Tuesday , December 12 2017
Home / اے پی ڈائری / عوام کا معصوم سا چہرہ، اُداسی اچھی نہیں

عوام کا معصوم سا چہرہ، اُداسی اچھی نہیں

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری         خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کے عوام اب چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے انتخابی وعدوں پر یہ کہہ کر روز مرہ زندگی میں مصروف ہیں کہ : ’’مانا کہ پُر فریب ہے وعدہ ترا مگر، کرتے ہیں انتظار بڑے اعتبار سے ‘‘ ایوان اسمبلی میں پہونچ کر عوام کا دل دُکھانے میں دیگر حکمرانوں سے آگے نکلنے والے چیف منسٹر کو اپنا مقام دیکھنا ہوگا اور اپنے کام پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ لیکن انہوں نے ایوان اسمبلی میں تصرف بل پر مباحث کے دوران صاف طور پر یہ کہہ کر تلنگانہ کے نوجوانوں کو مایوس کردیا کہ’’ میں نے ہر ایک گھر کو روزگار دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا، اپنے انتخابی منشور میں یہ ہرگز وعدہ نہیں کیا کہ ہر ایک کو نوکری دوں گا، حکومت کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ہر ایک کو روزگار یا ملازمت دے، ریاست میں زائد از 3کروڑ خاندان رہتے ہیں کیا میں اپنی چھوٹی سی حکمرانی کی زندگی میں ان تمام لوگوں کو روزگار دینے کا متحمل ہوسکتا ہوں، آخر عوام نے ایسا کیوں سمجھ لیا کہ میں انہیں واقعی روزگار دینے والا ہوں۔ اگر انہوں نے ایسا سمجھا ہے تو پھر اب میں چیف منسٹر بن گیا ہوں مجھے کسی کی پرواہ نہیں کہ کون کیا سوچتا ہے اور کون کیا کہتا ہے۔ اب مجھے سمجھایا نہ کرو، اقتدار کا خواب دیکھا تھا سو اسے حاصل کرلیا، زندگی جینے کیلئے ارمان ضروری ہیں، ہر خوشی پانے کیلئے امتحان ضروری ہے۔ دل میں چاہے ہوں ہزاروں پُرفریب منصوبے اسے عوام کے سامنے ظاہر کرنا ضروری نہیں۔‘‘

تلنگانہ عوام کو یہ جان کر واقعی دُکھ پہونچا ہوگا کہ اُن کی آرزوؤں سے بنائے گئے تلنگانہ اور اس کی حکمرانی کے ذمہ داروں نے تلنگانہ کے نوجوانوں کے ہر چہرے پر ایک مسکان کے نام پر غم دینے کی تیاری کی ہے۔ آندھرائی حکمرانوں کو غیر مان کر ان سے گلہ کرتے تھے لیکن اب اپنے آپ نے بھی غیروں کی طرح کچھ کم نہیں کیا ہے۔ اگر حکومت اور اس کے سربراہ کا رویہ اسی طرح رہے گا تو پھر اس ریاست میں نہ وفا کا ذکر ہوگا اور نہ وفا کی بات ہوگی۔ اب اقتدار جس کا بھی ہوگا مطلب کے ساتھ ہوگا۔ تلنگانہ والوں کے اندر ایک جذبہ ضروری ہے وہ محبت کا ہے، جب وہ کسی کو عزت دیتے ہیں تو اس کی قدر بھی کرتے ہیں اور اسے دل سے اس وقت تک نہیں نکالتے تاوقتیکہ وہ خود نکلہ جائے۔ تلنگانہ والوں نے تو نئی ریاست بننے کے بعد آندھرائی باشندوں کو بے گھر ہونے نہیں دیا۔حیدرآباد میں ہزاروں آندھرائی باشندے مقیم ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ایوان اسمبلی سے تلنگانہ کے نوجوانوں کو ایک مشورہ دیا کہ وہ خود روزگار کوترجیح دیں۔ بلا شبہ چیف منسٹر کا یہ مشورہ نوجوانوں کیلئے زریں حیثیت رکھتا ہے۔ اگر نوجوان خود روزگار پر زیادہ سے زیادہ دھیان دیں تو ایک دن خود سماج کے لئے مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔ چیف منسٹر کے پاس صرف ایک لاکھ مخلوعہ جائیدادیں ہیں جن کو پُر کرنے کے لئے بھی وہ وقت لگائیں گے۔
چیف منسٹر کے تعلق سے عوام کو یہ اخذ کرلینا ہوگا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کو صاف طور پر بتارہے ہیں کہ اگر انہوں نے انتخابی وعدے پورے نہیں کئے تو شاید آپ لوگ مجھے اپنا دشمن سمجھیں گے تو سمجھتے رہیں کیونکہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں نے اپنی کرسی حاصل کرلی اور اس کرسی پر سے میں اپنے طور پر بہترین طریقہ سے فرائض نبھا رہاہوں۔ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے مجھے آپ جیسے ووٹروں کا ہی تعاون حاصل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس ریاست سے میرا تعلق ہے وہاں ایسے سیاستداں بھی ہیں جن کی صحبت یا دوستی سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ عوام کو خواب دے کر ان کے ساتھ شامل ہوکر ان کے پیٹ میں چھرا کس طرح گھونپ دیا جائے۔ اس مقصد کے ماسٹر کون ہیں ان کا اصل تعارف کرانا ضروری نہیں ہے۔
ایوان میں چیف منسٹر نے بعض مسلم قائدین کی تجاویز کو اپنے لئے بہترین مشعل راہ ہونے کی بات کی ہے تو عوام کو معلوم ہوہی گیا ہوگا کہ چیف منسٹر کے بہترین سیاسی دوست کون ہیں؟۔ ایسے دوستوں کی موجودگی میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کا وعدہ بھی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا۔ ان کے نام نہاد قیادت کو دوست بنالینے کے بعد 12فیصد تحفظات کا مطالبہ کرنے والے بھی چیف منسٹر کے وعدہ کو یاد دلانے کیلئے ڈرتے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر آپ میں اتنی ہمت ہے تو میرا نام لے کر دیکھ لیں، جن لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ وقت آنے پر ایسے لیڈروں کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ ’’ کہیں تم بھی نہ بن جانا مضمون کسی کتاب کا ، لوگ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں کہانیاں بے وفاؤں کی‘‘  اور جب کوئی سیاسی بے وفا ہوتا ہے تو عوام کو اپنے دیئے گئے ووٹوں کے فیصلہ پر افسوس بھی ہوتا ہے۔ اب یہ لوگ اپنے شیشہ کا مقدر لے کر کب تک حکمرانوں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔ جب مطلبی سیاست کے لوگ ہاتھوں میں حکومت کا ہتھیار لے کر ووٹ دینے والوں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں تو ہمارے ووٹرس کہاں جائیں گے۔ چیف منسٹر نے اپنی حکومت کے مصارف کی طویل فہرست پیش کردی ہے اور سرکاری خزانہ کے خالی ہونے کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔

ایوان میں کئی سوالات کا ایک گھنٹہ طویل جواب دیتے ہوئے اپنے فنِ خطابت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن نے جو اندیشے کھڑے کئے تھے خاص کر کانگریس کے اندیشوں کو چیف منسٹر نے یہ کہتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کی کہ ہمیشہ نیک ارادے رکھا کرو کیونکہ مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ ریاست میں قرض اور پراجکٹس کے درمیان فرق ضروری ہے لیکن آپ ( اپوزیشن ) کو فنڈس یا قرض کے تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، ہم اپنے پراجکٹس کو پورا کرنے کیلئے بھیک مانگیں گے، قرض کے بوجھ تلے دب جائیں گے اور کامیاب بھی ہوں گے۔ ریاست میں آبپاشی پراجکٹ اور مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے کونسل کی کارروائی کو ایک دن کی توسیع دینے کی ضرورت ظاہر کی۔ اس ایک دن کی توسیع میں ایوان کے اندر مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔ 31مارچ کو بھی اجلاس منعقد کیا گیا اور چیف منسٹر نے ایوان کو تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ سال 2019-20 کے مالیاتی سال تک ریاست کا بجٹ 2لاکھ کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ ریاست کا قرض اس ریاست کی مجموعی پیداوار کا صرف 16فیصد ہے جبکہ دیگر ریاستوں میں قرض کا بوجھ تلنگانہ ریاست سے زیادہ ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے پنجاب ریاست کا حوالہ دیا جس کا قرض بوجھ 37فیصد ہے۔ ایک چھوٹی ریاست گوا کے پاس قرض کا بوجھ30 فیصد ہے۔ اتر پردیش اس کی اندرون ریاست مجموعی پیداوار کا 28فیصد قرض کے بوجھ میں دبا ہوا ہے جبکہ مرکزی حکومت اپنی GDP کا 47 فیصد قرض کا بوجھ رکھتی ہے

اس کے مقابل نئی ریاست تلنگانہ کا قرض صرف  16فیصد ہے۔ چیف منسٹر کا یہ بیان بلاشبہ ریاست کی مالی حالت کو واضح کرتا ہے۔ اس مالی موقف کے ساتھ چیف منسٹر نے اپنے پراجکٹس تیار کئے ہیں  اور وہ اپنے عزم اورارادوں میں پختہ ہیں تو یہ یقین کرلینا چاہیئے کہ یہ پراجکٹس وقت پر پورے ہوجائیں گے اور مسلمانوں کو بھی وقت آنے پر 12فیصد تحفظات ملیں گے بشرطیکہ مرکز کی منظوری حاصل ہوجائے۔ گویا یہ کہ مسلمانوں سے کہہ دو کہ  وہ کسی گمان میں نہ رہیں تحفظات ان کا حق ہے اور انہیں مل کر رہے گا۔ چیف منسٹر کے اس جذبہ کی تمام مسلمان قدر کرتے ہیں کیونکہ ان کی باتوں سے بے وفائی کی کوئی مہک نہیں آتی۔ انہوں نے کچھ نہ کچھ مروت سیکھی ہے، انہیں غیر ضروری ظالم بنانے کی ضرورت نہیں، ان کی عادتیں مختلف ہیں دیگر سیاستدانوں کی طرح وہ نہیں، کم ہی وعدے کرتے ہیں مگر سب کو لاجواب کردیتے ہیں۔ اپوزیشن کو دیکھیئے وہ بھی لاجواب ہے۔ آندھرا کے باشندوں کو بھی انہوں نے حیدرآباد میں رہنے کی اجازت دے کر لاجواب کردیا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں آندھرائی باشندوں کو امیدوار بناکر ان کے ووٹ حاصل کرکے آندھرا پردیش کے عوام کو حیران اور لاجواب کردیا۔ یہی شہر چیف منسٹر کو ان کے عوام کے لئے عزیز رکھتا ہے تو خدا بھی ان کے ہر وعدے کی خاص حفاظت کرے گا۔ عوام تو معصوم سا چہرہ ہوتے ہیں ان کے چہرے پر اُداسی اچھی نہیں لگتی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT