اعتراف خود مجتبیٰ حسین نے اپنے مضمون (مطبوعہ سیاست) میں کیا ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ مجتبیٰ حسین کے متعلق علی ظہیر نے ایک مضمون ’’مجتبیٰ حسین کا فنِ انشائیہ نگاری‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا ، جو مضمون 2013 ء میں شائع شدہ کتاب ’’مجتبیٰ حسین آئینوں کے بیچ‘‘ (مرتبین سید امتیاز الدین ، محمد تقی) میں شامل ہے ۔ اس مضمون سے علی ظہیر کی ظرافت پسندی ، حقیقت بیانی اور حّسِ مزاح کا اندازہ ہوتا ہے ۔  علی ظہیر اس مضمون میں رقمطراز ہیں :
’’مجتبیٰ حسین کے اسلوب کی ایک اور خوبی اس کی رفتار ہے ۔ ان کے ہاں رفتار دو طرح کی ہے ایک داخلی جس سے قاری گزرتا ہے اور دوسرے خود ان کے لکھنے کی ۔ حالانکہ انھوں نے اچھا خاصا ادبی سفر طے کیا ہے لیکن انھیں کبھی اپنے قلم کی رفتار کو کم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تخلیقی اپج ان کی رفتار میں مضمر ہے ۔ زود گوئی یا کم گوئی کبھی کسی بڑے فنکار کو جانچنے کا پیمانے نہیں بنتی ۔ میر تقی میر سے زیادہ لکھنے والا کوئی ادیب شاعر نہیں ہے اور کم از کم اردو کی حد تک غالب سے زیادہ کم دیوان کسی بڑے شاعر کے پاس نہیں ہے ۔ لیکن دونوں عظیم فنکار ہیں ۔ دراصل فنکار کو بڑا اس کا ویژن بناتاہے ۔ مجتبیٰ حسین کے ہاں بھی ویژن ہے ۔ جس سے وہ اس دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم خود پر ہنسیں ، اپنے اندر جھانکھیں ، اپنے آپ کو پہچانیں‘‘ ۔ (مضمون مجتبیٰ حسین کا فن ِانشائیہ نگاری ، علی ظہیر ، مشمولہ مجتبیٰ حسین آئینوں کے بیچ ، مرتبین :سید امتیاز الدین ، محمد تقی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس ، دہلی مارچ 2013 صفحہ 128)
علی ظہیر نے درست لکھا ہے کہ کسی فنکار کو بڑا اس کا ویژن بناتا ہے اور مجتبیٰ حسین کے ہاں وہ ویژن ہے ،جس سے وہ اس دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ یہی بات بالکل علی ظہیر پر صادق آتی ہے کہ وہ اپنے ویژن سے دنیا کو بدلنا چاہتے تھے ۔ اپنیشاعری سے ایک خاص مقصد کی تکمیل چاہتے تھے ۔ دنیا کے تجربات بانٹنا چاہتے تھے ۔ زمانے نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ انھیں دیا تھا اسے وہ لوٹانا چاہتے تھے ، لیکن زندگی نے ان کا ساتھ طویل مدت تک نہیں دیا اور ان کی بے وقت موت نے ہم سے ایک جینئس فنکار چھین لیا جو بہت کچھ کرنے ، لکھنے اور دنیا کو دینے کا ارادہ رکھتا تھا ، لیکن اب جبکہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ، محض ان کی تحریریں اور تخلیقات رہ گئی ہیں ، تو امید کی جاتی ہے کہ ان کے فن کا تعین کیا جائے گا اور ان کی شاعری کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT