Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / عنادل باغ کے بیٹھیں نہ غافل آشیانوں میں

عنادل باغ کے بیٹھیں نہ غافل آشیانوں میں

محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ
’’ وقت کے موذن‘‘ نے زندگی کے عبادت خانے میں جدوجہد کی عبادت کیلئے ’’ اذاں ‘‘ دے دی ہے ۔
اب وقت کا مورخ اپنا قلم روکے ہوئے مسلمانوں کے ردعمل کا منتظر ہے کہ یہ مسلمان جنہوں نے 40 ہزار کے شکر کے ساتھ اپنے وقت کی قوی ترین طاقتور ترین دو لاکھ رومی فوج کو دھول چاٹنے پر مجبور کردیا تھا ۔ صرف 7 ہزار سپاہ کے ساتھ اسپین کے شاہ راڈرک کی ایک لاکھ فوج کو شکست فاش دی تھی ۔ آج جبکہ وقت قیام آیا ہے تو کیا قیام کریں گے یا بزدلوں کی طرح سجدے میں گر پڑیں گے یا پھر شترمرغ کی طرح ریت کے طوفان سے بچنے کیلئے ریت میں سرچھپاکر یہ سمجھ لیں گے کہ وہ بچ گئے یا پھر مسائل کی بجلی کی کڑک سے بچنے کیلئے اپنی ماؤں کے آنچل میں پناہ لیں گے یا پھر اسپین کے مسلمانوں کی طرح خنزیر کا گوشت کھاکر شراب کے جام پی کر اسلام کو خیرباد کہہ دیں گے ۔
مسلمانوں نے ہندوستان پر کم و بیش ایک ہزار سال حکومت کی وہ سریر آرائے سلطنت رہے ۔ حکومت کی باگ ڈور اُن کے ہاتھ میں تھی وہ سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ انہوں نے بے شک ہندوستان کو جنت نشاں بنادیا ۔ رشک جناں بنایا ۔ کشمیر کو دلہن کی طرح سجادیا ۔ لاہور کو دنیا کا لاثانی شہر بنایا ۔ تاج محل جیسی دنیا کی خوبصورت ترین عمارت تعمیر کی ۔ ملک کی زباں کلچر تہذیب و تمدن کے دامن پر انمٹ نقوش چھوڑے لیکن ہندوستان کے کاسہ میں تبلیغ کا سکہ نہیں ڈالا ۔ اللہ نے انہیں ایک ہزار سال کا موقع دیا کہ وہ اسلام کی روشنی کو ملک کے کونے کونے میں پہونچائیں ۔ پیغمبر اسلام ﷺ سے وفا کرتے ہوئے پیام محمد ﷺ کو عام کریں ۔ حق کا بول بالا کریں اسلام کے پرچم کو بلند کریں ۔ اگر وہ ایسا کرسکتے تو یہ جہاں کیا چیز ہے لوح و قلم پر اُن کا قبضہ ہوتا ۔
افسوس صد افسوس نشۂ اقتدار میں چور مسلم سلاطین نے اللہ کے احکامات کو بالکل ہی فراموش کردیا جس نے اپنے حبیب ﷺ کے صدقے انہیں اقتدار کی دولت سے مالامال کردیا تھا ۔

کسی نے اپنی معشوقہ کی بل کھاتی ہوئی زلفوں پر صراحی دار گردن پر یاقوتی لبوں پر ، ہرنی جیسی آنکھوں پر،  لچکتی کمر پر ، دست حنائی پر ، مرمریں انگلیوں پر ، مرمر سے تراشیدہ بدن پر ، شریعت محمدی ﷺ کو قربان کردیا تو کسی نے ایک کیلو گوشت اور گھڑا بھر شراب کے عوض پیام محمدی ﷺ کو فراموش کردیا ۔ اپنے حرم کو عورتوں سے بھرتے رہے اور حرام زندگی گذارتے رہے ۔ انہوں نے غور ہی نہیں کیا یا یہ سونچنے کی زحمت گوارہ نہیں کہ ہر طلوع ہونے والا سورج یہ منادی کرتا ہے کہ اسے غروب ہونا ہے ۔ پھر وقت نے کروٹ لی ۔ ذلالت کے اندھیرے نے اقتدار کے اُجالے کو ہضم کردیا ۔
اور ہم اس ذلالت کے اندھیرے میں آج ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ آج اسلام دشمن طاقتوں کو مسلمانوں کا وجود بری طرح کھٹک رہا ہے ۔ وہ مسلمانوں کے نہیں ’ مسلمانیت ‘‘ کے دشمن ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اگر ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو رہیں لیکن اسلام پر عمل پیرا نہ رہیں ۔ قرآن پڑھیں لیکن عمل نہ کریں ۔ اذاں ہوتی رہے لیکن مساجد ویراں رہیں ۔
اپنے مقصدِ سفلی کو حاصل کرنے کیلئے انہوں نے مسلمانوں کی غیرت شرم و حیا ضمیر ایمان اور خودداری کو فسادات کی آگ میں جھونک دیا ۔
پھر نواکھالی میں خون بہا ، جمشیدپور میں سینے چھلنی کردئے گئے ۔ بھاگلپور میں ہماری لاشیں بے گور و کفن پڑی رہیں ۔ ہاشم آباد و ملیانہ میں سینکڑوں نوجوانوں کو گولی مارکر دریا بُرد کردیا گیا ۔ بھیونڈی میں ، مرادآباد میں ، چکمگلور ، حیدرآباد میں مسلمانوں کے تجارتی مراکز کو آگ لگادی گئی ۔ گجرات میں تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو حکومت کی ناک کے نیچے پولیس کی چھترچھایا میں تکڑے کرکے جلادیا گیا ۔ دوسو سے زیادہ دیہات مسلمانوں سے خالی کرادئیے گئے ۔ کھیت اجاڑ دئیے گئے ۔ دوکانیں لوٹ لی گئیں ۔ ہماری پیشانی پر بل نہیں پڑے ! بابری مسجد شہید کردی گئی ہم دیکھتے رہ گئے ۔ اردو کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہم مہر بہ لب رہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پروار کیا گیا ۔ ہم بت بنے رہے ۔ بری بحری  اور فضائیہ افواج میں ناانصافی کی گئی ہم نے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ IPS، IAS جیسے عہدوں سے دانستہ دور کردئیے گئے ۔ ہمارے کان پر جوں نہیں رینگی ۔ ملازمتوں میں جگہ نہیں دی گئی ہم نے آٹو چلانا ، بنڈیوں پر میوہ بیچنا منظور کرلیا لیکن کوئی جدوجہد نہیں کی ۔ ہمیں ’’ حرامزادہ ‘‘ کہا گیا ہم نے خندہ پیشانی کے ساتھ یہ گالی بھی ہضم کرلی ۔ گھر واپسی کے نام پر سینکڑوں مسلمانوں کو شدھی کیا گیا ۔ ہم نے ہونٹ سی لئے ۔
یوں جب شب دیجور کے راج دلاروں نے دیکھا کہ پیٹھ پر وار کیا ’’ ملت‘‘ کا دم نہیں نکلا ۔ پیٹ پر وار کیا ۔ ملت کا دم نہیں نکلا ہاتھ کاٹے سانس چلتی رہی پیر کاٹے جسم متحرک رہے ۔ آنکھیں نکال لی گئیں دل دھڑکتا رہا ۔ اب سونچا کہ

شہ رگ پر حملہ کردو
تاکہ اس ملت مرحومہ کی شناخت ہندوستان میں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے ۔ پھر کوئی اسلام کے قانون کے مطابق شریعت محمدی ﷺ کے مطابق اپنی زندگی نہ گذارسکے ۔ ہم نے اس اخبار کے انہی کالموں کے ذریعہ مسلمانوں کی توجہ آنے والے طوفان کی طرف مبذول کروائی تاکہ دیکھو طوفان آنے کو ہے گردوں نے آستینوں میں بجلیاں چھپا رکھی ہیں تہمارے خرمن کی خیر نہیں لیکن
کون سنتا ہے فغان درویش
سپریم کورٹ کی بنچ نے جو جسٹس شری داوے اور جسٹس شری اے کے گوئل پر مشتمل تھی 2015ء میں فیصلہ دیتے ہوئے سہ بارہ طلاق اور ایک سے زیادہ شادیوں پر اپنے گہرے تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہوئے رولنگ دی کہ ایک طرفہ طلاق اور ایک سے زیادہ شادیاں مسلم خواتین کے وقار کے منافی ہے اور سماجی انصاف کے اصولوں کے مغائر ہے ۔ انہوں نے حکومت ہند کو ہدایت دی تھی کہ وہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے عاجلانہ اقدامات کرے تاکہ مذہب کی بنیاد پر کئے جانے والے ’’جنسی امتیاز‘‘ کا خاتمہ ہوسکے ۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں کثرت ازدوج اور طلاق کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے اسکو غیر دستوری  قرار دیا تھا ۔
کانگریس جب تک برسر اقتدار رہی اس نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے آرٹیکل 44 دستور ہند کو ترمیم کے ذریعہ حذف کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جبکہ اس کو ترمیم کیلئے درکار اکثرت لوک سبھا و راجیہ سبھا میں حاصل تھی ۔ شائد وہ ہندووں کے ردعمل سے خوف زدہ تھی ؟  نہ ہی مسلمانوں نے موثر انداز میں ایسی کوئی جدوجہد کی ۔ بس کانگریس کے ہاتھوں کھلونا بنے رہے ۔

اب جبکہ شومی قسمت بی جے پی برسر اقتدار آگئی ہے تو اس نے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے ’’ ایک قانون ‘‘ ملک بھر میں نافذ کرنے کیلئے قدم اٹھاہی لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ملت اسلامیہ خواب غفلت کے مزے لوٹ رہی ہے ۔ ایک دوسرے کو کاٹنے نوچنے پھاڑنے جھنجھوڑنے میں مصروف ہے ۔ اپنے شخصی مفادات کی تکمیل کیلئے بی جے پی کی پاپوش بردرای کرتے ہوئے اقتدار کے گلیاروں میں ملت کے مفادات کو ارزاں قیمت پر فروخت کررہی ہے تو انہوں نے یہ وقت ملت کی شناخت کو ختم کرنے کیلئے انتہائی موزوں سمجھا ، ’’ طبل جنگ ‘‘ بجنے سے پہلے ’’ اتمام حجت ‘‘ کیلئے باریش بزرگوں کی کانفرنس دہلی میں منعقد کی گئی جس میں ان افراد نے مودی کا استقبال ’’ بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے کیا۔ لوہا تپ کر سرخ ہوچکا تھا ۔ ہتوڑا چلا دیا گیا ۔

مودی حکومت نے لا کمیشن کو ہدایت جاری کردی کہ وہ یکساں سیول کوڈ کو قانونی شکل دینے کیلئے اقدامات کرے ۔ یکساں سیول کوڈ کیسا ہوگا ؟ اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لا کمیشن کے چیرمین سابق جسٹس بی ایس چوہان نے انتہائی واضح الفاظ میںکہہ دیا کہ ایک سیکولر قانون ہوگا جس میں کسی مذہبی قانون کو جگہ نہیں دی جائے گی ۔ ہم بھی مسلمانوں کو آگاہ کردینا چاہتے ہیں کہ پیروان امام مبین خبردار غفلت میں نہ رہیں یکساں سیول کوڈ شریعت محمدی کو ہندوستان میں ختم کردے گا اور یہ تمہیں اور تمہاری آنے والی نسلوں کو قرآنی تعلیمات سے دور کردے گا ۔
اب بھی وقت ہے
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
وقت ہے جاگ جاؤ مسلکی اختلاف کو پس پشت ڈال کر
شریعت محمدی ﷺ کے تحفظ کیلئے اپنے گھروں سے خانقاہوں سے پناہ گاہوں سے باہر نکل آؤ سمپوزیم جلسے جلوس سمینار جمہوری انداز میں احتجاج خطوں کے ذریعہ احتجاج دستخطی مہم کے ذریعہ احتجاج کیجئے اور حکومت پر واضح کردیجئے کہ
ہم سرکٹا سکتے ہیں لیکن سرجُھکا سکتے نہیں

TOPPOPULARRECENT