Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / عوام پریشان، بی جے پی حکومتیں ’مجسمہ بازی‘ میں مصروف

عوام پریشان، بی جے پی حکومتیں ’مجسمہ بازی‘ میں مصروف

گجرات میں سردار پٹیل، مہاراشٹرا میں شیواجی اور یو پی میں لارڈ رام کے مجسموں کیلئے 7000 کروڑ روپئے کے پراجکٹس

نئی دہلی ۔ 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب ملک کے قومی دارالحکومت حکومت نئی دہلی کے علاوہ کئی ریاستںو میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کے فقدان کی شکایات عام ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی کے درمیان عوام ’’اچھے دن‘‘ کے انتظار میں ہیں۔ علاوہ ازیں کئی ریاستیں خشک سالی اور سیلاب جیسی آفات سماوی سے پریشان ہیں لیکن بی جے پی کی زیراقتدار تین ریاستیں ان مسائل کی پرواہ کئے بغیر پراجکٹوں پر اپنی توجہ اور توانائی کے علاوہ عوام کے اربوں روپئے ضائع کررہی ہیں جن سے ملک یا عوام کو کوئی فائدہ ممکن نہیں ہے۔ گجرات، مہاراشٹرا اور اترپردیش ایسی تین ریاستیں ہیں جہاں ریاستی ’’ہیروز‘‘ کے مجسموں کی تعمیر کے معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کو پہلا مقام حاصل ہوگیا ہے جس نے 2014ء میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا 700 فٹ بلند مجسمہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اترپردیش میں بی جے پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اعلان کیا کہ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر 300 ملین امریکی ڈالرز یعنی تقریباً 2000 کروڑ روپئے کے مصارف سے لارڈ رام کا 300 فٹ بلند مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ مہاراشٹرا کے بی جے پی چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے اپنی پڑوسی ریاست گجرات سے مسابقت کرتے ہوئے مہاراشٹرا میں بحرعرب کی ساحلی پٹی پر ریاستی دارالحکومت ممبئی کے قریب 17 ویں صدی کے مراٹھا جنگی سردار شیواجی کا 200 فٹ بلند مجسمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پراجکٹ پر 2000 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوں گے۔ گجرات میں بھی بحرعرب کے ساحل پر ودودرہ میں 470 ملین امریکی ڈالر یعنی تقریباً 3000 کروڑ روپئے کے مصارف سے گجرات کے ہیرو اور مجاہد آزادی سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ یہ تمام دیوہیکل و بلند قامت مجسمے کانسہ سے بنائے جائیں گے جن کی تعمیر پر تخمینہ سے زیادہ مصارف ہوسکتے ہیں لیکن بعض ماہرین کا خیال ہیکہ چین میں ان مجسموں کی تیاری کی صورت میں مصارف میں زبردست کمی بھی ممکن ہے۔ چنانچہ یہ ریاستی حکومتیں چین سے انہیں درآمد کرسکتے ہیں اس صورت میں ہندوستان کے بیش قیمت بیرونی زرمبادلہ میں زبردست کمی ہوسکتی ہے۔ سڑکوں، پلوں، ریلویز، دواخانوں، اسکولوں، کالجوں، گھروں، ڈرینج، آبرسانی و برقی جیسی انفراسٹرکچر کی بنیادی سہولتوں کے فقدان سے متاثرہ ان تینوں ریاستوں میں حالیہ عرصہ کے دوران عوام کو خود سرکاری انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کے سبب سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یوپی میں یوگی آدگیہ ناتھ کے آبائی ضلع گورکھپور کے سرکاری دواخانہ میں چند ماہ کے دوران 200 کمسن بچے فوت ہوگئے۔ ممبئی کے پرہجوم الفن سٹون فٹ اوور بریج پر بھگدڑ میں 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گجرات میں حالیہ سیلاب سے احمدآباد اور دیگر مقامات پر مقامی آبادی کا بڑا حصہ متاثر ہوچکا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود مرکز میں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی ریاستوں میں چیف منسٹرس عوامی پریشانیوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس قسم کے بے سود پراجکٹوں پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT