Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / عمر قتل معاملہ: ہجومی تشدد کو پولیس معمولی جرم ثابت کرنے میں مصروف ‘ پولیس ابھی تک قتل کے تمام ملزمین کو گرفتار کرنے میں ناکام 

عمر قتل معاملہ: ہجومی تشدد کو پولیس معمولی جرم ثابت کرنے میں مصروف ‘ پولیس ابھی تک قتل کے تمام ملزمین کو گرفتار کرنے میں ناکام 

پولیس متاثرین پر تو گرمجوشی سے کاروائی کررہی ہے لیکن ملزمین سے سختی سے پوچھ گچھ تک نہیں کی جارہی کیونکہ نہ تو پولیس نے ابھی تک آلہ قتل برآمد کیاہے اور نہ تمام ملزمین کا سراغ لگاپانے میں کامیابی حاصل کی ۔
الور۔ ہریانہ کے ضلع الور میں مبینہ گاؤ رکشکوں کے ہجومی تشدد کا شکار ہوئے عمر خان کے معاملہ کو پولیس پوری قوت کے ساتھ معمولی جرم ثابت کرنے میں مصروف عمل ہے۔عمر کے ساتھ زخمی ہوئے طاہر اور گاڑی چلارہے جاوید کی خودسپردگی کے بعدپولیس انہیں عادی مجرم تو قراردیا ہے ساتھ ہی ان کے دوردور کے رشتہ داروں پر کیس درج ہونے کی بات کی جارہی ہے ۔د وسری طرف عمر کے قتل کے تمام چھ ملزمین کو پولیس ابھی تک گرفتار نہیں کرہائی ہے۔ دو ملزمین بھگوان سنگھ گوجر عرف کال او رامویر گوجر کو گرفتار ضرور کیاگیا ہے لیکن مزید چار ملزمین ابھی تک پولیس گرفت سے بار ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس متاثرین تو گرم جوشی سے کاروائی کررہی ہے لیکن ملزمین سے سختی سے پوچھ گچپ تک نہیں کی جارہی ہے کیونکہ نہ تو پولیس نے ابھی تک قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کیاہے او رنہ تمام ملزمین کا سراغ لگاپانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ عمر کے گاؤں گھاٹ میکا اور پورے ضلع الور کے میوبرداری سے وابستہ افراد او ردیگر سماجی خدما ت انجام دینے والی تنظیمو ں سے وابستہ لوگوں نے پولیس اور حکومت کی اس ناقص کارکردگی او رملزمان کی پشت پناہی کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اس حوالے سے پہاڑی میں جمعہ کے روز ایک اجلاس کا بھی انعقاد کیاجارہا ہے ۔

اجلاس کے دوران متاثرین کو انصاف دلانے کی حکمت عملی بنانے پر غور کیاجائے گا۔اجلاس میں خطہ میوات او ردیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ اس معاملہ میں سرگرم سماجی کارکن مولانا حنیف منا کا کنہا ہے کہ ’’ پولیس غلط کہانی بناکر کیس کودوسرا رنگ دے رہا ہے او ریہ سب اس لئے ہورہا ہے تاکہ قاتلوں کو بچایاجاسکے۔طاہر او رجاوید کو خودسپردگی کی صلاح اس لئے دی گئی تھی تاکہ قانونی کاروائی پوری ہوسکے لیکن پولیس او رکچھ اخباروں نے انہیں عادی مجرم ‘ گاؤ اسمگلر اور نہ جانے کیاکیا قراردیا یہ ناقابل قبول ہے‘‘۔

مولانا نے کہاکہ آج گاؤں کے تقریبا 75افراد پر پولیس نے مقدمہ ہونے کی بات کی ہے او رہر کسی پر کاروائی کی دھمکی دے رہی ہے ۔ اگر یہ مقدمات پہلے سے ہی درج ہیں تو پولیس نے اب تک کاروائی کیوں نہیں کی تھی۔ ظاہر ہے پولیس کی اس کاروائی کا مقصد متاثرین کو خوفزدہ کرنا اور قاتلوں کی مدد کرنا ہے‘‘۔ معاملے کی پیروی کررہے وکیل محمد قاسم کا کہنا ہے کہ ’’ پولیس د و ملزمان کو گرفتار کیاہے جن میں سے ایک بابالغ ہے۔ عمر حان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ آچکی ہے ۔ زخمی طاہر کا میڈیکل بھی ہوچکا ہے ‘‘۔ قاسم نے کہاکہ بھلے ہی پولیس کتنابھی معاملے کو بگاڑنے کی کوشش کرے لیکن جب عدالت میں معاملہ جائے گاتو پولیس ہر جھوٹی کہانی کا پردہ فاش ہوجائے گا۔ پولیس تھانہ تک اپنی من مانی کرسکتی ہے لیکن مقدمہ ثبوتوں او رگواہوں کی روشنی میں لڑا جاتا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ قاتلوں کو سزا ضرور ملے گی‘‘۔

سماجی کارکن قاسم میواتی کا کہنا ہے ’’ پہلے تو عمر خان کا قتل کرکے ہم پر ظلم کیاگیا او راب پولیس ہمیں طرح طرح کے جھوٹے مقدمے لگا کر زیادتی کررہی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔قاسم میواتی دراصل میوات میں ’ ہر گھونٹے سے کھولوگائے‘ نامی تحریک چلارہے ہیں۔ اس حوالیہ سے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اگر گائے کے نام پر تشدد کا شکار بنایاجائے گا‘ سڑکوں پر قتل کیاجائے گا تو ہمیں گائے پالنی ہی نہیں چاہئے۔ وہ گاؤں گاؤں میں جاکر لوگوں کوسمجھا رہے ہیں کہ اپنے کھونٹے سے گائے گھول کر پولیس‘ انتظامیہ یا پھر حکومت کے پاس پہنچادو تاکہ بے موت مارے جانے سے بچ سکو۔میوات وکاس مہاسبھا سے وابستہ نظیفہ زاہد کا کہنا ہے ’’ پولیس کے مطابق دوگروپوں میں لڑائی ہہوئی اورفائرنگ بھی ہوئی۔

میرا سوال ہے کہ اگر فائرنگ ہوئی ہے تو پولیس اس کا ثبوت بھی تو پیش کرے۔کوئی حملہ آور گولی سے زخمی کیوں نہیں ہوا‘‘۔نظیفہ کا مزیدکہنا ہے ’’ سیدھے سادے لوگوں پر ظلم وزیادتی کی انتہا کی جارہی ہے۔ جب ہم انصاف کے لئے نکلتے ہیں تو کئی سیاسی لوگ اپنی روٹیں سیکھنے پہنچ جاتے ہیں۔ اگر انصاف چاہئے تو ہمارا متحد ہونابہت ضروری ہے ورنہ دوردور تک انصاف کی کوئی امید نظر نہیں ائے گی‘‘۔پریس کلب آف انڈیا میں گذشتہ روز ’’ نفرت کے خلاف اتحاد‘‘ کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔

پریس کانفرنس میں عمر خان کے بھائی خورشید ‘ چچا الیاس ‘ ورزاق ‘ حافظ جنید کے بھائی مولانا وحید اورپہلو خان کے بھائی محمد غنی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں شامل شخصیات نے ہجومی تشدد پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے ساتھ جلد از جلد انصاف کیاجائے اور قاتلوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجاجائے۔

TOPPOPULARRECENT