Monday , December 11 2017
Home / اضلاع کی خبریں / عوام کومشکلات سے دوچار کرنا چیف منسٹر کے سی آر کاوطیرہ

عوام کومشکلات سے دوچار کرنا چیف منسٹر کے سی آر کاوطیرہ

ڈچپلی میں رعیتو باٹا جلسہ سے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کی مخاطبت
نظام آباد:19؍ ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھررائو کی عادت یہ ہے کہ عوام کو سکون سے رہنے نہیں دیتے اور عوام ہمیشہ مصروف رکھتے ہوئے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں ان خیالات کا اظہار قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر آج نظام آباد کے ڈچپلی میں منعقدہ اندراماں رعیتو باٹا کے ایک بڑے جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر چندر شیکھر رائو اقتدار میں آتے ہی پہلی مرتبہ جامع خاندانی سروے کے نام پر عوام میں افرا تفری کا ماحول پیدا کیا اور تلنگانہ سے تعلق والے افراد اپنے ناموں کو اندراج کرانے کیلئے ملک گیر سطح کے علاوہ غیر ممالک میں بھی رہنے والے افراد اپنے ناموں کو اندراج کرنے کیلئے اپنے آبائی مقام پر پہنچ کر ناموں کا اندراج کرایا ۔ تین سال کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی اس کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا اس کے بعد گراما جیوتی پروگرام کو انجام دیا اور اب اراضیات کے سروے کی مہم شروع کی ۔ جبکہ کانگریس 1950 ء سے اس کارنامہ کو انجام دیتے ہوئے اراضیات کو باقاعدہ طور پر تقسیم عمل میں لانے کا کام شروع کیا۔ 1971ء میں اندرا گاندھی کی قیادت میں قائم ہونے والی پی وی نرسمہا رائو کی حکومت نے متحدہ ریاست میں 47لاکھ ہزار ایکر اراضی کی تقسیم عمل میں لائی اسی طرح تلنگانہ میں تقریبا20لاکھ ایکر ہزار ایکر اراضی کا سروے کرتے ہوئے مستحق افراد کو اراضی فراہم کیا تھا ۔ 1993,94ء کے دوران وجئے بھاسکر ریڈی کی حکومت میں ساری ریاست میں ایک ہی طرح کے پاس بک کسانوں کو فراہم کئے گئے تھے ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو عوام کو مصروف رکھنے کے خاطر ہر روز نئی پالیسی کا ایجاد کرتے ہیں اور عوام کو مصروف رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کو فراموش کررہے ہیں تاکہ عوام ان سے کوئی سوال نہ کرسکے اور عوام میں افراتفری کا ماحول بنارہے ہیں ۔ سونیا گاندھی کی وجہ سے ہی تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کا فائدہ کے سی آر کے خاندان کو حاصل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر بتکماں کی ساڑیوں پر عوام کی جانب سے ظاہر ہونے والے ناراضگیوں پر کانگریس پر تنقید کرنا سراسر غلط قرار دیتے ہوئے بتکماں ساڑیوں کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساڑیاں گجرات کے صورت میں 200 روپئے کیلو ساڑیاں ملتی ہے اور 50 روپئے سے بھی کم ساڑیوں کی قیمت ہے غیر معیاری ساڑیاں تقسیم کیا گیا تو عوام میں ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے اس سے کانگریس کا کیا تعلق ہے کہتے ہوئے کے ٹی آر پر شدید تنقیدکی ۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹوں کی تعمیر پر بھی کانگریس پر الزاما ت لگانا سراسر غلط ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں ایک کروڑ 50لاکھ اراضی کو سیراب کا پانی فراہم کیا گیا ۔ سری رام ساگر پراجیکٹ ، نظام ساگر پراجیکٹ کے علاوہ دیگر پراجیکٹوں کی تعمیر کرنے کا اعزاز کے علاوہ 30لاکھ بورویلس کو برقی کنکشن فراہم کرنے کا اعزاز بھی کانگریس کو حاصل ہے ۔ ریاست گیر سطح پر ڈبل بیڈ روم تعمیر کرنے کا صرف اعلانات کئے جارہے ہیں کانگریس کے دور حکومت میں 45لاکھ امکنہ جات تعمیر کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ تین سال کے اندر 900 ڈبل بیڈ روم تعمیر کئے گئے اور 10 ہزار مکانات زیر تعمیر کی رپورٹ حکومت نے پیش کی ۔ تحفظات کے مسئلہ پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ بھی کھوکھلا ثابت ہوا نہ صرف مسلمانو ں کو بلکہ ایس ٹی طبقہ کو بھی تحفظات ابھی تک فراہم نہیں کئے گئے لیکن ٹی آرایس حکومت میں خاندان کی ترقی تو تیزی کے ساتھ ہورہی ہے مسٹر شبیر علی نے حکومت کو الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ حال ہی میں کئے گئے سروے میں ٹی آرایس کو صرف 36 نشستیں حاصل ہونے کی رپورٹ واضح ہوگئی ہے ۔ بوتھ سطح پر کانگریس مستحکم ہونے کی صورت میں 2019ء میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا لہذا بوتھ سطح کے کانگریسی کارکن سرگرم ہوتے ہوئے راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی حکومت کے قیام کیلئے مصروف ہوجانے کی اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT