Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / عمارات حج ہاؤز سے اقلیتی اداروں کو تخلیہ کی نوٹس

عمارات حج ہاؤز سے اقلیتی اداروں کو تخلیہ کی نوٹس

وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے دفاتر برقرار رہیں گے : اردو اکیڈیمی اور فینانس کارپوریشن کی منتقلی پر عوام تشویش کا شکار

وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے دفاتر برقرار رہیں گے : اردو اکیڈیمی اور فینانس کارپوریشن کی منتقلی پر عوام تشویش کا شکار
حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی تقسیم کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اقلیتی اداروں کیلئے شہر کے مرکزی مقام پر دفاتر کی تلاش کی جارہی ہے۔ حج ہاوز جہاں اقلیتی اداروں کے دفاتر کام کررہے تھے اب انھیں تخلیہ کی نوٹس دے دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز کے تخلیہ کے سلسلہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جلد از جلد دفاتر کی منتقلی کی ہدایت دی۔ قبل ازیں دفاتر کی منتقلی کیلئے 30اپریل تک کی مہلت دی گئی تھی تاہم موزوں عمارت کی عدم دستیابی کے سبب ان اداروں نے مہلت طلب کی ہے۔ اس سے قبل بھی ایک مرتبہ ان اداروں کو تخلیہ کے نوٹس دی گئی تھی تاہم بعد میں نوٹس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی کیونکہ کم کرایہ پر شہر کے مرکزی مقامات پر عمارتیں دستیاب نہیں ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے علاوہ کارپوریشن کے حیدرآباد اور رنگاریڈی سے متعلق ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کے دفاتر بھی حج ہاوز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے دفاتر بھی حج ہاوز سے کام کررہے ہیں لیکن تازہ احکامات کے مطابق ان اداروں کو بھی حج ہاوز سے منتقل ہونا پڑے گا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے ایکزیکیٹو ڈائرکٹر حیدرآباد کے دفتر کی منتقلی کا عمل مکمل کرلیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دو دنوں میں ای ڈی حیدرآباد کا دفتر نمائش میدان کے قریب واقع ہاؤزنگ بورڈ کی عمارت میں منتقل ہوجائے گا۔ حج ہاوز کی عمارت میں وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے دفاتر برقرار رہیں گے۔ ریاست کی تقسیم کے باعث دونوں علاقوں کے لئے علحدہ دفاتر کی ضرورت پڑے گی لہذا جگہ کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے دیگر اداروں کے تخلیہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقلیتی اداروں اور خاص طور پر اردو اکیڈیمی اور فینانس کارپوریشن کی حج ہاوز سے منتقلی کی اطلاعات پر عوام میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ ایک ہی عمارت میں تمام دفاتر کی موجودگی سے عوام کو سہولت تھی لیکن اب انہیں کسی بھی کام کے سلسلہ میں مختلف علاقوں کی مسافت طئے کرنی پڑے گی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حج ہاوز سے متصل کامپلکس کا تعمیری کام جاری ہے اور اگر وقف بورڈ چاہے تو تعمیری کام میں تیزی پیدا کرتے ہوئے اس عمارت کو بھی اقلیتی اداروں کے دفاتر کیلئے استعمال کرسکتا ہے۔ نئے کامپلکس کی تعمیر کا کام کچھ عرصہ سے روک دیا گیا ہے جس کی وجوہات سے عہدیدار بھی لاعلم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے کامپلکس کی تعمیر کا کام فوری مکمل کرتے ہوئے دونوں عمارتوں کو اقلیتی اداروں کے دفاتر کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عوام کو مسائل کی یکسوئی کیلئے مختلف مقامات جانے کی زحمت نہ ہو۔ ایکزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے دفاتر کی حج ہاوز میں موجودگی سے اعلیٰ عہدیدار ان دفاتر کی کارکردگی پر موثر نگرانی کے موقف میں تھے لیکن ان کی منتقلی کے بعد ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ وقف بورڈ نے دفاتر کے تخلیہ کے سلسلہ میں نوٹس تو تیار کرلی لیکن ان اداروں کا یہ استدلال ہے کہ جب تک انہیں موزوں عمارت نہیں مل جاتی اس وقت تک وہ منتقلی کے موقف میں نہیں ہوں گے۔عوام کی سہولت اور اداروں کی موثر نگرانی کیلئے ضروری ہے کہ تمام اہم اقلیتی ادارے ایک ہی مقام پر خدمات انجام دیں۔

TOPPOPULARRECENT