Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / عوامی صحت اور کارپوریٹ دواخانے

عوامی صحت اور کارپوریٹ دواخانے

تلنگانہ میں تعلیم ، صحت، معیشت میں ہونے والی دھاندلیوں کی خبر لینے کے لئے حکومت نے مختلف اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خانگی اسکولوں اور کالجس میں بے قاعدگیوں کی شکایت میں اضافہ ہوا تو حکومت نے باقاعدہ تحقیقات کا اعلان بھی کردیا۔ خانگی تعلیمی ادارے دن بہ دن والدین اور سرپرستوں کی جیب کاٹنے والے مراکز میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ اسی طرح خانگی دواخانوں ،کارپوریٹ ہاسپٹل میں شہریوں کو علاج کروانا مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ ضروری اشیاء میں ملاوٹ، بیگم بازار میں دھوکہ باز بیوپاریوں کی گرفتاریوں سے عوام پر یہ منکشف ہوا ہے کہ ان کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء میں ملاوٹ کرکے صحت کو نقصان پہونچانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو صحت کی خرابی پر علاج کرانے کا خرچ بھی سوہان روح بن رہا ہے۔ خانگی دواخانوں میں مریض جب ایک بار داخل ہوتا ہے تو اس کو مختلف ٹسٹوں کے عنوانات سے پریشان کیا جاتا ہے۔ معمولی مرض کے عوض مریض سے بھاری رقم حاصل کرلی جاتی ہے۔ دواخانہ کا بلنگ سیکشن مریضوں کی جیب کاٹنے والا اڈہ بن گیا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ شہر کے کارپوریٹ دواخانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ ان کارپوریٹ دواخانوں کے مالکین کا تعلق حکمراں طبقہ کے کسی نہ کسی رکن سے ہوتا ہے۔ تلنگانہ کے کارپوریٹ دواخانوں کی من مانی کی شکایت حال ہی میں رکن پارلیمنٹ ایم اے خاں نے مرکزی وزیر صحت سے کی تھی۔ شہر کے ایک کارپوریٹ دواخانے ان کی اہلیہ کے غیرضروری کئی ٹسٹ کرواتے گئے اور 25 ہزار روپئے کا بِل بنا دیا گیا۔ ہر عام آدمی کو ان دواخانوں کی زیادتیوں کا یوں ہی شکار ہونا پڑتا ہے۔ صحت کے شعبہ میں اس طرح کی بے ایمانی اور سفید چوری کی روک تھام بے حد ضروری ہے، ورنہ عوام ایسے میڈیکل اخراجات کا خوف کھاکر اپنی صحت کو ابتری کے حوالے کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ملک میں میڈیکل شعبہ کے تعلق سے جو غلط تاثر پیدا ہوچکا ہے، اس پر توجہ دینا مرکز اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ غریب عوام کی صحت کے ساتھ لالچ کا کھیل یوں ہی چلتا رہا تو انسانی نظام صحت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ ویسے جب سے کارپوریٹ دواخانے اور بھاری ڈونیشن دے کر میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کا رجحان زور پکڑا ہے، علاج و معالجہ بھی مہنگا بنا دیا گیا ہے۔ دواخانوں میں ہر شعبہ کا روزگار جاری رکھنے کیلئے مریضوں کو مختلف معائنوں سے گذار جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر مجبوراً معائنے کروانے والے مریض اور ان کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں کے چہروں پر مایوس اور محرومی عیاں نظر آتی ہے۔ بل کی ادائیگی کے وقت ان غریب چہروں سے پچھتاوے کی لکیریں نمودار ہوتی ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ کاش! دواخانہ آنے سے بہتر تھا کہ گھر پر ہی مبتلائے مرض پڑے رہتے۔ ڈاکٹرس اور دواخانوں پر سرمایہ کاری کرنے والے دولت مند لوگوں نے عوامی جسم کو لاغر کرکے چھوڑنے کے ساتھ ان کی جیب بھی ہلکی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی کوتاہیوں اور نرم پالیسیوں سے فیض یاب ہونا ہے۔ دواخانوں میں ایک اور بدترین رجحان غیرضروری آپریشنس کا چل رہا ہے، حاملہ خواتین کی نارمل ڈیلیوری کو ترجیح دینے کے بجائے سیزیرین کیس بناکر آپریشن کے ذریعہ زچگی کو لازمی کردیا جارہا ہے۔ نتیجہ میں غریب حاملہ خاتون کی زچگی پر 70 ہزار تا 1.5 لاکھ روپئے کا خرچ بتایا جاتا ہے جبکہ یہی زچگی اگر نارمل طریقہ سے کرنے کو یقینی بنایا جائے تو 5 تا 10 ہزار روپئے میں زچہ۔ بچہ صحت مند ہوکر دواخانہ سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔ ملک بھر میں سیزیرین کیسیس کی بڑھتی لعنت کا نوٹ لیتے ہوئے مرکزی وزارتِ صحت نے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مرکزی وزارت میں میٹرنل ہیلتھ کے ڈپٹی کمشنر نے خواتین کے لئے سیزیرین کیس لازمی قرار دینے والے دواخانوں کے خلاف کارروائی کا بھی انتباہ جاری کیا تھا مگر یہ انتباہ بھی رائیگاں ثابت ہورہا ہے۔ تلنگانہ اور اضلاع کریم نگر اور نلگنڈہ میں سروے کروایا گیا تھا جس سے پتہ چلاکر یہاں 63 اور 68 فیصد سیزیرین کیسیس انجام دیئے گئے ہیں جبکہ حیدرآباد میں 40% سیزیرین ڈیلیوریز ہوتی ہیں۔ محکمہ صحت کو ان شکایات کا سختی سے نوٹ لے کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT