Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / عمر قیدکی سزا سے نکاح نہیںٹوٹتا

عمر قیدکی سزا سے نکاح نہیںٹوٹتا

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ اگرکسی شخص کو عمر قید کی سزا ہوجائے تو کیا رشتہ نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں اور اگر اس کی بیوی دوسرا نکاح کرنا چاہے تو شریعت میں اس کاکیا طریقہ ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب:  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں یہ ہے کہ شریعت اسلامی میں جب ایک مرتبہ نکاح منعقد ہوتاہے تو بیوی اپنے شوہر کی زوجیت سے کبھی خارج نہیں ہوتی تا وقت یہ کہ شوہر اس کو طلاق دے یا وہ خلع لے لے یا مرجائے ۔
دریافت شدہ مسئلہ میں عمر قید کی سزا سے رشتہ نکاح ختم نہیں ہوتا ‘ بیوی کو چاہئے کہ وہ عمر قید کی سزا کاٹنے والے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے اور بعد طلاق یا خلع ‘عدت گزرنے کے بعد وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے ۔اس کی اور ایک صورت یہ ہے کہ وہ اپنی مجبوریات ظاہر کرکے مسلم حاکم عدالت کے پاس فسخ نکاح کی درخواست پیش کرے اگر حاکم عدالت اس کا نکاح فسخ کردے تو اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا اور دوسرا نکاح کرسکتی ہے ۔ انقطاع زوجیت و انقضاء عدت کے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً حرام ہے ۔ رد المحتار ج ۲  ص ۶۲۳  ‘ باب العدۃ میں البحر الرائق  سے منقول ہے : أما نکاح منکوحۃ الغیر و معتدتہ …… لانہ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد اصلا۔ عالمگیری جلد ۱ ص ۲۸۰  میں ہے:  لایجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ ۔
دادا کی وراثت میں پوترے کا حق
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے والد جاگیردار ہیں پہلے وہ ایک فیاکٹری چلاتے تھے۔ وہ زیدکے دادا کے اکلوتے بیٹے ہیں، دادا جان کے گزر جانے کے بعد ان کی ساری زمین و جائیداد پر وہ قابض ہوچکے ہیں۔ جائیداد بیچ کر وہ بینکوں میں پیسہ جمع کرتے ہیں اور اس کے سود سے ہی گھر چلاتے ہیں، حالانکہ یہ اسلام میں حرام اور ناجائز ہے۔ وہ مال کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرتے۔ زید دادا جان کی وراثت میں سے حق لیکر الگ رہنا چاہتا ہے۔ کیا شریعت میں زیدکو اس کی اجازت ہے ۔ آپ شریعت کی روشنی میں رہنمائی کیجئے، ورنہ زید اس زندگی سے تنگ آگیا ہے۔کیا زیدکو دادا جان کی وراثت میں سے حق مانگنے کا حق ہے ؟ کیونکہ زیدکے والد صاحب زیدکو عاق کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو زید خودکشی کرلے گا۔  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیںزید کے دادا کے وارث ، زید کے والد ہوئے۔ زید نہیں ۔ زید کو اپنے دادا کی متروکہ جائیداد سے والد کی زندگی تک کوئی حصہ نہیں مل سکتا۔ والد کے انتقال کے بعد جو ورثاء موجود رہیںگے وہ حصہ شرعی پائیں گے ۔ ان کی زندگی میں نہیں۔ در المختار برحاشیہ ردالمحتار ج ۵ کتاب الفرائض میں ہے: ھل ارث الحی من الحی ام من المیت ؟المعتمد الثانی۔ زید کے والد کو اپنی مکسوبہ اور موروثہ جائیداد میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار ہے۔ ہدایہ ج ۳ ص ۳۶ میں ہے:  لان المالک یتصرف فی ملکہ کیف شاء۔
زید کے والد اگر بینک میں رقم جمع کرواتے ہیں اور بینک جو منافع دے رہا ہے وہ استعمال کر رہے ہیں تو ہندوستان میں یہ امر جائز ہے ۔ ربا (سود) نہیں۔ ہدایہ ج ۳ ص ۴۸ میں ہے:  ولا ربٰو بین المولی وعبدہ … ولا بین ا لمسلم و الحربی فی دارالحرب۔ البتہ ان پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔ ورنہ اس کی پکڑ ان کو ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اﷲ فبشرھم بعذاب الیم(سورئہ توبہ)  اور وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اوران کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ۔ پس آپ ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے ۔
عاق کے معنی نافرمان کے ہیں۔ شریعت میں والد اگر بیٹے کو عاق کرے تو وہ ان کی وراثت سے محروم نہیں ہوتا۔
خودکشی کرنا شریعت میں حرام ہے۔ خودکشی کرنا احکامات خدا وندی کی خلاف ورزی ہے اور دین و دنیا میں ہلاکت و نقصان کا موجب ہے۔ احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے اور سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ لہذا زید اپنے والد کو عمدہ طریقہ سے سمجھائے اور ان کو راضی رکھنے کی فکر کرے۔              فقط واﷲتعالی أعلم بالصواب۔

TOPPOPULARRECENT