Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / عمارات حج ہاؤز میں واقع اقلیتی اداروں کا ریکارڈ غیرمحفوظ

عمارات حج ہاؤز میں واقع اقلیتی اداروں کا ریکارڈ غیرمحفوظ

حیدرآباد۔یکم مارچ۔( سیاست نیوز) حج ہاوز کی عمارت واقع نامپلی میں وقف بورڈ کے علاوہ کئی دیگر اقلیتی اداروں کے دفاتر موجود ہیں لیکن وہاں موجود ریکارڈ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ خاص طور پر اوقافی جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ بھی غیر محفوظ اور خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ وقف بورڈ اور دیگر اداروں پر غیر متعلقہ افراد اور درمیانی افرا

حیدرآباد۔یکم مارچ۔( سیاست نیوز) حج ہاوز کی عمارت واقع نامپلی میں وقف بورڈ کے علاوہ کئی دیگر اقلیتی اداروں کے دفاتر موجود ہیں لیکن وہاں موجود ریکارڈ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ خاص طور پر اوقافی جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ بھی غیر محفوظ اور خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ وقف بورڈ اور دیگر اداروں پر غیر متعلقہ افراد اور درمیانی افراد کی گرفت کا مضبوط ہونا ہے۔ حالیہ عرصہ میں دیکھا جارہا ہے کہ وقف بورڈ سمیت تمام اقلیتی اداروں کے ریکارڈ تک درمیانی افراد کی رسائی ہوچکی ہے اور وہ کسی بھی کام کیلئے باآسانی سرکاری ریکارڈ حاصل کرنے کے موقف میں ہیں۔ حج ہاوز کے احاطہ میں درمیانی افراد کی کثیر تعداد سرگرم دکھائی دیتی ہے جن کا تعلق مختلف اداروں سے ہے۔ ہر اقلیتی ادارہ کیلئے مخصوص افراد اپنی خدمات ضرورتمندوں کو پیش کرتے ہیں اور وہ رقم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف دفتری اُمور کی انجام دہی میں تیزی پیدا کرتے ہیں بلکہ درکار ریکارڈ بھی فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں اس طرح کے افراد کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک عام ضرورت مند شخص کے حج ہاوز کی عمارت میں داخل ہوتے ہی درمیانی افراد کسی طرح ان سے رجوع ہوکر مسئلہ کی یکسوئی کا لالچ دیتے ہیں۔ سرکاری اُمور کی انجام دہی تو کجا حج درخواستوں کے ادخال اور ان کی جانچ کے سلسلہ میں بھی کئی درمیانی افراد سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ درمیانی افراد کی بڑھتی سرگرمیوں کو مختلف اداروں کے بعض ملازمین کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ضرورتمند افراد کسی کام کی تکمیل کیلئے انتظار کی زحمت اٹھانے تیار نہیں جس کے نتیجہ میں یہ سرگرمیاں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں۔ وقف بورڈ کے تمام سیکشنوں میں ریکارڈ اور فائیلیں کھلے عام رکھی ہوتی ہیں جن تک کوئی بھی باآسانی رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ اور فائیلوں کے غائب ہونے کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ وقف بورڈ سمیت تمام اداروں کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کا عمل جاری ہے لہذا فائیلوں کی منتقلی کے دوران درمیانی افراد اس کا فائدہ اٹھا کر ریکارڈ کو غائب کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر سرکاری دفاتر کی طرح حج ہاوز میں بھی باقاعدہ سیکورٹی تعینات کی جائے اور دفتر میں داخلہ کے اوقات مقرر کئے جائیں۔ ہر دفتر میں مسائل کی سماعت اور درخواستوں کی وصولی کیلئے ایک عہدیدار کو مقرر کیا جائے بجائے اس کے کہ ضرورتمند افراد ہر سیکشن کے اندرونی حصہ تک رسائی حاصل کرلیں۔ اوقافی جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ سیکشن بھی محفوظ نہیں۔ وہاں بھی اکثر غیر متعلقہ افراد دکھائی دیتے ہیں۔ سیکورٹی میں اضافہ کے ذریعہ ان دفاتر میں غیر متعلقہ افراد کی سرگرمیوں پر قابو پانے کیلئے حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کے لئے حج ہاوز کے باب الداخلہ پر کاؤنٹر قائم کیا جائے اور صرف مقررہ اوقات میں ہی داخلہ کی اجازت دی جائے۔ ایسے دفاتر جہاں دن بھر عوام مسائل یا اپنی ضرورت کیلئے رجوع ہوسکتے ہیں وہاں پہنچنے کیلئے پاس رکھا جانا چاہیئے۔ اس طرح کے دفاتر میں دارالقضات ہے جہاں عوام اپنے سرٹیفکیٹس کیلئے رجوع ہوتے ہیں۔ حکومت کو تجویز پیش کی گئی کہ حج ہاوز کے گراؤنڈ فلور پر تمام اداروں کے کاؤنٹرس قائم کئے جائیں جہاں ایک ذمہ دار افسر کو مقرر کیا جائے جو عوامی مسائل کی سماعت اور درخواستوں کی وصولی انجام دے۔

TOPPOPULARRECENT