عملِ صالح کی اہمیت و افادیت

ایمان کی حفاظت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فکری اور لسانی جھوٹ سے بچا جائے، کیونکہ جھوٹ ایمان کا چور ہے۔ بزرگوں نے یہاں ’’چور‘‘ کا لفظ جو استعمال کیا ہے، وہ بڑا معنی خیز ہے۔ چوری اسی طرح تو ہوتی ہے کہ صاحب مال جب غافل ہوتا ہے، چور مال لے اُڑتا ہے۔ صاحب مال کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ مال چوری ہو گیا۔ جھوٹ بھی ایمان کو اسی طرح چراتا ہے کہ غفلت

ایمان کی حفاظت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فکری اور لسانی جھوٹ سے بچا جائے، کیونکہ جھوٹ ایمان کا چور ہے۔ بزرگوں نے یہاں ’’چور‘‘ کا لفظ جو استعمال کیا ہے، وہ بڑا معنی خیز ہے۔ چوری اسی طرح تو ہوتی ہے کہ صاحب مال جب غافل ہوتا ہے، چور مال لے اُڑتا ہے۔ صاحب مال کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ مال چوری ہو گیا۔ جھوٹ بھی ایمان کو اسی طرح چراتا ہے کہ غفلت کی حالت میں ایمان چوری ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کو اپنی زندگی میں راہ نہیں دینی چاہئے، یہ ایمان کے لئے بڑی خطرناک چیز ہے، اس لئے ’’صداقت‘‘ کو ہمیشہ اپنا شعار اور عادت بنانا چاہئے۔ اللہ تعالی کے نیک بندے مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا کرتے۔ اخلاقی اوصاف میں سب سے اعلی وصف صداقت ہے، اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے اپنا یہی وصف بیان فرمایا اور سامعین سے اس کی گواہی لی تھی۔
قرآن کریم میں بیسیوں آیات ایسی ملتی ہیں، جن میں ’’عمل صالح‘‘ کا ذکر ایمان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد جس اجر کا تذکرہ ہوتا ہے، وہ ایمان اور عمل صالح کا مشترک اجر ہوتا ہے، مثلاً فرمایا: ’’اور جو شخص اچھے کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مؤمن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کی حق تلفی نہیں ہوگی‘‘۔ (سورۃ النساء۔۱۲۴)

اسی طرح بشارتیں بھی ایمان اور عمل صالح پر مشترک دی گئی ہیں، مثلاً فرمایا: ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہیں، ان کو (اے نبی!) خوش خبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغات ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طورپر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے، جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا، اور انھیں وہ رزق ایسا ہی دیا جائے گا، جو صورۃً اس سے مشابہ ہوگا اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (باغات) میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۲۵)

مذکورہ آیات سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کی حیثیت جڑواں (تواَم) اعمال کی ہے۔ ایمان کی حیثیت بیج کی سی ہے اور اعمال صالحہ کی حیثیت درخت اور پھل کی سی۔ جس طرح بیج زمین میں چھپا ہوتا ہے، اسی طرح ایمان بھی دل میں چھپا ہوتا ہے اور جس طرح درخت اور پھل بیج کا ظہور ہوتے ہیں، اسی طرح اعمال صالحہ بھی ایمان کا ظہور ہوتے ہیں اور ان ہی اعمال صالحہ سے ایمان کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔
ہر ملک کی ایک کرنسی ہوتی ہے، مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی کرنسی کا نام ’’روپیہ‘‘ ہے۔ روس کی کرنسی ’’روبل‘‘ کہلاتی ہے، امریکہ کی کرنسی ڈالر کہلاتی ہے، مشرق وسطی کی کرنسی درہم و دینار ہے، سعودی عرب کی کرنسی ریال کہلاتی ہے، برطانیہ کی کرنسی کا نام پاؤنڈ ہے، اسی طرح عالم آخرت کی بھی ایک کرنسی ہے اور اس کا نام ’’عمل صالح‘‘ ہے، جس کو اُردو میں ہم اور آپ ’’نیکی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یہ آخرت کی کرنسی ہے، یہ کرنسی انسان جتنی زیادہ سے زیادہ لے جائے گا، اتنا ہی وہاں خوشحال زندگی گزارے گا۔ وہاں صرف یہی سکہ چلتا ہے۔ مرنے کے بعد چوں کہ انسان کا عمل ختم ہو جاتا ہے، اس لئے اس کے رشتہ دار، دوست احباب قرآن خوانی کرتے ہیں، نفلی عبادتیں کرتے ہیں، غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں، غریبوں کو کپڑا دیتے ہیں اور اس کا ثواب مرحوم کی روح کو پہنچاتے ہیں۔ گویا آخرت کی زندگی کے لئے اسے عمل صالح کی کرنسی فراہم کرتے ہیں۔ چوں کہ اس کا عمل موت کے ساتھ ختم ہو گیا ہے، وہ زبان سے ایک تسبیح بھی پڑھنا چاہے تو نہیں پڑھ سکتا۔ دو رکعت نماز پڑھنا چاہے تو نہیں پڑھ سکتا، اس لئے ایصال ثواب کرکے اس کو عمل صالح کی کرنسی فراہم کی جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس ایصال ثواب کے لئے مرنے والا منتظر رہتا ہے۔ اس کی کیفیت ایسی ہوتی ہے، جیسے کسی ڈوبنے والے کی ہوتی ہے کہ تنکے کا سہارا بھی اس کے لئے بڑی چیز ہوتا ہے۔

روزانہ ہم بیسیوں نیکیاں ضائع کردیتے ہیں، محض اس لئے کہ ہم اپنی دانست میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ معمولی سی چیز ہے، حالانکہ عمل صالح اور نیکی کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا ہوتا ہے۔ اعمال صالحہ کا ذخیرہ جتنا زیادہ ہوگا، آخرت میں اتنا ہی عیش و عشرت اور راحت و آرام نصیب ہوگا۔ اس کا حساب اللہ تعالی نے کچھ یوں رکھا ہے کہ ہر عمل صالح کا اجر کم سے کم دس گنا اور زیادہ سات سو گنا ہوکر ملتا ہے۔ یہ اخلاص پر منحصر ہے کہ نیت جتنی خالص ہوگی، اجر اسی حساب سے ملے گا۔ آپ سونا فروخت کرنے جائیں گے تو جوہری کھوٹ نکال کر اصل سونے کی قیمت دے گا، کیونکہ کھوٹ کی کوئی قیمت نہیں، وہ حساب سے خارج ہے۔ اب اجر پر غور کریں کہ کم سے کم دس گنا تو ہے ہی، اس سے زیادہ جو کچھ ہوگا وہ اخلاص نیت کے مطابق ملے گا، جس کا اندازہ ہم اور آپ نہیں کرسکتے ، اس کا انشازہ صرف اللہ تعالی کرسکتا ہے اور وہی اس کے مطابق اجر دے گا۔ پھر ’’سات سو گنا‘‘ بھی کثرت بتانے کے لئے کہا گیا ہے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کے فضل و کرم پر منحصر ہے، وہ جتنا چاہے دیدے۔
عمل صالح کا اجر آخرت میں عددی بھی ہوگا اور وزنی بھی، مثلاً آپ نے یہاں اللہ کی راہ میں پانچ روپئے خرچ کردیئے تو آپ کے آخرت کے اکاؤنٹ میں کم سے کم پچاس روپئے جمع ہو گئے اور اگر سات سو گنا ہو جائیں تو تین ہزار پانچ سو (۳۵۰۰) یا اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ رہا وزن کا معاملہ تو خوب سمجھ لیجئے کہ عمل صالح یا نیکی میں وزن اخلاص نیت سے آتا ہے، جتنا زیادہ اخلاص ہوگا، اتنا ہی وزن زیادہ ہوگا۔ اسی لئے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ من پسند زندگی میں ہوگا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانا ایک گہرا گڑھا ہوگا اور تمھیں کیا معلوم کہ وہ گہرا گڑھا کیا چیز ہے؟ وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے‘‘۔ (سورۃ القارعہ۔۶تا۱۱) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT