Thursday , June 21 2018
Home / عرب دنیا / عمرہ کیلئے آن لائن درخواستیں

عمرہ کیلئے آن لائن درخواستیں

ریاض۔ 27 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی وزیر حج بندر حجار کا کہنا ہے کہ عمرہ ٹور پریٹرز اب عمرہ ویزے کے لئے درخواستوں آن لائن بھی وصول کر سکتے ہیں۔ حجار کے مطابق ان درخواستوں کا سلسلہ 23 نومبر کو شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ عازمین عمرہ کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔وزیر حج کے مطاب

ریاض۔ 27 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی وزیر حج بندر حجار کا کہنا ہے کہ عمرہ ٹور پریٹرز اب عمرہ ویزے کے لئے درخواستوں آن لائن بھی وصول کر سکتے ہیں۔ حجار کے مطابق ان درخواستوں کا سلسلہ 23 نومبر کو شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ عازمین عمرہ کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔وزیر حج کے مطابق آن لائن سسٹم پچھلے سال بھی بڑی سہولت کے ساتھ چلتا رہا تھا اور اس کے ذریعے سے 60 لاکھ درخواستوں کی پراسیسنگ کی گئی تھی۔ ان میں سے صرف 6000 زائرین ہی مملکت میں غیر قانونی طور پر ٹھہرے رہے تھے۔حجار کے مطابق،” اگر خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ کے حکم پر توسیعی منصوبے نہ مکمل ہوئے ہوتے اتنے زیادہ مسلمان زائرین کو سہولیات فراہم کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔”ان کا کہنا تھا کہ عمرہ زائرین کو پیش کی جانیوالی سہولیات میں بہتری کے لئے اس سال نئے قوانین کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔ ان سہولیات میں ویزے کا اجراء، بیرون ملک کام کرنے والی ایجنسیوں کے فرائض میں اضافہ،

سروس سٹاف کی ٹریننگ اور ان ممالک کے ساتھ کام کرنا جن کے عمرہ آپریٹرز نہیں ہوں گے۔حجار کے مطابق وزارت حج نے وزارت خارجہ کے تعاون سے ایک انٹرنیٹ پر ایک پورٹل قائم کیا ہے جس کی مدد سے غیر ملکی زائرین کو خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس پورٹل سے ان زائرین کو خاص طور پر مدد ملے گی جن کے ملکوں میں کوئی عمرہ آپریٹر کام نہیں کر رہا ہے۔سعودی وزیر حج کے مطابق اس سال کی تیاریاں پچھلے عمرے کے دوران ہی شروع کر دی گئی تھیں اور حکام نے پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔حجار کے مطابق عمرے سے متعلق تمام سرگرمیاں کمپیوٹر پر سرانجام دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے درخواست نمٹانے کا وقت کم ہو کر صرف چند گھنٹے ہی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ویزا درخواست کو منظور یا مسترد کرنے کے عمل کو چند گھنٹے سے زیادہ کا عمل درکار نہیں ہوتا ہے اور اس صورت میں سیکیورٹی یا سروس کی شکایات بھی سامنے نہیں آتی ہیں۔ اس سے پہلے اس عمل میں کئی دن یا ہفتوں کا وقت صرف ہو جاتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT