Wednesday , December 19 2018

عوامی جھاڑو سے سیاسی جھاڑو تک

میرا کالم سید امتیاز الدین

میرا کالم سید امتیاز الدین
دو چار دن پہلے ہم اپنے ایک دوست سے ملنے کے لئے ان کے گھر گئے ۔ ان کا دیوان خانہ کھلا ہوا تھا اور ان کا نوکر چہرے پر نقاب لگائے ہوئے کمرے میں جھاڑو دے رہا تھا ۔ ہم باہر ہی کھڑے رہنا چاہتے تھے لیکن ان کے نوکر نے ہمیں اشارے سے اندر آنے کو کہا اور کونے میں رکھی ہوئی ایک کرسی پیش کی ۔ ہم حسب ہدایت کرسی پر بیٹھ گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ نوکر نے بڑے انہماک سے جھاڑو دی ۔ کچھ پرانے اخبارات اکٹھا کئے اور انھیں ایک ڈبے میں رکھا ،جس میں پہلے سے اخبارات پڑے ہوئے تھے ۔ چھت کے جالے صاف کئے ۔ ایک کوڑا دان میں کچرا ڈالا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے دوست السلام علیکم کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے ۔ ہم نے بھی کھڑے ہو کر ان سے مصافحہ کیا ۔ ہم کویہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ہمارے دوست وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے ، جنھیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ان کا نوکر زیب تن کئے ہوئے تھا ۔ ہم نے دل ہی دل میں ان کے گھر میں پھیلی ہوئی مساوات کی داد دی کہ جیسے کپڑے نوکر پہنتا ہے ویسے ہی آقا بھی پہنتا ہے ۔ ہمارے دوست کہنے لگے ’بھئی معاف کرنا تمہیں انتظار کرنا پڑا‘ ۔ ہم نے کہا ’کوئی بات نہیں ۔ تمہارے نوکر نے ایک کرسی پر میرے بیٹھنے کا انتظام کردیا تھا ‘ ۔ یہ سن کر ہمارے دوست غصے سے لال پیلے ہوگئے اور کہنے لگے ’کیا کہا نوکر! آپ نے ہماری خوب عزت افزائی کی ۔ ارے میاں ! وہ تو خود میں تھا ، چہرے پر نقاب لگا کر کمرے کی صفائی کررہا تھا‘ ۔ ہم نے شرمندہ ہو کر کہا ’بھئی معاف کرنا مجھے کچھ غلط فہمی ہوگئی ۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن یہ تو بتاؤ کہ تم نے جھاڑو دینے کا کام کب سے شروع کیا ۔ کیا آج تمہارا ملازم چھٹی پر ہے یا ریٹائرمنٹ کے بعد پیسوں کی بچت کے لئے گھریلو کام تم خود کررہے ہو‘ ۔ ہمارے دوست نے کہا ’’ایسی بات نہیں ہے ۔ آج کل ہر بڑا آدمی صفائی کی مہم میں لگا ہوا ہے ۔ کیا تم نے کبھی گھر میں جھاڑو نہیں دی؟‘ ۔ ہم نے نفی میں سرہلایا تو کہنے لگے ’اسی لئے تم بڑے آدمی نہیں بن سکے‘ ۔ ہم نے جواب دیا ’تم نے بھی جھاڑو ایسی عمر میں ہاتھ میں لی ہے ، جب بڑا بننے کی منزل نکل چکی ہے‘ ۔ ہمارے دوست نے کہا ’میاں آج کل بڑا بننا اتنا ضروری نہیں جتنا بڑا دکھائی دینا ۔ اب دیکھو ہمارے پردھان منتری نے صفائی کی مہم شروع کی تو دفتروں ، کالجوں ، ٹی وی اسٹیشن میں کوچہ و بازار میں تمام بڑے بڑے لوگ ہاتھ میں جھاڑو لئے ہوئے اتر گئے ، جیسے جاں باز سپاہی میدان جنگ میں سر سے کفن باندھ کر تلوار بکف اتر پڑتا ہے‘ ۔ ہمارے دوست نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ’آج کل نوکر برائے نام جھاڑو دیتے ہیں ۔ کچرے میں کمی کی بجائے اور اضافہ ہوجاتا ہے ۔ جب سے میں گھر کی صفائی خود کررہا ہوں ۔ کئی اہم کاغذات مجھے ملے جن کے بارے میں میں نے سمجھا تھا کہ وہ کبھی کے گم ہوچکے ہیں ۔ اور تو اور کل ہی مجھے اپنا برتھ سرٹیفکٹ ملا جس کی عرصے سے تلاش تھی ۔

بہرحال یہ بات طے ہے کہ ہمارے ملک میں صفائی ایک اہم ضرورت ہے ۔ شہروں میں صفائی کا تھوڑا بہت انتظام تو ہوجاتا ہے لیکن دیہاتوں کا حال بہت برا ہے ۔ ہم کبھی دور دراز کے دیہاتوں کا حال ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو لرز اٹھتے ہیں ۔ مکانوں کے بیچوں بیچ بہتی ہوئی نالیاں ، تنگ گلیاں ، سڑکوں کے نام پر ٹیڑھے میڑھے راستے ، ننگ دھڑنگ بچے ، بوسیدہ مکان ۔ ایسے مناظر دیکھ کر طبیعت افسردہ ہوجاتی ہے ۔ ہمارے بیشتر دیہات ایسے ہیں ، جہاں گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے ۔ مرد ، عورتیں اور بچے آبادی سے باہر جا کر فارغ ہوتے ہیں ۔ بے پردگی کے علاوہ سردی اور بارش میں یہ عمل کتنا تکلیف دہ ہوتا ہوگا ۔ جب ہم پہلے پہل ملازم ہوئے تھے تو ہمارا تقرر ایک گاؤں میں ہوا تھا ۔ جب ہم جائزہ لینے پہنچے تو ہم جن صاحب کی جگہ لینے کے لئے پہنچے تھے ہمیں دیکھ کر باغ باغ ہوگئے ، کیونکہ وہ ایک طویل مدت سے اپنی رہائی کے انتظار میں تھے ۔ انھوں نے ہم سے کہا ’میں جارہا ہوں ۔ اس لئے آپ میرے مکان میں ہی مقیم ہوجایئے ۔ میں مکان کے مالک سے بات کرچکا ہوں ۔ جب ہم اگلے دن بیت الخلا گئے تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلاء کو دروازہ نہیں ہے ۔ ایک طرف دیوار کی بجائے ٹٹی سی لگی ہے ۔ بڑی مشکل سے ہم اپنے آپ کو اس تکلیف دہ بیت الخلاء میں بیٹھنے پر آمادہ کرسکے ۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک خنزیر اندر داخل ہوگیا اور اس نے صفائی کا کام شروع کردیا ۔ ہم بڑی مشکل سے باہر نکلے ۔ وہ تو کہئے کہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ وہاں اسٹیٹ بینک کی ایک شاخ تھی جس کے منیجر سے ہماری جان پہچان تھی ۔ ہم ان کے ہاں منتقل ہوگئے جہاں بہتر رہائشی انتظام تھا ۔

اسی طرح ہم ہندوستانیوں کی بہت سی عادتیں ایسی ہیں کہ صفائی اور ستھرائی متاثر ہوتی ہے ۔ پان کھانا ہماری تہذیب میں داخل ہے لیکن اکثر پان کھانے والے جابجا تھوکتے رہتے ہیں۔ ہم نے ایک صاحب کا قصہ سنا تھا ،جنہوں نے اپنا گھر بہت سجا کر رکھا تھا ۔ ایک بار ان صاحب کے ایک معمر چچا ان سے ملنے آئے ۔ ان صاحب نے اپنے چچا کو اپنا سجا سجایا گھر دکھانا شروع کیا ۔ چچا صاحب منہ میں پان کا بیڑا دبائے ہوئے تھے اور سجاوٹ کی تعریف بھی کرتے جارہے تھے ۔ بھتیجے کو ڈر ہوا کہ کہیں چچا کے پان کی پیک فرش یا قالین پر نہ گرجائے ۔ اس لئے انھوں نے اپنا اگالدان اٹھایا اور چچا کے آگے کردیا ۔ چچا صاحب اگالدان کا استعمال جانتے ہی نہیں تھے ۔ انھوں نے بھتیجے سے کہا ’اسے سامنے سے ہٹاؤ ورنہ میں اس میں تھوک دوں گا‘ ۔ اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے پان کی پیک نکلی اور فرش گندہ ہوگیا ۔ بعض بیرونی ممالک میں اردو میں بورڈ لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے ’تھوکنا منع ہے ورنہ جرمانہ عائد ہوگا‘ ۔ ایسے اعلانات کا اردو میں لکھا ہونا اردو کی مقبولیت کا ثبوت نہیں ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اردو بولنے والوں میں سے اکثر پان کھاتے ہیں اور ادھر ادھر تھوک دیتے ہیں ۔

تفریحی مقامات پر بھی لوگ کھانے پینے کی چیزیں لے جاتے ہیں اور استعمال شدہ چیزیں ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں ۔ ایک صاحب کسی پارک میں بیٹھ کر کیلے کھارہے تھے اور چھلکے لاپروائی سے پھینک رہے تھے ۔ وہیں ایک بورڈ لگا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ’گندگی مت پھیلایئے‘ پارک کانگراں کار ان کے پاس آیا اور کہنے لگا ’کیا تم کو بورڈ نظر نہیں آرہا ہے‘۔ انھوں نے کہا ’بورڈ تو نظر آرہا ہے لیکن مجھے پڑھنا نہیں آتا‘ ۔ جہالت سے بھی گندگی پھیلتی ہے ۔ صفائی کی مہم کے ساتھ جہالت کے خلاف خواندگی کی مہم بھی ہمارے لئے ضروری ہے ۔
باہر کے ملکوں میں لوگوں کے پاس کچرے کی تھیلیاں ہوتی ہیں جنھیں کوڑے دان میں ڈالا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی ہر محلے میں بڑے بڑے کوڑے دان ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ ڈسٹ بن تک جانے کی زحمت نہیں کرتے بلکہ ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں ۔ خود ہمارے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہمارے پاس ایک لاپروا ملازمہ تھی جو ہمارے گھر کا کچرا ایک پیکٹ میں لے جاتی تھی اور ہمارے گھر سے قریب کسی صاحب کے مکان کے پاس ڈال دیتی تھی ۔ ہمارے پڑوسی نے کچھ دن تک برداشت کیا پھر ایک دن انھوں نے جاسوسی کی ٹھانی اور کچرے کے پیکٹ کا بغور مشاہدہ کیا ۔ اتفاق سے انھیں ایسا لفافہ ہاتھ لگا جس پر ہمارا نام اور پتہ لکھا ہوا تھا ، وہ سیدھے ہمارے پاس آئے اور شکایت کی ۔ ہم نے بھی اپنی ملازمہ کو ڈانٹ پلائی تب جا کے اس نے بادل ناخواستہ کوڑے دان تک جانا شروع کیا ۔

بہرحال جب سے مودی جی نے صفائی کی مہم شروع کی ہے ۔ جھاڑو کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ قدیم زمانے میں لوگ گھروں میں ہتھیار دیواروں پر سجاتے تھے ۔ کیا پتہ اب خوبصورت ، رنگ برنگی جھاڑوئیں لگائی جائیں گی ۔ دفتروں میں بڑے بڑے افسر اپنے سکریٹری کو انٹرکام پر ہدایت دیں گے کہ میرے دوست آئے ہیں کری پفس اور چائے کے ساتھ جھاڑو بھی روانہ کرو تاکہ چائے نوشی کے بعد فرش اور قالین پر کچھ کچرا رہ جائے تو فوراً صفائی ہوجائے ۔ اروند کیجریوال نے جھاڑو کی مدد سے رشوت ستانی اور بدعنوانی کی صفائی کرنا چاہی تھی لیکن عوام نے انتخابات میں ان کی پارٹی پر جھاڑو پھیردی ۔ مودی جی پریکٹیکل آدمی ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جھاڑو کا صحیح مصرف کیا ہے ۔ انھوں نے صاف پاک بھارت بنانے کے لئے پانچ سال کی مدت مقرر کی ہے ۔ ہم اگر اپنے گھر اور اپنے گھر کے اطراف و اکناف کو صاف رکھنے کی کوشش کریں تو یہ بھی ملک کی خدمت ہوگی ۔ گھروں اور کوچہ و بازار کی گندگی کو دور کرنا بھی کافی نہیں ۔ ہمیں اپنے دلوں کو بھی صاف رکھنا ہوگا کیونکہ گاندھی جی دلوں کی صفائی کو بھی اہمیت دیتے تھے اور ان کے خوابوں کا ہندوستان ہر قسم کے بھید بھاؤ سے پاک اور پریم اور بھائی چارے کا ہندوستان ہے ۔

TOPPOPULARRECENT