Thursday , December 13 2018

عوامی سطح پر مذہبی احیاء پرستی باعث تشویش

علیگڑھ۔ 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) نلسار یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے عوامی سطح پر مذہبی احیاء پرستی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہر سال کم سیکولر ہوتا جارہا ہے اور ہر سال ہمارے سیکولرزم کا گراف گھٹتا جارہا ہے۔ فیضان مصطفی نے کہا کہ یوم جمہوریہ کے اشتہار میں ہندوستانی دستور کے دیباچہ سے دو الف

علیگڑھ۔ 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) نلسار یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے عوامی سطح پر مذہبی احیاء پرستی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہر سال کم سیکولر ہوتا جارہا ہے اور ہر سال ہمارے سیکولرزم کا گراف گھٹتا جارہا ہے۔ فیضان مصطفی نے کہا کہ یوم جمہوریہ کے اشتہار میں ہندوستانی دستور کے دیباچہ سے دو الفاظ کی تحذیف اور اس پر حکمراں بی جے پی کی حلیف شیوسینا کے تبصرے ہماری سیکولر سیاست کی حالت کا تنقیدی جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مسٹر فیضان مصطفی نے کہا کہ ’’مملکت اور مذہب کے درمیان دیوار کھڑا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ناکامی پہلی فاش غلطی ہے۔ سیکولرزم جدید دور اور عصریت کی بنیاد ہے۔ سیکولرزم کی تشریح دراصل ترقی و خوشحالی کی داستان اور عمل کی وجہ ہے۔ مسٹر فیضان مصطفی نے جو یہاں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایک تقریب میں شرکت کیلئے پہونچے ہیں، اس بات کی نشاندہی کی۔ گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری انتہائی شدت پسندوں کی سرگرمیوں سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ ہندوازم بہت جلد اس ملک کا مجازی (غیرمعلنہ) سرکاری مذہب بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر مذہبی احیاء پرستی انتہائی تشویشناک مسئلہ ہے۔ مسٹر فیضان مصطفی نے کہا کہ’’سیکولرزم کے ساتھ تجربہ میں ہندوستان کی ناکامی 21 ویں صدی کا بدترین المیہ ہوگی۔ مسٹر مصطفی نے کہا کہ ’’شیوسینا جب مہاراشٹرا کو ہندوستان کی پہلی ہندو ریاست بنانے کا مطالبہ کیا تھا، کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس خطرناک کوشش کا ازخود نوٹ لیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT