Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / عوام زہریلی اشیاء کا استعمال کررہے ہیں !

عوام زہریلی اشیاء کا استعمال کررہے ہیں !

ملاوٹی اشیاء کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ، حکومت کو عدالت کے احکام
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : دودھ ، چاول ، دال ، تیل کے بشمول تقریبا سبھی غذائی اشیاء میں ملاوٹ کی جاتی ہے جب کہ پھلوں کو کاربائیڈ سے پکایا جاتا ہے ۔ عوام کو پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ اصلی کیا ہے اور نقلی کیا ہے ؟ حالت مجبوری میں عوام زہریلی غذاؤں کا استعمال کررہے ہیں ۔ ملاوٹی اشیاء کی روک تھام میں عہدیداران کو کوئی دلچسپی نہیں ہے برائے نام تنقیح سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ تاجرین کو صرف اپنے فائدے کی فکر رہتی ہے ۔ انہیں عوامی صحت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ عوام کا تحفظ کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ صرف یہ کہنا کہ عوامی شعور آگہی پروگرام کیے جارہے ہیں ناکافی ہیں اور بھی بہت کچھ کرنا چاہئے ۔ ان تمام خدشات کا اظہار کسی عام آدمی یا لیڈر کے نہیں بلکہ معزز ہائی کورٹ کی جانب سے کیا گیا ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں کے مشترکہ ہائی کورٹ نے دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹی اشیاء کی روک تھام سے متعلق تمام اقدامات کی رپورٹ عدالت کو پیش کریں ۔ عدالت نے عدم اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مناسبت سے درست اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ کبھی کبھی تنقیح کر کے تاجرین کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور ان مقدمات میں جرم ثابت نہ ہونے پر تاجرین میں مقدمات کا ڈر و خوف بھی ختم ہوتا جارہا ہے ۔ ہائی کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تاجرین سے نمٹنے اور انہیں سزا دینے کے لیے درست سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے تاجرین ہر شئے میں ملاوٹ کررہے ہیں ، پھلوں کو پکانے کے لیے کاربائیڈ کا استعمال کررہے ہیں ۔ واضح ہو کہ پھلوں کو اس طرح پکانے سے متعلق ایک مقامی تلگو اخبار میں شائع کی گئی رپورٹ کی ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور اس مناسبت سے ہائی کورٹ چیف جج جسٹس رمیش رنگناتھن اور جسٹس جی شیام پرساد پر مشتمل بنچ نے دوبارہ تحقیقات کا آغاز کیا ہے اس کیس میں کورٹ کے مددگار کی حیثیت سے سینئیر ایڈوکیٹ یس نرنجن ریڈی نے وکالت کی ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونو ریاستوں میں صرف 48 فوڈ انسپکٹرس ہی ہیں ، حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے تیقن دیا گیا تھا کہ 622 فوڈ انسپکٹرس کا تقرر کیا جائے گا مگر تاحال صرف 29 فوڈ انسپکٹرس کا تقرر ہی کیا گیا ہے جب کہ حکومت تلنگانہ کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت کے خصوصی وکیل سنجیوا کمار نے ریاست میں تنقیحی کارروائی انجام دینے سے متعلق عدالت کو رپورٹ پیش کی ۔ معزز بنچ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برائے نام کارروائی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور یہ بھی سوال کیا کہ ملاوٹی اشیاء فروخت کرنے والے کتنے مجرمین کو سزا ہوئی ہے ؟ دوبارہ سماعت 23 تاریخ کو مقرر کی گئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT