Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / عوامی حقوق اور آزادی خیال کو دبانے حکومت کی سازش

عوامی حقوق اور آزادی خیال کو دبانے حکومت کی سازش

صدر ہیومن رائٹس فورم جیون کمار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : عوامی تحریک سے تشکیل شدہ نئی ریاست تلنگانہ میں بھی اب عوامی تحریکوں کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ گذشتہ 50 سال سے عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے جاری اقدامات دوبارہ پھر دہرائے جارہے ہیں اور افسوس کہ نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں بھی پولیس کو اختیارات کے نام پر کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ہیومن رائٹس فورم ( ایم آر ایف ) کے صدر مسٹر جیون کمار نے کیا جو آج یہاں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ ریاست تلنگانہ میں بے روزگار نوجوانوں کے مسائل اور روزگار کے سرکاری موقع فراہم کرنے کے لیے منعقد کی گئی بے روزگاروں کی ریالی کے بعد فورم نے ایک تحقیقاتی کمیٹی کو قائم کیا تھا ۔ ماہرین انسانی حقوق تنظیموں اور سیاسی تنظیموں سے وابستہ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے اپنی فیاکٹ فنڈنگ رپورٹ میں ان تجربات کا اظہار کیا ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران مسٹر جیون کمار نے کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ اور حقائق کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اس ریالی کو ناکام بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی اور ریاستی وزراء سوائے جے اے سی کے خلاف زہر افشانی کے کوئی اور کام پر نہیں تھے ۔ 22 فروری کو منعقدہ اس ریالی کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے انتھک کوشش کی ۔ عدالت سے مشروط اجازت کے بعد جے اے سی نے عدالت سے اپنی درخواست کو واپس لے لیا تھا ۔ اور ناگول میں اجلاس ممکن نہ ہونے کے سبب پرامن طور پر سندریا ویگنان کیندرم سے اندرا پارک دھرنا چوک تک ریالی نکالنے کا اعلان کیا تاہم 21 فروری کی رات ہی سے پولیس نے اضلاع میں گرفتاریاں شروع کردیں ۔ اور 22 کی صبح جے اے سی قائدین بشمول چیرمین کودنڈا رام و دیگر قائدین کو ان کے مکانات پر نظر بند کردیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اہم راستوں اور اضلاع سے شہر آنے والوں راستوں پر ناکہ بندی کرتے ہوئے شہر کو پولیس نے عملا اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریالی کا 15 روز قبل ہی اعلان کیا گیا تھا تاہم پولیس نے طرح طرح سے جے اے سی قائدین کو ہراساں و پریشان کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جن حقائق کو پیش کیا گیا اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل میں قربانیوں اور تحریکوں کی اصل ذمہ دار جے اے سی کو کمزور کرنے کی سرکاری طور پر کوشش جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فیاکٹ فنڈنگ میں یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ عوامی حقوق اور دستور کی جانب سے دئیے گئے بنیادی حقوق ، آزادی اظہار خیال جیسے حقوق کو سابقہ حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی دبانے کے اقدامات پر عمل پیرا دیکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے ایچ آر ایف کی جانب سے مطالبہ کیا کہ جس طرح تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ رویہ اختیار کیا گیا اس پر ایک برسر کار جج سے ذریعہ تحقیقات عمل میں لائے جاتے ہیں اور ملازمتوں پر تقررات کے لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ باضابطہ اطمینان بخش بیان جاری کرے اور کارکنوں اور بے روزگار نوجوانوں پر عائد مقدمات کو برخواست کیا جائے ۔ اس موقع پر سید بلال نائب صدر ایچ آر ایف حیدرآباد کمیٹی ، وی بالراجو ، سکریٹری اور سنجیو کمار رکن و دیگر موجود تھے ۔۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT