Friday , December 15 2017
Home / مضامین / عوام مودی سے بیزار کیوں…؟

عوام مودی سے بیزار کیوں…؟

عوام مودی سے
بیزار کیوں…؟

ظفر آغا
فضا بدل رہی ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ وہ مودی طوفان جس نے پچھلے تین برسوں میں ہندوستان کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا ، وہ طوفان اب تھمنے لگا ہے۔ اس کے آثار بھی اب صاف نظر آ رہے ہیں۔مثلاً ، وہ نوجوان جو سن 2014 سے مودی کو اپنا مسیحا سمجھ رہا تھا اب اس کا نشہ ہرن ہو گیا اور وہی اب مودی سے منہ موڑ رہا ہے۔دہلی یونیورسٹی،جے این یو،راجستھان یونیورسٹی، جے پوریونیورسٹی ، گوہاٹی یونیورسٹی اور تریپورا یونیورسٹی ان تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سنگھ کی ودیارتھی پریشد چناؤ ہار گئی ہے۔ آخر کب تک بھوکا پیٹ مودی جی کے ہندوتوا راج کو سر پر اٹھائے گھومتا رہے؟ کہیں روزگار نہیں، جو روز گار سے لگے ہیں ان کی بھی روزی روٹی کا کوئی بھرسہ نہیں بچا۔ جب پیٹ پر پڑی تو مودی کے ’اچھے دن ‘ کا خواب چکنا چور ہو گیا اور نوجوانوں نے مودی سے منہ موڑنا شروع کر دیا۔

ایک نوجوان ہی کیا مودی کی معاشی بد نظمی نے ہندوستان کے ہر طبقہ کی زندگی دوبھر کر دی۔ نوٹ بندی کی مارنے چھوٹے اور اوسط درجے کی تجارت کا خاتمہ کر دیا۔ وہ چھوٹی موٹی دکانیں ہوں یا کارخانے سب کا دھندا نوٹ بندی نے چوپٹ کردیا۔ دکانوں میں مال بھرا پڑا ہے لیکن خریدار نہیں ہیں۔ فیکٹریوں میں مشینیں خاموش پڑی ہیں اور مزدوروں کی نوکریوں سے چھٹی ہو رہی ہے۔جو رہی سہی کثر بچی تھی وہ جی ایس ٹی ٹیکس ریفارم نے پوری کر دی۔ دکاندار رسیدیں بناتے بناتے تھکے جا رہے ہیں ، کار خانہ دار کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس وقت کار خانہ چلائے اور کس وقت ٹیکس کے کاغذات بھرے۔ تب ہی تو ملک کی جی ڈی پی 5.7 فی صد پہنچ گئی۔ ادھر کسانوں نے یا تو خود کشی کا راستہ پکڑ لیا یا پھر مظاہروں میں مصروف ہو گیا۔کھیت کھلیان فصلوں سے لہلہا رہے ہیں ، لیکن ان کی فصل خریدنے والے ندارد ہیں۔

الغرض مودی سرکار نے تین برسوں کے اندر ملک کی معیشت کا بھٹّا بیٹھا دیا۔ وہ’ اچھے دن ‘ کے خواب جب ہرن ہوئے تو لوگوں کو مودی کا رنگ روپ نظر آنے لگا۔ بلیک منی کے پندرہ کروڑ بینک کھاتے میں آنا تو دور کی بات وہاں تو خود کی جیب کٹ گئی اور اس معاشی بد حالی نے عام ہندوستانی کو ’مودی بھگت‘ سے مودی دشمن بنا دیالیکن ٹھہرئیے ، یہ سب حقیقت ہے پر مودی کو بھی کچھ کم مت سمجھیے۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ مودی معاشی فرنٹ پر ناکام ہو گیا۔ لیکن مودی سیاست ابھی بھی کامیاب ہے۔ ہندوتوا کا نشہ ہے کہ کسی طرح بھنگ نہیں ہونے کو آتا ہے۔ کبھی گئو رکشا تو کبھی لو جہاد اور اگر کچھ نہیں تو پھر محرم اور درگا پوجا کا دنگل، سنگھ اور اس کے میڈیا میں بیٹھے بھگت آج بھی ’مودی آستھا ‘ کو بر قرار رکھے ہیں۔
اس کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ مودی تو ختم ہوئے لیکن ان کی جگہ لاؤ کس کو ! اپوزیشن پارٹیاں ہیں کہ خر گوش کی نیند سو رہی ہیں ، کہیں کوئی فرنٹ نہیں ، کوئی اپوزیشن نہیں اس کا دھرنا پر درشن نہیں۔ بولے تو بولے کون ! مودی نے سی بی آئی کا ڈنڈا اٹھا رکھا ہے۔ کبھی لالو کے گھر چھاپہ تو کبھی چدمبرم کے بیٹے کو بیٹھا کر انکم ٹیکس والوں کے گھنٹوں سوال جواب۔ہر کسی کو فائل دیکھا کر ہر مخالف کو ڈرانے کی مودی سیاست کامیاب دکھائی دیتی ہے ، تب ہی تو اپوزیشن خاموش ہے۔ان حالات میں راہل گاندھی کی امریکہ میں ہونے والی تقریروں نے امید کی کرن جگائی۔ لیکن راہل گاندھی کے اپنے مسائل ہیں۔ ان کی پارٹی میں سینئر لیڈر راہول کے خلاف پھن کاڑھے بیٹھے ہیں۔ جب بھی راہول کو کانگریس صدر بنانے کی بات ہو تی ہے تو پارٹی میں کچھ ہو تا ہے اور راہول کی تاجپوشی کی تاریخ ٹل جاتی ہے۔ اس رکاوٹ کو صاف کرنے کا محض ایک راستہ ہے اور وہ راستہ ان کی دادی اندرا گاندھی نے اپوزیشن کے دور میں تلاش کیا تھا۔

جب 1977 میں اندرا گاندھی چناؤ ہار گئیں اور دہلی مین جنتا پارٹی کی سرکا ر نے ان کو جیل بھیجنے کا پلان بنا نا شروع کر دیا تو دہلی میں ان کا کوئی یارو مددگار نظر نہ آیا۔ بس انہوں نے ٹھان لی کہ اب تو ہندوستانی عوام کے پاس چلو۔ اندرا گاندھی ایک مہینے مین 20 سے 25 دن دہلی کے باہر عوام کے درمیان گزارنے لگیں۔بس کیا تھا وہی ہندوستانی جس نے خود اندرا گاندھی کو سن 1977 میں چناؤ ہرایا تھا وہی لوگ راتوں رات ’اندرا بھگت‘ ہو گئے۔ دیکھتے دیکھتے جنتا پارٹی ٹوٹی اور پھر چار مہینوں میں چرن سنگھ کی سرکار بھی گئی اور ان 1980 میں اندرا گاندھی واپس اقتدار میں۔
راہول گاندھی کے لئے بھی یہی راستہ ہے۔ وہی پارٹی ممبران جو ابھی نوجوان لیڈر کو ماننے کو تیار نہیں ،کل اگر راہول گاندھی کے پیچھے بیٹھے ہوں تو وہی راہل کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہو ں گے، جہاں راہل کی ریلی سے میدان بھرے ویسے ہی اپوزیشن مورچہ بھی کھڑا ہو جائے گا۔ اور مودی کے خلاف پنپتا غصّہ ایک طوفان بن جائے گا۔ جب تک میدان کی سیاست نہیں ہو گی تب تک مودی ایسے ہی بادشاہ بنے رہیں گے۔ اس لئے بس اٹھیے اور عوام کا رخ کیجئے۔پھر دیکھئے مودی کی معاشی نا کامی کیسے ان کی سیاسی ناکامی میں تبدیل ہو تی ہے۔

TOPPOPULARRECENT