Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / عوامی مشکلات اور ریزرو بینک

عوامی مشکلات اور ریزرو بینک

گُل کہہ رہے ہیں ان کے تبسم کو دیکھ کر
اپنا کرو خیال ‘ ہماری گذر گئی
عوامی مشکلات اور ریزرو بینک
جب سے مرکزی حکومت نے بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کیا ہے اس وقت سے سارے ملک میں عوام کو بے تحاشہ مشکلات کا سامنا ہے ۔ عوام ہرگذرتے دن کے ساتھ نئی مشکلات اور نئی پریشانیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ بینکوں اور اے ٹی ایم مراکز کے باہر طویل قطاریں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ جن افراد کو اپنے کھاتوں میں رقومات جمع کروانی تھیں ان کیلئے تو کافی سہولت بخش انتظامات کئے گئے تھے ۔ انہیں بینکوںمیں بھی طویل قطاروں کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا ۔ لوگ کافی سوچ اور غور و فکر کے بعد نوٹوں کو جمع کروانے کے اقدامات کر رہے ہیں اور اس کام کیلئے بینکوں میں طویل قطاریں نہیں ہیں۔ جہاں تک رقومات کھاتوں سے نکالنے یا اے ٹی ایم مشینوں سے نکالنے کا سوال ہے اس میں کئی طرح کے مسائل اور مشکلات کا عوام کو سامنا ہے ۔ کہیں اے ٹی ایم مشینیں کام نہیں کر رہی ہیں تو کہیں ان مشینوں میں پیسہ نہیں ہے ۔ کہیں طویل قطاریں عوام کیلئے صبر آزما ثابت ہو رہی ہیں تو کہیں یہا ں انتظار کرنے والے عوام پر پولیس اور سکیوریٹی اہلکاروں کے ڈنڈے موجود ہیں جن کا بعض مقامات پر بے تحاشہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ عوام کو نہ دواخانوں میں سہولتیں ہو رہی ہیں اور نہ مارکٹوں میں انہیں حالات سازگار دکھائی دے رہے ہیں۔ پٹرول بینکس پر بھی پرانے نوٹوں کو قبول کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے اور کہیں قبول بھی کیا جا رہاہے تو پوری نوٹ کا فیول ڈالونے کیلئے اصرار کیا جا رہا ہے ۔ عوام کے پاس نقد رقومات کی انتہائی قلت ہوگئی ہے ۔ حکومت بھی ایسا لگتا ہے کہ یہی چاہتی تھی اور اب وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے من کی بات پروگرام میں بھی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ رقومات سے پاک کام کاج کو اختیار کریں تاکہ کالے دھن کے مسئلہ کو ختم کیا جاسکے ۔ حکومت عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کو کم کرنے اور انہیں نجات دلانے کی بجائے محض کالا دھن کا نعرہ لگاتے ہوئے حقیقی صورتحال کو نظر انداز کرنے کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ا ب ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر ارجیت پٹیل نے دعوی کیا ہے کہ بینک کی جانب سے عوام کی حقیقی تکالیف کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اب ارجیت پٹیل کیلئے حقیقی تکلیف کیا ہوسکتی ہے اس کی الگ سے تشریح کرنی پڑسکتی ہے ۔
ملک بھر میں شائد ہی کوئی ریاست اور شائد ہی کوئی شہر ایسا ہو جہاں عوام کو حقیقی معنوں میں تکالیف درپیش نہ ہو۔ کیابینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر طویل قطاروں میں کھڑا ہونا حقیقی معنوں میں تکلیف نہیں ہے ۔ کیا کسی کیلئے ادویات کی دستیابی امر محال ہوجانا حقیقی مشکل نہیں ہے ۔ کیا کسی کیلئے روز مرہ کے گذر بسر کا سامان حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہونا حقیقی مشکل نہیںہے ۔ اب ارجیت پٹیل کی نظر میں حقیقی مشکل کیا ہوسکتی ہے اس کی انہیں ہی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایک فیصلہ کرتے ہوئے سارے ملک کے عوام کو ایسی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار کردیا گیا جس کے نتیجہ میں سارا ملک افرا تفری کا شکار ہے ۔ اب ان تکالیف کو دور کرنے جو اقدامات حکومت کی جانب سے کئے بھی جا رہے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ بینکوںمیں عوام کو جس طرح کے رویہ اور سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ بھی افسوس ناک ہے ۔ حکومت اور ریزرو بینک کی جانب سے کئی اقدامات کا حالانکہ اعلان بھی کیا گیا ہے لیکن ان پر شائد ہی کسی بینک میں عمل آوری ہو رہی ہو ۔ کئی بینک تو ایسے ہیں جہاں 24 ہزار روپئے تک رقم نکلوانے کی اجازت کے باوجود عوام کو محض دو ہزار روپئے نکالنے کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ یہ بینک ریزرو بینک اور حکومت کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طور پر ایک ضابطہ تیار کرچکے ہیں اور اسی پر عمل کر رہے ہیں۔ انہیں عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کی کوئی فکر نہیں ہے ۔
گورنر ریزرو بینک کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح رقم سے پاک معیشت کو آگے بڑھانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گورنر آر بی آئی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طرح کا ماحول نہیں ہے ۔ پہلے یہاں اس معیار کی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جوترقی یافتہ ممالک میں موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی کبھی نہیں ہوتی ۔ وہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر تک حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے لیکن ہندوستان نہ کسی بھی شئے کی قیمت پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ یہاں عوام کو وہ سہولیات دستیاب نہیں ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہیںاس کے باوجود انہیں ترقی یافتہ ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے مشکلات کا شکار کردینے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ گورنر آر بی آئی ہوں یا پھر مرکزی حکومت ہو انہیں چاہئے کہ وہ سب سے پہلے ملک کے کروڑوں عوام کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے حقیقی کوشش کریں۔

TOPPOPULARRECENT