Friday , April 27 2018
Home / اداریہ / عوام دوست قائدین کی نادانی

عوام دوست قائدین کی نادانی

عام آدمی پارٹی نے ناراض قائدین کے اخراج کے فیصلہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو پارٹی کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔ پارٹی کی قومی تادیبی کمیٹی کی کارروائی کا یوگیندر یادو ، پرشانت بھوشن اور آنند کمار نے جواب دیاتھا جس کے بعد ہی ان کے اخراج کی صورت پیدا ہوئی ۔ ناراض قائدین نے پارٹی سے باہر رہ کر عام آدمی پارٹی یا اروند کجریو

عام آدمی پارٹی نے ناراض قائدین کے اخراج کے فیصلہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو پارٹی کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔ پارٹی کی قومی تادیبی کمیٹی کی کارروائی کا یوگیندر یادو ، پرشانت بھوشن اور آنند کمار نے جواب دیاتھا جس کے بعد ہی ان کے اخراج کی صورت پیدا ہوئی ۔ ناراض قائدین نے پارٹی سے باہر رہ کر عام آدمی پارٹی یا اروند کجریوال کے خلاف اپنے غصہ کااظہار کرکے واپسی کے راستوں کو بھی بند کرلیا ہے۔ ان قائدین نے اپنے نکتہ نظر کی مدافعت کرنے کی کوشش کے بجائے پارٹی کے خلاف جارحانہ تیور اختیار کئے ۔ پارٹی کی کور کمیٹی نے ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے تھے ان کی تردید نہیں کی ۔ پارٹی یا پارٹی سربراہ کے خلاف ان کی رائے زنی کام نہیں آسکی جس کے نتیجہ میں ناراض قائدین عوامی ہمدردی سے بھی محروم ہوتے گئے ہیں۔یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن پارٹی سے دور ہوئے ہیں تو اروند کجریوال کے خلاف ان کی الزام تراشیاں یا رائے زنی کچھ کام نہیں آئے گی۔

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس کا سہرا راست اروند کجریوال کے سر پہونچا تو ناراضگیوں کو جنم دیتے ہوئے جن قائدین نے باغیانہ سرگرمیاں شروع کی تھیں اب ان پر یہ الزام عائد ہورہا ہے کہ یہ لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنٹس کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی میں ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جہاں پارٹی مضبوط ہوتی ہے اس کا ایک لیڈر بھی ہوتا ہے اور ماباقی تمام قائدین کو پارٹی لیڈر کی اطاعت کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ مختلف مسائل و اختلافات پر تبادلہ خیال ہوسکتا ہے لیکن ان قائدین نے اخراج کے بعد اپنا الگ محاذ بناکر عام آدمی پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ دہلی میں جب بی جے پی کو صرف 3حلقوں میں کامیابی ملی تو یہ آر ایس ایس اور نریندر مودی کے لئے شدید دھکہ تھا ایسے میں عام آدمی پارٹی کو پھوٹ سے دوچار کردینے کی ہر زاویہ سے کوشش و سازش ہونے لگی اور اس سازش کے مہرے پرشانت بھوشن ، یوگیندر یادو اور دیگر قائدین بن رہے ہیں تو عوام الناس کی نظروں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ اب یوگیندر یادو ، پرشانت بھوشن کے ساتھ اجیت جھا ، آنند کمار نے مخالف پارٹی سرگرمیوں کا مظاہرہ شروع کیا ہے تو انھیں عوام کی حمایت ملنا غیریقینی ہے ۔ پارٹی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو کوئی بھی پارٹی سربراہ برداشت نہیں کرسکتا ۔ اس میں شک نہیں کہ یوگیندر یادو ، پرشانت بھوشن عام آدمی پارٹی کے بانی ارکان ہیں ۔ اس کے باوجود ان کی کارروائیوں سے پارٹی کو نقصان پہونچایا جانے لگا ۔

ایسے میں چیف منسٹر اروند کجریوال کو پہل کرکے پارٹی کے خلاف جاری سرگرمیوں کو روکنے کی ضرورت تھی ۔ انھوں نے اگرچیکہ اس وقت اپنے خلاف اٹھنے والے طوفان کا رُخ موڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے مگر یہ طوفان کبھی بھی ان کو دہلی سے دور لے جاسکتا ہے ۔ وہ موجودہ ناراضگیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوتے ہیں توان کیلئے ایک کرشمہ سے کم نہیں ہوگا ۔ کجریوال کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عوام ان قائدین کو ہرگز معاف نہیں کرتے جو ان کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ رکھتے ہیں ۔ عوام نے 1977 ء میں جنتا پارٹی کو اس توقع کے ساتھ ووٹ دیا تھا کہ یہ پارٹی کانگریس کا مضبوط متبادل ثابت ہوگی ۔ جئے پرکاش نارائن اس پارٹی کے سب سے بڑے ہیرو بن گئے تھے لیکن 3سال بعد جنتاپارٹی کو شکست دیدی گئی ۔ اب آئندہ عام آدمی پارٹی کا حشر بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے تو اس کاالزام پارٹی سے خارج کردہ قائدین پر عائد نہیں ہوسکتا ۔ عام آدمی پارٹی کا 3 سال قبل جب قیام عمل میں لایا گیا تھا اسکے ساتھ ہی علاقائی و قومی سطح پر متبادل سیاسی طاقت پیش کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ عوام الناس خاص کر عام آدمی کی ضروریات کا خاص خیال رکھا جائے گا لیکن پارٹی قائدین نے اپنی بے عملی کا مظاہرہ شروع کردیا ۔ اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اقتدار کے حصول کی جدوجہد کرتے ہوئے ایک دوسرے کی کرسی کھینچ لینے کی کوشش شروع کی ۔ ہر پارٹی کا ایک سسٹم ہوتا ہے اس کے اپنے اصول ہوتے ہیں مگر عام آدمی پارٹی کے عوام کی خدمت کا جذبہ پس منظر میں چلاگیا اور ذاتی مفادات کی سیاست کو ترجیح دی جانے لگی نتیجہ میں عام آدمی پارٹی کی خاص بات اختلافات ، پھوٹ اور باغیانہ سرگرمیاں بن کر رہ گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT