عمومی عادات و معمولات

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیرس)

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیرس)
روزانہ پانچ وقت نماز اور اور سال میں ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے علاوہ مسلمانوں کو بعض دوسرے اعمال کی بھی تاکید کی گئی ہے، جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کو معمول بنایا جائے اور اس کے مندرجات پر غور کیا جائے، تاکہ مسلمان ان تعلیمات کو اپنی زندگی میں جاری و ساری کرلیں اور اللہ تعالی کے کلام سے بڑھ کر کیا چیز باعث برکت ہوسکتی ہے۔

مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر کام شروع کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھے اور اسے ختم کرنے کے بعد کہے ’’الحمد للہ‘‘۔ جب کسی کام کے ارادہ کا اظہار کرے یا مستقبل کے لئے وعدہ کرے تو کہے ’’انشاء اللہ‘‘ (اگر اللہ کو منظور ہوا تو)۔ دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ’’السلام علیکم‘‘ (تم پر سلامتی ہو)، جب کہ دوسرا شخص کہتا ہے ’’وعلیکم السلام‘‘ (اور تم پر بھی سلامتی ہو)۔ یہ کلمات انگریزی کے گڈ مارننگ اور گڈ ایوننگ سے زیادہ جامع ہیں۔

مسلمان کو چاہئے کہ رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھتے ہی اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کرے۔ اس سلسلے میں ’’سبحان اللہ‘‘ کا وظیفہ آسان ترین وظیفہ ہے۔ اس کے علاوہ کثرت سے درود شریف کا ورد کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں پہلو کو ترجیح دیتے، جب پاؤں میں کھڑاویں پہنتے تو دائیں پاؤں میں پہلے پہنتے اور پھر بائیں پاؤں میں اور جب اترتے تو بائیں پاؤں سے پہلے اور دائیں پاؤں سے بعد میں اتارتے۔ جب قمیص (یاعبا) زیب تن فرماتے تو دائیں آستین میں پہلے بازو ڈالتے اور پھر بھائیں میں۔ جب سر مبارک میں کنگھی کرتے تو دائیں نصف سر میں پہلے اور بائیں نصف سر میں بعد میں کنگھی پھیرتے۔ جب گھر یا مسجد میں داخل ہوتے تو دایاں پاؤں پہلے اندر رکھتے اور پھر بایاں پاؤں اندر کرتے۔ اس کے برعکس جب آپﷺ طہارت خانہ میں داخل ہوتے تو بائیں پاؤں کو پہلے اندر کرتے اور پھر دائیں کو اور جب باہر آتے تو دائیں پاؤں پہلے نکالتے اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو نکالتے۔ لباس یا جوتا اترتے وقت بائیں سے آغاز فرماتے۔ جب کوئی چیز تقسیم کرنا مقصود ہوتی تو دائیں طرف کھڑے لوگوں سے شروع کرتے اور بائیں پر جاکر ختم کرتے۔

روزہ مرہ کے ہر کام شروع کرنے سے قبل اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور اس کے کرم و رحمت کے لئے دعائیں زندگی کا مستقل معمول بنالینا چاہئے، چاہے یہ کام حوائج فطرت ہوں یا کاروبار حیات کے دوسرے کام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں ہر موقع کے لئے مخصوص دعائیں موجود ہیں۔

خورد و نوش کے حوالے سے اہم ترین نکات یہ ہیں کہ خنزیر کا گوشت اور چربی ہر شکل میں اس طرح ممنوع ہیں، جیسے نشہ آور مشروبات۔ ایک غلط فہمی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں جو لفظ ’’خمر‘‘ استعمال ہوا ہے، اگرچہ اس کے لفظی معنی تو انگوروں سے بنی ہوئی شراب ہے، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں خمر سے مراد ہر نشہ آور مشروب لیا جاتا تھا۔ اس لئے جب ’’خمر‘‘ کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے ہر قسم کے نشہ آور مشروبات کے تمام ذخائر گلیوں اور نالیوں میں انڈیل دیئے اور یہ نہیں سمجھا کہ یہ حکم ایک مخصوص شراب کے لئے ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مدینہ میں کھجوروں شراب تیار کی جاتی تھی۔ جہاں تک گوشت کا تعلق ہے، مسلمان ایسے جانوروں اور پرندوں کا گوشت استعمال نہیں کرتے، جنھیں صحیح طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں فرمان ہے: ’’تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے، یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں، مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے (بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے) ہاں جو شخص بھوک سے ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (۵؍۳) حلال جانور اور پرندے اگر غیر مسلموں کے ذبح کئے ہوئے ہیں تو ان کا گوشت مسلمانوں کے لئے حلال نہیں ہے۔ اسلامی طریقہ سے ذبح کا عمل اس طرح ہے کہ چھری چلاتے وقت بسم اللہ پڑھا جاتا ہے اور گلا کاٹتے وقت نرخرہ، خوراک کی نالی اور شہ رگ کاٹی جاتی ہے، تاہم حرام مغز کو نہیں چھیڑا جاتا۔ جب تک جانور کی جان مکمل طورپر نہ نکل جائے سر کاٹ کر الگ نہ کیا جائے اور نہ ہی کھال اتارنے کا کام شروع کیا جائے۔

کھانے کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مسلمانوں کے لئے ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’سونا اور خالص ریشم کا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں، صرف عورتوں کو اجازت ہے‘‘۔ تاہم کچھ مستثنیات ہیں، جن کے تحت فوجی یونیفارم کے طورپر ریشم پہننا جائز ہے۔ اسی طرح دانت پر سونے کا خول چڑھوانے کی بھی اجازت ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دانت پر سونے کا خول چڑھوایا تھا۔ اس کے علاوہ عرفجاہ بن اسعد نامی ایک صحابی نے روایت کیا کہ ان کی ناک ایک جنگ میں کٹ گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں اجازت دی تھی کہ وہ ناک کے اوپر سونے کا خول پہن لیں، کیونکہ چاندی کا خول گل گیا تھا۔

مسلم عورتوں کے لئے حکم ہے کہ وہ جسم کو اچھی طرح ڈھانپنے والا شائستہ لباس پہنیں اور ایسے پہناوے سے گریز کریں، جس سے کسی طرح جسم جھلکے یا برہنگی کا شائبہ ہو۔ ان کے لئے لباس اور بالوں کی تراش میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ انھیں ان تمام چیزوں سے گریز کرنا چاہئے، جو بازاری عورتوں کا خاصہ ہیں۔ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نماز کی ادائیگی کے دوران سر کو ڈھانپ کر رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے لئے تاکید فرمائی ہے کہ وہ زیر جامہ بھی استعمال کریں اور (باہر جاتے وقت) ان کے گاؤن (عبا، برقعہ) پنڈلی کے نصف سے اوپر ہرگز نہیں ہونا چاہئے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ ٹخنوں تک ہوں (جیسا کہ ابوداؤد، ترمذی، ابن حنبل اور دوسروں کی روایت کردہ احادیث سے ثابت ہے)۔ (’’اسلام کیا ہے؟‘‘ سے اقتباس)

TOPPOPULARRECENT