Friday , May 25 2018
Home / شہر کی خبریں / عوامی شعبہ کے 26 بینکس کا 6 بینکوں میں انضمام

عوامی شعبہ کے 26 بینکس کا 6 بینکوں میں انضمام

حکومت ہند سے اقدامات کا آغاز ، بینک کھاتہ داروں میں تشویش کی لہر
حیدرآباد۔20ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت ہند نے ملک میں چلائے جانے والے عوامی شعبہ کے 26 بینکوں کو 6 بینکو ں میں ضم کرنے کے فیصلہ کو قطعیت دینے کا عمل شروع کردیا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات سے عوام میں خوف و دہشت کی لہر پائی جاتی ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ 20بینک بند ہونے والے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہند نے ملک کے 20عوامی شراکت داری کے تحت چلائے جانے والے بینکوں کو 6 بینکوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ حکومت پر عائد ہونے والے بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہونے کے علاوہ ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزارت فینانس کی جانب سے تیارکردہ منصوبہ کے مطابق ہندستان میں اب صرف 6 بینک اور ان کی شاخیں باقی رہیں گی جبکہ ان میں 20بینکوں کو ضم کردیا جائے گا۔ جو بینک باقی رہیں گے ان میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا‘ پنجاب نیشنل بینک‘ کنارا بینک‘ یونین بینک آف انڈیا‘ بینک آف انڈیا اور بینک آف بروڈہ شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد‘ اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ ‘ اسٹیٹ بینک آف میسور‘ اسٹیٹ بینک آف تراونکور اور اسٹیٹ بینک آف بیکانیر اینڈ جئے پور کے انضمام کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے اور اب حکومت کی جانب سے دیگر بینکوں کے انضمام کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ پنجاب نیشنل بینک میں الہ آباد بینک‘ اورینٹل بینک آف کامرس ‘ کارپوریشن بینک اور انڈین بینک کو ضم کیا جائے گا۔ اسی طرح کنارا بینک میں سینڈیکیٹ بینک ‘ انڈین اوورسیز بینک اور یوکو بینک کو ضم کیا جائے گا۔ یونین بینک آف انڈیا میں حکومت نے آئی ڈی بی آئی بینک‘ سنٹرل بینک آف انڈیا اور دینا بینک کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بینک آف بروڈہ میں تین بینکوں کے انضمام کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں یونائیٹڈ بینک آف انڈیا‘ پنجاب اینڈ سندھ بینک اوربھارتیہ مہیلا بینک شامل ہے جنہیں ضم کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت ہند نے محکمہ فینانس کی اس تجویز کو تیزی کے ساتھ عمل آوری کے اقدامات کی ہدایت جاری کر چکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی اس سلسلہ میں احکامات کی اجرائی عمل میںلائی جائے گی۔ محکمہ فینانس کے ذرائع کے مطابق آئندہ دو ماہ کے دوران اس فیصلہ کو قطعیت دیتے ہوئے احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ یہ منصوبہ 2016 سے زیر غور ہے اور تجرباتی اساس پر اسٹیٹ بینک کے انضمام کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے جو کہ حکومت اور بینک کے علاوہ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت ‘ بینک اور عوام کے حق میں سود مند ثابت ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT