عمارت حج ہاوز سے متصل کمرشیل کامپلکس کی بلڈنگ فیس کی معافی کا مسئلہ ہنوز تعطل کا شکار

حکومت کی عدم کارروائی سے کامپلکس ادھورا، جی ایچ ایم سی اور بلدی نظم و نسق کے اعتراضات

حکومت کی عدم کارروائی سے کامپلکس ادھورا، جی ایچ ایم سی اور بلدی نظم و نسق کے اعتراضات
حیدرآباد۔/23اپریل، ( سیاست نیوز) حج ہاوز نامپلی سے متصل زیر تعمیر کمرشیل کامپلکس کی بلڈنگ فیس کی معافی کا مسئلہ ابھی بھی تعطل کا شکار ہے۔ تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پلان کی منظوری کیلئے عائد کردہ 4کروڑ 60لاکھ روپئے کی فیس معاف کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن حکومت کے 9ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے بارہا حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے تیقن دیا تھا کہ مجلس بلدیہ کی جانب سے عائد کردہ 4کروڑ 60لاکھ 50ہزار روپئے کی فیس حکومت معاف کردے گی۔ رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے وقف بورڈ کو مسلسل نوٹسیں جاری کی جارہی ہیں۔ حکومت کے فیصلہ میں تاخیر کے سبب اس زیر التواء کامپلکس کی تکمیل کا کام بھی ٹھپ ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عازمین حج کی قرعہ اندازی کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ 31مارچ تک حکومت بلڈنگ فیس معاف کردے گی لیکن آج تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوسکا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے 18اگسٹ 2014ء کو حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ کمرشیل کامپلکس کا نظر ثانی شدہ منصوبہ منظوری کیلئے مجلس بلدیہ میں داخل کیا گیا ہے لیکن بلدی حکام نے اس کی منظوری سے انکار کردیا۔ مکتوب میں بتایا گیا کہ 2007ء میں اس وقت کی حکومت نے اس اراضی کی رجسٹریشن فیس معاف کردی تھی جو تقریباً 2کروڑ روپئے تھی۔ وقف بورڈ نے حکومت سے درخواست کی کہ جس طرح ریاستی حکومت کی دیگر عمارتوں کو بلڈنگ فیس سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے اسی طرح حج ہاوز سے متصل کمرشیل کامپلکس کو بھی استثنیٰ دیا جائے۔ 2007ء میں حکومت نے 2کروڑ روپئے رجسٹریشن فیس ادا کرتے ہوئے وقف بورڈ کو بھاری بوجھ سے بچالیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ اس قدر بھاری رقم ادا کرنے کے موقف میں نہیں۔ اگر حکومت بلڈنگ فیس سے استسثنیٰ دیتی ہے تو اس زیر تکمیل کامپلکس کو کسی خانگی ادارہ کو لیز پر دیا جاسکتا ہے۔ کئی خانگی اداروں نے اس زیر تکمیل کامپلکس کے کام کی تکمیل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کی عدم کارروائی کے نتیجہ میں یہ کامپلکس نہ صرف ادھورا ہے بلکہ اس پر خرچ کی گئی تقریباً 12کروڑ روپئے کی رقم بے فیض ثابت ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں نے بلڈنگ فیس کی معافی کی تجویز سے اختلاف کیا ہے جس کے باعث حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے میں تامل کررہی ہے۔ حکومت کو بلڈنگ فیس سے استثنیٰ کی صورت میں اپنے خزانہ سے 4کروڑ 60لاکھ روپئے ادا کرنے پڑیں گے۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1105 کروڑ روپئے کا جو بجٹ مختص کیا ہے اس میں سے یہ رقم ادا کی جاسکتی ہے کیونکہ کسی بھی سال الاٹ کردہ مکمل بجٹ خرچ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ 1034کروڑ تھا جس میں سے تقریباً 300کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT